اپنی موت کی افواہوں کے درمیان نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا ہمیں وحشیوں سے زیادہ طاقتور ہونا ہوگا، ورنہ وہ ہمارے دروازے توڑ دیں گے، ہمارے معاشروں کو تباہ کر دیں گے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 5:09 PM IST | Tel Aviv
اپنی موت کی افواہوں کے درمیان نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا ہمیں وحشیوں سے زیادہ طاقتور ہونا ہوگا، ورنہ وہ ہمارے دروازے توڑ دیں گے، ہمارے معاشروں کو تباہ کر دیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگ کے دوران اپنی پہلی انگریزی پریس کانفرنس میں کہاکہ ’’ ہمیں وحشیوں سے زیادہ طاقتور ہونا ہوگا، ورنہ وہ ہمارے دروازے توڑ دیں گے، ہمارے معاشروں کو تباہ کر دیں گے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ بدقسمتی سے، یسوع مسیح کا چنگیز خان پر کوئی فائدہ نہیں ہو۔ انہوں نے دلیل دی کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کی حکومت کے خلاف ابھی کارروائی کرنی ہوگی۔یروشلم وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کر رہے ہیں تاکہ اس کی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مستقبل میں یہ خطرہ بہت بڑھ جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے خلاف ’’ابھی کارروائی‘‘ کرنی چاہیے۔اپنے بیان کے آغاز میں انہوں نے اپنی موت کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’میں زندہ ہوں، اور آپ سب گواہ ہیں۔‘‘اس کے بعد انہوں نے آپریشن ’’رورنگ لائن ‘‘کی تفصیلات بتائیں۔نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف بے مثال طاقت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد خمینی کی حکومت سے پیدا ہونے والے وجودی خطرات کو ختم کرنا ہے، جو۴۷؍ سال سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے عوام کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔انہوں نے تین اہداف بتائے، ایک جوہری خطرے کا خاتمہ دوم بیلسٹک میزائل کے خطرے کا خاتمہ ۔ایرانی عوام کے لیے آزادی حاصل کرنے اور اپنی تقدیر خود لکھنے کے حالات پیدا کرنا۔
یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز پر پابندی، کشیدگی عروج پر، عالمی مذمت تیز
وزیراعظم نے کہا کہ ایران نہ صرف امریکہ، اسرائیل اور اپنے عوام پر حملہ کر رہا ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر کے علاقوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو بند کرکے دنیا کو بلیک میل کرنے کی کوششوں کو ناکام قرار دیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی وارہیڈز سے لیس بیلسٹک میزائل ہوں گے تو وہ پوری دنیا کو کس طرح بلیک میل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکہ مل کر ایران کو شکست دے رہے ہیں اور اس کے میزائل اور ڈرون اسلحہ خانے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔نیتن یاہو نے جعلی خبروں کے پھیلائے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایران کے ساتھ تنازع میں گھسیٹا ہے۔ انہوں نے کہا، کیا واقعی کوئی سوچتا ہے کہ کوئی صدر ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ کیا کرنا ہے؟ان کے مطابق صدر ٹرمپ ہمیشہ وہ فیصلہ کرتے ہیں جو ان کے خیال میں امریکہ اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہو۔انہوں نے کہا کہ وہ ۴۰؍ سال سے کہہ رہے ہیں کہ ایران اسرائیل اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے بھی ۴۷؍ سال قبل ایرانی سفارت خانے پر حملے کے وقت اس حکومت کے خطرے کو پہچان لیا تھا اور اپنے پہلے دور میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو منسوخ کر دیا تھا۔نیتن یاہو نے ایرانی حکومت کو ’’نظریاتی جنونی‘‘ اور’’پاگل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا وجود مغربی تہذیب اور امریکہ کو مٹانے پر منحصر ہے۔ انہوں نے ایران پر عراق اور افغانستان میں ہزاروں امریکیوں کو ہلاک کرنے، بیروت میں میرین کو مارنے اور صدر ٹرمپ پر دو بار قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان پاگلوں کے پاس ایٹمی ہتھیار اور انہیں پہنچانے کے ذرائع آگئے تو وہ امریکہ اور یورپ کے ہر شہر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی صدر ٹرمپ کی دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید کی مبارکباد
جنگ کے خاتمے کے بارے میں پوچھے جانے پر نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے ٹھوس اہداف ہیں جو حاصل کیے جا رہے ہیں، لیکن وہ اس کے لیے کوئی خاص ٹائم فریم نہیں دے رہے۔ انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹا ہے اور کہا کہ موجودہ خطرات کے پیش نظر کارروائی نہ کرنا بہت بڑا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اب کارروائی نہ کی گئی تو چند مہینوں میں ایران اپنا جوہری اور میزائل پروگرام زیر زمین منتقل کر دے گا، جس کے بعد اسے تباہ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اس کے بعد ایران انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل بنا سکتا ہے جو شکاگو، نیویارک اور کیلیفورنیا تک مار کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد متبادل راستے بنائے جا سکتے ہیں، جیسے آبنائے ہرمز کی بجائے جزیرہ نما عرب سے اسرائیل تک تیل اور گیس کی پائپ لائنیں بچھانا، تاکہ دنیا ایران کی بلیک میلنگ سے نجات پا سکے۔نیتن یاہو نے فوجی جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی قیمتی ہے اور اس کی حفاظت کے لیے قربانیاں دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خوف سے خاموش رہے اور ایران کو جوہری ہتھیار بنانے دیا، تو مستقبل میں بلیک میلنگ کی وہ صورت حال ہوگی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے یہ کہہ کر اپنی گفتگو ختم کی کہ یہ جنگ ایران کے اصل چہرے سے پردہ اٹھا رہی ہے، جو اپنے ہی لاکھوں عوام کا قتل عام کرنے اور امریکہ کو ’’شیطان اعظم‘‘کہنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتی۔