Updated: August 27, 2026, 1:38 PM IST
| New Delhi
نیپال میں تباہ کن سیلاب کی ابتدائی وجہ سامنے آگئی ہے۔ ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (ISRO) کے نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر (NRSC) کے سیٹیلائٹ تجزیے کے مطابق نیپال-تبت سرحد کے قریب ایک گلیشیئر کا تقریباً دو تہائی حصہ ٹوٹ کر نیچے آ گرا، جس کے بعد برف، چٹان اور ملبے نے دریا کا راستہ عارضی طور پر روک دیا۔ پانی کا اچانک اخراج بڑے سیلابی ریلے اور ملبے کے بہاؤ کا سبب بنا۔
سیلاب کی تباہی کے بعد کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی
نیپال میں ۲۶؍ اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے پسِ پردہ ممکنہ وجہ سامنے آگئی ہے۔ ہندوستان کے نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر (NRSC) کے ابتدائی سیٹیلائٹ تجزیے کے مطابق بلند پہاڑی علاقے میں موجود گلیشیئر کا تقریباً دو تہائی حصہ ٹوٹ کر منہدم ہوا، جس کے بعد برف اور چٹانوں کا بڑا تودہ نیچے آیا اور سیلابی ریلہ پیدا ہوا۔ این آر ایس سی نے ۲۶؍ اگست کو Resourcesat-2A کے ذریعے حاصل کی گئی تصاویر کا قبل از واقعہ سیٹیلائٹ تصاویر سے موازنہ کیا۔ تجزیے میں گلیشیئر کے ٹوٹنے کا علاقہ، بھوٹے کوشی دریا کے پھیلنے اور دریا کے اطراف وسیع پیمانے پر پانی بھرنے کے شواہد سامنے آئے۔ ابتدائی ترتیب کے مطابق گلیشیئر یا برف و چٹان کا تودہ نیچے گرا، جس سے بڑی مقدار میں برف اور ملبہ دریا کی سمت پہنچا۔ اس عمل کے دوران دریا کا راستہ عارضی طور پر بند ہوا اور پانی جمع ہونے کے بعد اچانک رکاوٹ ٹوٹ گئی، جس سے پانی، برف اور ملبہ تیزی سے نیچے کی جانب بہنے لگا۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں عارضی راستے پر ایران اور عمان کے درمیان اتفاق
این آر ایس سی کے مطابق متاثرہ علاقہ نیپال کے روسوا ضلع میں نیپال تبت سرحد کے قریب واقع ہے۔ سیٹیلائٹ تصاویر میں راسواگڑھی، تیمورے، بھوٹے کوشی اور تریشولی دریا کے علاقوں میں سیلاب کے اثرات دکھائی دیے ہیں۔ ۲۴؍ اگست کی Sentinel-2 تصویر میں مذکورہ بلند پہاڑی حصہ گلیشیئر کے طور پر نظر آتا ہے، جبکہ ۲۶؍ اگست کی بعد از حادثہ تصویر میں اسی علاقے کو برف و چٹان کے تودے سے متاثرہ علاقہ دکھایا گیا ہے۔ اس موازنے سے گلیشیئر کے بڑے حصے کے ٹوٹنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ سیلاب کے بعد بھوٹے کوشی دریا کی چوڑائی میں نمایاں اضافہ بھی سیٹیلائٹ تصاویر میں دیکھا گیا۔ NRSC نے معمول کے دریا کے راستے سے باہر پھیلے پانی اور قریبی وادیوں میں سیلابی اثرات کی نشاندہی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈوم اسکرولنگ سے دماغی توجہ اور یادداشت متاثر: نئی تحقیق میں انکشاف
دریں اثنا، ابتدائی طور پر اس قدرتی آفت کے لیے زلزلے کو ممکنہ محرک قرار دیا گیا تھا، لیکن امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے بعد میں وضاحت کی کہ ریکارڈ ہونے والی زلزلہ نما سرگرمی دراصل گلیشیئر کے انہدام اور اس کے نتیجے میں آنے والے ملبے کے بہاؤ سے پیدا ہوئی تھی، نہ کہ حقیقی زلزلے سے۔ USGS نے اس واقعے کی زلزلہ نما شدت کو ۲ء۵؍ کے برابر قرار دیا۔ نیپال کے ڈیزاسٹر حکام کے مطابق سیلاب نے روسوا سمیت کئی علاقوں میں گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ تازہ رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد ۱۶۰؍ سے زائد بتائی گئی ہے، جبکہ سیکڑوں سے لے کر ایک ہزار سے زیادہ افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات مختلف علاقوں سے سامنے آئی ہیں۔
سیٹیلائٹ تجزیے میں ابھی سیلاب سے متاثرہ مکمل رقبے، ملبے کی مجموعی مقدار یا دریا میں پانی کے بہاؤ کی حتمی مقدار کا تعین نہیں کیا گیا۔ بادلوں کی وجہ سے بعض متاثرہ علاقوں کی تصاویر بھی مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ NRSC نے موجودہ نتائج کو ابتدائی قرار دیا ہے اور مزید تفصیلی جائزہ جاری رکھنے کی بات کہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے عدم استحکام اور اچانک آنے والے سیلاب کے بڑھتے خطرے کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ تاہم موجودہ سیلاب میں گلیشیئر کے انہدام کی مخصوص وجہ، بشمول ممکنہ موسمی یا ارضیاتی عوامل، ابھی حتمی طور پر طے نہیں کی گئی ہے۔