Updated: August 26, 2026, 10:01 PM IST
| London
مسلسل اور بے مقصد اسکرولنگ، خصوصاً مختصر ویڈیوز، ریلز اور شارٹس دیکھنے کی عادت کے دماغی کارکردگی پر اثرات کے بارے میں نئی تحقیقات سامنے آئی ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ۵۷؍ افراد پر تجربہ کیا گیا، جس میں مسلسل طویل ویڈیو کے مقابلے میں مختصر ویڈیوز دیکھنے والے افراد نے معلومات کم درست طور پر یاد رکھیں۔
مختصر ویڈیوز، ریلز اور شارٹس نے لوگوں کے موبائل استعمال کا انداز بدل دیا ہے، لیکن نئی سائنسی تحقیقات نے مسلسل اور بے مقصد اسکرولنگ کے دماغی کارکردگی پر ممکنہ اثرات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ماہرین خاص طور پر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اسمارٹ فونز کی اسکرینوں پر تیزی سے بدلنے والے ویڈیوز دماغ کی توجہ برقرار رکھنے، معلومات یاد رکھنے اور انہیں گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ۵۷؍ افراد کو ایک ہی دورانیے کا مواد دو مختلف انداز میں دکھایا گیا۔ ایک گروپ نے مسلسل طویل ویڈیو دیکھے، جبکہ دوسرے گروپ کو اسی نوعیت کے متعدد مختصر ویڈیوز دکھائے گئے۔ بعد میں ان افراد کی یادداشت کا جائزہ لیا گیا اور دماغی سرگرمی کی تصویری جانچ کی گئی۔ مختصر ویڈیوز دیکھنے والے افراد نے معلومات کو طویل ویڈیو دیکھنے والے گروپ کے مقابلے میں کم درست طور پر یاد رکھا۔
یہ بھی پڑھئے: احمد آباد: دائیں بازو کے احتجاج پر اسکول سے ملالہ اور این فرینک کی کتابیں خارج
دماغی اسکین سے بھی دونوں گروپوں کے درمیان فرق سامنے آیا۔ مختصر ویڈیوز دیکھنے کے بعد دماغ کے ان حصوں میں سرگرمی کم دیکھی گئی جو معلومات کو مربوط کرنے، توجہ اور معلومات کے معنی سمجھنے جیسے ذہنی کاموں سے وابستہ ہیں۔ محققین نے دماغ کے بعض حصوں کے درمیان رابطے میں بھی کمی نوٹ کی اور اسے یادداشت کی کارکردگی سے جوڑا۔
اس سے قبل جون ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والے ایک الگ تحقیقی جائزے میں ۲۰۱۵ء سے ۲۰۲۵ء تک کی ۴۲؍ تحقیقات کا تجزیہ کیا گیا۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر ۴۶؍ ہزار ۹۱۲؍ افراد شامل تھے، جن کی اوسط عمر ۸ء۱۶؍ سال تھی۔ جائزے کے مطابق زیادہ اور بے ترتیب مختصر ویڈیو استعمال کو توجہ میں کمی، جلد بازی پر مبنی رویے، کمزور کام کرنے والی یادداشت اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت میں کمی کے ساتھ مستقل طور پر منسلک پایا گیا۔ اسی جائزے میں مختصر ویڈیوز کے زیادہ استعمال اور بے چینی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور عادت بن جانے جیسی علامات کے درمیان بھی تعلق پایا گیا۔ تاہم محققین نے اہم احتیاط بھی کی ہے: موجودہ شواہد کا بڑا حصہ ایسے مطالعات پر مبنی ہے جن سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مختصر ویڈیوز ہی ان مسائل کی براہِ راست وجہ ہیں۔ یعنی تعلق ضرور سامنے آیا ہے، لیکن وجہ اور نتیجے کو حتمی طور پر ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گجرات: سورت میں مچھلی بازار نریندر مودی سے منسوب کرنے پر تنازع
مئی ۲۰۲۶ء کی تحقیق میں ۷۲؍ افراد کو ۳۰؍ منٹ تک مختصر ویڈیوز، ایک دستاویزی فلم یا کوئی ویڈیو نہ دیکھنے کے بعد مختلف ذہنی کام دیئے گئے۔ مختصر ویڈیوز دیکھنے والے افراد میں اگلے کام کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنے کا وہ فائدہ نظر نہیں آیا جو دستاویزی فلم دیکھنے والے اور ویڈیو نہ دیکھنے والے افراد میں موجود تھا۔ محققین نے اسے مسلسل توجہ اور مقصد کے مطابق ذہنی عمل میں مخصوص رکاوٹ سے جوڑا۔ تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہر مختصر ویڈیو کو نقصان دہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مسئلہ زیادہ تر اس وقت پیدا ہوتا دکھائی دیتا ہے جب صارف مسلسل ایک ویڈیو سے دوسرے ویڈیو پر منتقل ہوتا رہے، مواد تیزی سے تبدیل ہوتا رہے اور دیکھنے کا کوئی واضح مقصد نہ ہو۔ ایسے مسلسل اور بے ترتیب مواد سے دماغ کو بار بار نئی معلومات پر توجہ منتقل کرنا پڑتی ہے۔
تخلیقی صلاحیت کے بارے میں بھی براہِ راست یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ ریلز یا شارٹس لازماً تخلیقی سوچ ختم کردیتے ہیں۔ اس شعبے میں تحقیق ابھی جاری ہے اور مختلف قسم کے مواد کے اثرات ایک جیسے نہیں پائے گئے۔ موجودہ شواہد زیادہ واضح طور پر توجہ، یادداشت اور ذہنی قابو جیسے شعبوں میں ممکنہ اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس لئے ماہرین کی تحقیق کا بنیادی پیغام یہ نہیں کہ ہر مختصر ویڈیو دماغ کیلئے نقصان دہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ مسلسل، بے مقصد اور تیز رفتار مواد دیکھنے کی عادت دماغی توجہ اور معلومات کو یاد رکھنے کے عمل کیلئے مسئلہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روہنگیا نسل کشی کے ۹؍ سال: پناہ گزینوں کا اپنے وطن واپسی کا مطالبہ
ڈوم اسکرولنگ (Doomscrolling) کیا ہے؟
ڈوم اسکرولنگ سے مراد سوشل میڈیا یا نیوز فیڈز پر منفی، مایوس کن یا خوفناک خبروں کو مسلسل اور جنونی حد تک دیکھتے رہنا ہے، باوجود اس کے کہ یہ عمل آپ کو ذہنی طور پر پریشان اور فکر مند کر دیتا ہے۔ یہ لفظ بنیادی طور پر دو الفاظ کا مجموعہ ہے: Doom(جس کا مطلب تباہی، بربادی یا برا انجام ہے) اورScrolling (جس کا مطلب ڈجیٹل اسکرین پر انگلی کی مدد سے اوپر یا نیچے جانا ہے)۔ یہ اصطلاح ایک ایسی نفسیاتی کیفیت کو بیان کرتی ہے جہاں انسان کسی بھی بڑے بحران، حادثے یا بری خبر کے بارے میں خود کو باخبر رکھنے کی مجبوری میں موبائل اسکرین کو بار بار ریفریش کرنے کے چکر میں پھنس جاتا ہے۔ اگرچہ یہ عادت پہلے بھی موجود تھی، لیکن کووڈ ۱۹؍ کی وبا کے دوران اس لفظ کو بے پناہ مقبولیت ملی کیونکہ اس وقت لوگ خوف کے عالم میں مسلسل اپنے فونز پر کورونا سے جڑی پریشان کن معلومات تلاش کر رہے تھے۔ اسے اکثر Doomsurfingبھی کہا جاتا ہے۔