۲۲؍لاکھ سے زائد امیدواروں کی شرکت،طلبہ نے امتحان کو پہلے سے زیادہ سخت قرار دیا لیکن جوش و جذبہ برقرار،اب نتیجے کا انتظار ۔
میڈیکل میں داخلے کے لئے منعقد ہونے والے نیٹ یوجی کا امتحان اتوار کو ملک بھر میں وسیع تر حفاظتی انتظامات کے درمیان اختتام پذیر ہوگیا۔اس میں ۲۲؍لاکھ ۷۹؍ہزار امیدواروں نے شرکت کی۔ نیٹ پیپرلیک کے بعد امتحان کی منسوخی کے بعد منصفانہ اور شفاف عمل کو یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق، داخلے کے مقامات پر سخت تلاشی اور اضافی نگرانی جیسے اقدامات کئےگئے ۔حالانکہ کئی طلبہ نے گزشتہ امتحان کے مقابلے اس امتحان کو زیادہ سخت اور مشکل قرار دیا۔کچھ امیدواروں نے بتایا کہ دوبارہ امتحان کے پرچے میں دو سے تین سوالات دہرائے گئے ہیں۔ امتحان میں شامل ہونے والے امیدواروں کو امتحان ہال میں آسانی سے داخلے کو یقینی بنانے کے لئےنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے تجویز کردہ ڈریس کوڈ پر عمل کرنا ضروری تھا۔
مرد اور خواتین دونوں امیدواروں کو سادہ، ہلکے رنگ اور آدھی آستین کے کپڑے کے ساتھ چپل یا سینڈل پہننے کا مشورہ دیاگیاتھا۔ حالانکہ اس دوران اجمیر میں ایک برقعہ پوش مسلم طالبہ کو امتحان ہال میں جانے سے قبل ہراساں کیا گیا۔طالبہ نے بتایا کہ این ٹی اے نے برقعہ اور دوپٹے کی اجازت دے رکھی ہے،اس کے باوجود اسے امتحان ہال میں داخل ہونے سے روک دیاگیا۔ طالبہ کی شکایت کے بعدنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے کہا کہ اسے مرکز میں داخل ہونے اور دوبارہ امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی۔