’لکھنؤ وِد جین زی‘ میں متنبہ کیا کہ ملک میں ہزاروں جنتر منتر سلگ رہے ہیں، نوجوان کسی بھی وقت اُٹھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں، فیس میں اضافہ اور طلبہ کی معطلی کا معاملہ اٹھایا۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 11:17 AM IST | Agency | Luckhnow
’لکھنؤ وِد جین زی‘ میں متنبہ کیا کہ ملک میں ہزاروں جنتر منتر سلگ رہے ہیں، نوجوان کسی بھی وقت اُٹھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں، فیس میں اضافہ اور طلبہ کی معطلی کا معاملہ اٹھایا۔
آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کی ملک گیر ’جین زی رائزنگ‘ مہم کے تحت بدھ کو لکھنؤ میں گاندھی پریکشا گرہ میں ’لکھنؤ وِد جن زی‘ پروگرام میں ایک بار پھر نیہا بورا نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اترپردیش، جو کبھی اپنی ثقافت، جدوجہد اور اتحاد کیلئے جانا جاتا تھا، آج اسے نفرت اور بلڈوزر کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ آج پورے ملک میں اترپردیش کی شناخت نفرت اور بلڈوزر کا مترادف بن چکی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ نیہا بورا کی ’جین زی رائزنگ‘ مہم کا آغاز۹؍ اگست کو الہ آباد یونیورسٹی سے ہوا ہے ۔ اس مہم کو مختلف اضلاع تک لے جایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق مسائل کو ایک جگہ جمع کرنا اور انہیں طلبہ و نوجوانوں کی ایک وسیع تر تحریک سے جوڑنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہند-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدہ کا آئندہ ماہ سے نفاذ
آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں ہزاروں جنتر منتر سلگ رہے ہیں اور نوجوان اٹھ کھڑے ہونے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے اترپردیش حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں بلڈوزر نفرت اور خوف کی علامت بن چکا ہے۔ نیہا بورا نے گزشتہ دنوں لکھنؤ یونیورسٹی میں فیس اضافے کی مخالفت کرنے والے طلبہ کی معطلی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر مرکزی یونیورسٹی میں ایک طالبہ کی موت کے بعد احتجاج کرنے والے طلبہ کی معطلی کو بھی آمریت قر ار دیا۔ آئیسا اترپردیش کے صدر منیش کمار نے بتایا کہ یہ پروگرام ’جن زی مہاجٹان یاترا‘ کا حصہ تھا۔ اس سے قبل گوکھپور میں نیہا بورا نے وزیراعلیٰ کو ’’فساد‘‘ اور دیگر سخت الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔