Updated: July 24, 2026, 9:02 PM IST
| Washington/Tehran
الجزیرہ کے مطابق، ٹرمپ اب ایران پر ”ایک بڑے حملے“ پر غور کر رہے ہیں، خبر لکھے جانے تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف، ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی ”اندھا دھند جارحیت“ کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ امریکہ نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ایران پر مسلسل ۱۳ ویں رات بھی فضائی حملے جاری رکھے اور ایرانی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، خرم آباد، جاسک، اہواز، بندر عباس اور قشم جزیرے سمیت متعدد مقامات پر کئے جانے والے ان حملوں میں کم از کم ۴ افراد شہید ہوگئے۔
حملوں کی یہ تازہ لہر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد آئی جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ فوری طور پر کوئی جنگ بندی نہیں ہونے والی ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ”اس طرح کی مزید کارروائیوں کی ضرورت ہے۔“ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اب ایران پر ”ایک بڑے حملے“ پر غور کر رہے ہیں، اس سلسلے میں جمعہ کی صبح وہائٹ ہاؤس میں مشاورت کی خبر بھی سامنے آئی۔ خبر لکھے جانے تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی ”اندھا دھند جارحیت“ کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایوان نمائندگان نے ایران جنگ کے خلاف ٹرمپ کے اختیارات محدود کردئے
ایران نے اپنے حملوں کا دائرہ اربیل اور اردن تک پھیلا دیا
ایرانی فوج نے راتوں رات اپنے انتقامی حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، ایرانی ڈرونز نے عراق کے کردستان میں واقع شہر اربیل کو نشانہ بنایا، اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون گرنے کے بعد اسے کچھ دیر کیلئے بند کرنا پڑا بعد ازیں اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔ ایرانی فوج نے یہ بھی بتایا کہ اس نے اردن میں واقع ’الازرق‘ امریکی ایئر بیس پر حملہ کیا ہے۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ بحرین میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جبکہ کویت نے کہا کہ اس نے ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی دھمکی کے درمیان برطانیہ کا اپنے دفاع کیلئے تیار ہونے کا انتباہ
امریکہ کو برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت ملنے کے بعد، ایران نے انگلینڈ میں واقع ’آر اے ایف فیئر فورڈ‘ (RAF Fairford) کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور خبردار کیا کہ ایرانی سرزمین پر حملوں کیلئے استعمال ہونے والے کسی بھی اڈے کو ’جائز ہدف‘ سمجھا جائے گا۔ یہ دھمکی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے شائع کی جانے والی ایران کے ریولیوشنری گارڈز کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے فیئر فورڈ سے حملہ آور مشنوں پر ’بی-۱‘ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کے پُل یا پاوراسٹیشن پر حملہ کی دھمکی
سی این این نے بتایا کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا، تاہم ایکزیوس (Axios) نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ نے منگل کے روز ایران کے اندر سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے اہداف پر حملہ کرنے کیلئے `بی-۱‘ بمبار طیارے کا استعمال کیا تھا۔ اس کے جواب میں، برطانیہ کے حکومتی ترجمان نے کہا کہ ”ہماری مسلح افواج، برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری اپنی سرزمین پر ہوں یا بیرونِ ملک پر۔“
تیل کی قیمتیں ۱۰۰ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں
بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے اور آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے پر ایران کی پابندیوں کے نتیجے میں جمعرات کے روز خام تیل کی قیمتیں ۱۰۰ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے باب المندب کو بھی بلاک کرنے کی دھمکی دی ہے، جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والا ایک اہم متبادل راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جوہری معاہدہ میں پیش رفت کیلئے سعودی کو اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے ہونگے: ٹرمپ
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا انتباہ: صورتِ حال ’کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے‘
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے جمعرات کو تشویش ظاہر کی کہ ”مشرقِ وسطیٰ میں صورتِ حال کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے۔“ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عالمی لیڈران کے نام ایک پیغام میں انہوں نے زور دیا کہ ”لڑائی ہر جگہ بند ہونی چاہئے۔ جہاز رانی کی آزادی کو بحال کیا جانا چاہئے۔ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔“