ترکی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اسرائیل پر قدغن لگانا چاہئے۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 10:52 AM IST | Ankara
ترکی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اسرائیل پر قدغن لگانا چاہئے۔
ترکی کے وزیر ؤ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہےکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیاں اور حکومت اسرائیل، خطے اور بین الاقوامی سلامتی کیلئے بوجھ ہیں۔ فیدان نے جمعہ کو ابوظہبی میں شائع ہونے والے اخبار ’دی نیشنل‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا’’نیتن یاہو حکومت کی پالیسیاں صرف ہمارے لئے مسئلہ نہیں ہیں بلکہ اسرائیلی پالیسیاں اور ان کی حکومت اور خطے کیلئے ایک بوجھ اور بین الاقوامی سلامتی کیلئے ایک خطرہ پیداکرتی ہیں۔ فیدن نے انقرہ اور تل ابیب کے درمیان تصادم کے امکان کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپس میں تصادم کی کوئی وجہ نہیں ہے، ہمارے صدر رجب طیب اردگان سلامت اور حکمت کے رہنما ہیں جو کسی چیز کے لالچ میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی رہنما اگرچہ اب اسرائیل کے خطرے کو تسلیم کرنے لگے ہیں، مگر ابھی تک اس مسئلے سے نمٹنے کے طریقے تلاش نہیں کر پائے اور وارننگ دی کہ شام میں پیش رفت کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں اس تاثر کو بدل سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیج میں جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی توجہ غزہ سے ہٹ گئی ہے۔ غزہ میں امن کیلئے اسرائیل پر زیادہ بین الاقوامی دباؤ ضروری ہے۔ فیدان نے بتایا کہ ’’ہمیں ایسی صورتِ حال پر واپس جانا چاہئے جہاں ہر قوم کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو پوری طرح تسلیم کیا جاتا ہو، ایران طویل عرصے سے دعویٰ کرتا آیا ہے کہ اس نے آس پاس کے ملکوں میں ذرائع رکھنے کی ایک سیکوریٹی پالیسی اختیار کی ہے، بالکل اسی طرح جیسے اسرائیلی پورے خطے میں سیکوریٹی کے کے نام پر قبضہ کر رہے ہیں۔ اگر ہم ایک نئی سیکوریٹی پالیسی تیار کرتے ہیں جس سے ہر فریق کی حفاظت، سیاسی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت ملے تو میرے خیال ہے کہ ایران سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے اپنے گوشوں میں واپس جا سکتے ہیں، اور ایران تمام حقائق کو سمجھنے کے قابل۔ ‘‘
ترکی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی برقرار رہ سکتی ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ’ختم‘ ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ نے ترکی کی بے حد تعریفیں کی ہیں۔