Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی تجارت میں خلل لاکھوں لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتا ہے: اقوام متحدہ

Updated: May 17, 2026, 5:01 PM IST | New York

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے، جہاں توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث خوراک، ایندھن اور ضروری اشیا کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کیلئے معاشی مشکلات مزید سنگین ہو جائیں گی۔

Lok Bahadur Thapa, President of the United Nations Economic and Social Council (ECOSOC), addresses the meeting. Photo: X
اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ایکوسوک) کے صدر لوک بہادر تھاپا اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ تصویر: ایکس

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستوں میں آنے والی رکاوٹیں دنیا بھر میں خوراک، نقل و حمل اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جس سے معاشی ترقی سست پڑ رہی ہے جبکہ غریب گھرانوں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ انتباہ اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل(ایکوسوک) کے خصوصی اجلاس میں سامنے آیا ہے جس میں تیل و گیس کی عالمی منڈیوں، بحری تجارتی راستوں اور تجارتی ترسیلی نظام کو لاحق غیریقینی حالات سے نمٹنے پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر کونسل کے صدر لوک بہادر تھاپا نے مندوبین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف توانائی کا بحران نہیں بلکہ ترقی کا بحران بھی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ دنیا کی اجتماعی صلاحیت کا امتحان ہے کہ آیا۲۰۳۰ء کے ترقیاتی ایجنڈے میں کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ کی گلوکارہ نےاسرائیل مخالف مظاہروں کےدرمیان یوروویژن۲۰۲۶ء کا مقابلہ جیتا

غربت میں اضافے کا خدشہ
ایندھن اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات، تجارتی رکاوٹیں اور کڑے مالی حالات ترقی پذیر ممالک کیلئے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ان ممالک کیلئے مسائل کہیں بڑھ گئے ہیں جو پہلے ہی بھاری قرضوں تلے دبے ہیں اور خوراک و توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں اب۲۰۲۵ء کی اوسط قیمتوں کے دو گنا سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ اگر موجودہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو کھاد کی قیمتوں میں ۲۰۲۶ءکی پہلی ششماہی تک ۱۵؍سے۲۰؍ فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ ان اثرات کا بوجھ دنیا بھر کے گھرانوں میں مہنگی خوراک اور بڑھتے اخراجات زندگی کی صورت میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ لوک بہادر تھاپا نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے، خوراک کی مہنگائی اور معاشی سست روی کے مشترکہ اثرات مزید۳؍ کروڑ۲۰؍ لاکھ افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے لے جا سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو حکومت آئندہ ہفتے گرسکتی ہے،اتحادیوں کا پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ

خواتین اور نوجوانوں کی مشکلات
خوراک اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے خواتین، بچے اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ممالک میں ان کیلئے مشکلات اور بھی زیادہ ہیں جہاں گھرانوں کی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے اقتصادی و سماجی امور لی جنہوا نے خبردار کیا کہ توانائی اور تجارتی سامان کی ترسیل کی روانی میں خلل پہلے سے کمزور عالمی معیشت پر مزید دباؤ ڈال رہا ہے جس سے حکومتوں کی اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ لی جنہوا نے ان حالات سے نمٹنے کیلئے توانائی اور اجناس کی منڈیوں کو کھلا اور قابل پیش گوئی رکھنے، ترقی پذیر ممالک کیلئے سستے مالی وسائل کی فراہمی بڑھانے اور توانائی کے مضبوط و پائیدار نظام میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سب کیلئے سستی اور قابل بھروسہ توانائی کی فراہمی سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف۷؍ پر تیزی سے پیش رفت کرنا ہو گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ کے۶۰؍ فیصد حصے پر قبضہ کرلیا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ

چھوٹے ممالک کے بڑے مسائل
بارباڈوز کی وزیراعظم میا موٹلے نے چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک پر اس بحران کے اثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدم استحکام کے اثرات ان معیشتوں پر سب سے زیادہ پڑتے ہیں جو درآمدی ایندھن اور خوراک پر انحصار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کبھی صرف توانائی نہیں ہوتی بلکہ یہ دوا بھی ہے، خوراک بھی، تعلیم بھی اور روزگار بھی۔ یہ گھرانوں کے وقار اور ممالک کی خودمختاری سے جڑی ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ جیسا بحران بحری راستوں، ایندھن کی منڈیوں اور سرکاری بجٹ کے ذریعے بہت تیزی سے عوام تک پہنچ جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دنیا کی ۱۰۰؍ مشہور ترین آئس کریمز میں ہندوستانی ذائقوں کی دھوم

یہ بحران تاخیر سے پہنچنے والی دواؤں، بسوں کے مہنگے کرایوں اور دسترخوان پر خوراک کی کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بارباڈوز اپنی توانائی کی ضروریات کا۸۵؍ فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے، جبکہ پورا خطہ غرب الہند اپنی۸۰؍ فیصد سے زیادہ خوراک بیرون ملک سے منگواتا ہے۔ چھوٹا ملک ہونے سے مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔ 
بین الاقوامی تعاون کی ضرورت
لوک بہادر تھاپا نے عالمگیر تقسیم اور انتشار کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ حکومتوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی بینکوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو اس بحران پر قابو پانےکیلئے مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔ لی جنہوا کا کہنا تھا کہ مشترکہ اقدامات، مسلسل سرمایہ کاری اور کثیرالفریقی تعاون کے عزم کو مضبوط کیا جائے تو توانائی اور تجارتی ترسیل کے زیادہ محفوظ و مستحکم نظام اور جامع و پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK