ٹرمپ نے ۲۰۲۵ء کا اختتام نفرت انگیز پیغامات سے کیا، کہا حریف جہنم میں سڑیں گے ، ان پیغامات میں انہوں نے دیر رات تک ڈیموکریٹ، گورنر، وکلاء اور مشہور شخصیات کو مخاطب کیا۔
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 6:09 PM IST | Washington
ٹرمپ نے ۲۰۲۵ء کا اختتام نفرت انگیز پیغامات سے کیا، کہا حریف جہنم میں سڑیں گے ، ان پیغامات میں انہوں نے دیر رات تک ڈیموکریٹ، گورنر، وکلاء اور مشہور شخصیات کو مخاطب کیا۔
صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے۲۰۲۵ء کے آخری لمحات نفرت بھرے پیغامات میں گزارے، نئے سال کی مبارکباد یا نئے سال کا استقبال کرنے کے بجائے انہوں نے شکایات کا اظہار کیا۔ مار-اے-لاگو سے، جہاں وہ چھٹیاں گزار رہے ہیں، ٹرمپ نے ٹروُتھ سوشل پر سیاسی مخالفوں پر حملہ کیا، ایک ریپبلکن ڈسٹرکٹ اٹارنی اور کولوراڈو کے ڈیموکریٹ گورنر دونوں کو کہا کہ’’ وہ جہنم میں سڑ جائیں۔‘‘ انہوں نے لکھا،’’میں ان کے لیےبد عا کرتا ہوں۔’’ وہ جہنم میں سڑ جائیں۔‘‘
سوال یہ ہے کہ ٹرمپ اب کس سے نفرت کرتے ہیں؟کولوراڈو گورنر جیرڈ پولیس اور میسا کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی ڈین روبن اسٹین پر حملہ کرنے والی عجیب پوسٹ ٹینا پیٹرز کے گرد گھوم رہی تھی۔۷۰؍ سالہ ماگا مداح، جو سابقہ کولوراڈو کاؤنٹی کلارک ہیں، جو بائیڈن کی۲۰۲۰ء کی جیت کو پلٹنے کی کوشش کے بعد الیکشن سسٹم تک غیر مجاز رسائی کی اجازت دینے پر۹؍ سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ پیٹرز پر مائی پیلو کے بانی مائیک لنڈل سے منسلک ایک شخص کو خفیہ الیکشن دستاویزدکھانے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ ٹرمپ ان کی رہائی کی وکالت کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: چین: نئے سال کی تقریر میں شی جن پنگ کا تائیوان کے الحاق کا عہد، ترقی پر زور
پولیس اور روبن اسٹین دونوں نے ٹرمپ کے نفرت انگیز پیغامات پر شدید ردعمل دیا۔ ڈیلی بیسٹ کو دئے ایک بیان میں، پولیس نے کہا کہ’’ ٹرمپ کو نئے سال کے موقع پر میرے بارے میں آن لائن بات کرنے میں کم وقت گزارنا چاہئے ور اپنے تباہ کن ٹیرف روک کر اور صحت کی دیکھ بھال کی بڑھتی ہوئی لاگت درست کر کے امریکہ کو زیادہ ارزاںبنانا چاہئے۔‘‘روبن اسٹین زیادہ صاف گو تھے، انہوں نے کہا کہ’’ ٹرمپ کے پاس نہ حقائق ہیں نہ قانون ہے، جس سے ان کے پاس غصے کے سوا کچھ نہیں بچا۔ قانون میں ایک کہاوت ہے: اگر حقائق آپ کے ساتھ ہیں، تو حقائق کو دہرائیں؛ اگر قانون آپ کے ساتھ ہے، تو قانون کو دہرائیں؛ اگر کوئی بھی آپ کے ساتھ نہیں ہے، تو میز پیٹیں۔ صدر ٹرمپ کے پاس نہ حقائق ہیں نہ قانون۔ دونوں ایجاد کرنے کی کوشش اور ناکامی کے بعد، ان کے پاس میز پیٹنے کے سوا کچھ نہیں بچا۔‘‘
اس کے علاوہ ٹرمپ نے اداکار جارج کلونی اور انسانی حقوق کی وکیل امل کلونی کے خلاف بھی پیغام بھیجا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ فرانس کے شہری بن گئے ہیں اور کلونی کے سیاسی خیالات اور فلمی کیریئر کا مذاق اڑایا۔ انہوں نے امیگریشن، فرانس میں جرائم، اور ڈیموکریٹ قائدین کو نشانہ بنانے والی ایک سلسلے وار توہین آمیز پوسٹ کیں۔ایک اور پوسٹ میں، ٹرمپ نے مینیسوٹا گورنر ٹم والز کا نام غلط لکھا اور مینیسوٹا میں دھوکہ دہی کے ثابت نہ ہونے والے دعووں کو دہرایا، اور انہیں مینیسوٹا کا ٹم والٹز ایک بدعنوان گورنر کہا۔ انہوں نے بغیر ثبوت کے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بد عنونی میں ملوث افراد میں۹۰؍ فیصد صومالیہ کےغیر دستاویزی تارکین وطن تھے۔
بعد ازاں ٹرمپ نے ڈیموکریٹ نمائندہ الہان عمر کے بارے میں ایک جھوٹ کو دہرایا ،کہامریکی شہریت حاصل کرنے کیلئے اس نے اپنے بھائی سے شادی کی، اورساتھ ہی صومالی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ کچھ پوسٹ میں ڈیموکریٹس کو دھوکے باز اور چور قرار دیا اور ان پر الیکشن میں دھاندلی کے لیے ووٹر شناخت کی مخالفت کرنے کا الزام لگایا۔بلا شک و شبہ، سال کا اختتام کرنے کا یہ ایک قابل ذکر طریقہ تھا، ٹرمپ کا ہی طرز انداز ہو سکتا ہے۔