نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ اسرائیل نے امریکی پالیسیوں میں مداخلت کی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”کیا واقعی کوئی سوچتا ہے کہ کوئی صدر ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے؟“
EPAPER
Updated: March 21, 2026, 12:05 PM IST | Tel Aviv
نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ اسرائیل نے امریکی پالیسیوں میں مداخلت کی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”کیا واقعی کوئی سوچتا ہے کہ کوئی صدر ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے؟“
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور چنگیز خان کا موازنہ کرکے نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ ان کے اس بیان پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔ جمعرات کو اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ ”تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ چنگیز خان کے مقابلے میں عیسیٰ مسیح کو کوئی برتری حاصل نہیں کیونکہ اگر آپ کافی مضبوط، کافی بے رحم اور کافی طاقتور ہیں، تو شر خیر پر غالب آ جائے گا۔“ ان کا کہنا تھا کہ اخلاقیات کے بجائے طاقت تاریخی نتائج کا تعین کرتی ہے۔
🚨🇮🇱 Netanyahu: "Jesus Christ has no advantage over Genghis Khan. Because if you are strong enough, ruthless enough, powerful enough, evil will overcome good."
— Jackson Hinkle 🇺🇸 (@jacksonhinklle) March 19, 2026
He is actually the antichrist... pic.twitter.com/HxtUDIaYq1
اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کی تشریح ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ پر مبنی عالمی نظریہ کی توثیق کے طور پر کی جا رہی ہے۔ ان کے اس متنازع بیان پر دنیا بھر کے سیاسی مبصرین، مذہبی گروہس اور سوشل میڈیا صارفین نے کڑی تنقید کی ہے۔
شدید ردِعمل کے بعد وضاحتی بیان جاری کیا
شدید ردِعمل کے بعد، نیتن یاہو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے متنازع تبصرے کی وضاحت کرنا پڑی۔ ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ان کا بیان مورخ ول ڈیورنٹ کی تحریروں پر مبنی تھے اور ان کا مقصد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنا نہیں تھا۔ نیتن یاہو نے مزید لکھا کہ ”اخلاقی طور پر برتر تہذیب بھی کسی بے رحم دشمن کے ہاتھوں گر سکتی ہے اگر اس کے پاس اپنا دفاع کرنے کی طاقت نہ ہو۔“ انہوں نے دلیل دی کہ ان کے تبصرے بقاء کو یقینی بنانے میں طاقت کے اہم کردار کے متعلق تھے۔ اس وضاحت کے باوجود، ناقدین نے ان کے تبصرے کے لہجے اور وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
To the contrary, I cited the great American historian Will Durant. A fervent admirer of Jesus Christ, Durant stated that morality by itself is not enough to ensure survival.
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) March 20, 2026
نیتن یاہو کے دیگر دعوے
اس ٹیلی ویژن خطاب میں نیتن یاہو نے اپنی موت کے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ”میں زندہ ہوں، آپ سب گواہ ہیں،“ یہ سوشل میڈیا پر وائرل قیاس آرائیوں کا جواب تھا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایک ایرانی حملے میں وہ ہلاک ہوگئے ہیں۔
انہوں نے اس سے قبل ایسی افواہوں کی تردید کیلئے یروشلم کے ایک کیفے سے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کیا تھا لیکن سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ نیتن یاہو نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اسرائیل کو برتری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم جیت رہے ہیں۔ یہ صورتحال لوگوں کی سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے حل ہو سکتی ہے۔“
امریکہ اور علاقائی پیش رفت پر بیانات
اسرائیلی لیڈر نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ اسرائیل نے امریکی پالیسیوں میں مداخلت کی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”کیا واقعی کوئی سوچتا ہے کہ کوئی صدر ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے؟“
اس موقع پر نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے آزادانہ طور پر عسلویہ (Asaluyeh) میں ایرانی گیس کی تنصیب پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران کی جانب سے قطر میں توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی جوابی کارروائی کی گئی، اس حملے نے تیل کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔