نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑی کارروائی کا حکم دیا ہے، اس سے قبل مقبوضہ علاقے میں ہوئی گولی باری میں ایک غیر قانونی یہودی آباد کار ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 3:17 PM IST | Tel Aviv
نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑی کارروائی کا حکم دیا ہے، اس سے قبل مقبوضہ علاقے میں ہوئی گولی باری میں ایک غیر قانونی یہودی آباد کار ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی دیہاتوں میں ’وسیع فوجی کارروائی‘ شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔نتن یاہو اور کاٹز نے مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا کہ فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس فلسطینی کے گھر کو مسمار کرے جس پر شمالی مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے تلّ کے قریب یہودی آبادکار کے خلاف فائرنگ کرنے کا الزام ہے۔انادولو کے نامہ نگار کے مطابق ،اسرائیلی فوج کی ایک بڑی نفری نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں چھاپہ مارا۔یہ اقدامات اس فائرنگ کے بعد اٹھائے گئے جو نابلس کے قریب غیر قانونی ہوات گیلاد بستی کے قریب ہوئی، جس میں ایک اسرائیلی قابض ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے، جیسا کہ اسرائیلی میڈیا نے بتایا۔
اسرائیل کے چینل۱۳؍ نے خبر دی کہ فلسطینیوں نے بستی کے سیکیورٹی افسر کا ہتھیار چھین لیا اور قابضین پر فائرنگ کی۔جمعہ کے روز قبل از وقت، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، نابلس کے جنوب مغرب میں تلّ پر اسرائیلی فوج اور قابضین کے حملے کے دوران چار فلسطینی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے، جن میں تین کی حالت تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے پر غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ تیز کردیا ہے، جہاں بسنے والے یہودی فلسطینیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں، اس کے علاوہ لوٹ مار ، چوری کے واقعات ، توڑ پھوڑ انجام دیتے ہیں۔ اور یہ غیر قانونی کارروائی فوج کی سرپرستی میں کی جاتی ہے۔ بعد ازاں کسی فلسطینی کی جوابی کارروائی کو بہانہ بناکر نیتن یاہو نے پورے مغربی کنارے میں جارحیت کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔