Updated: August 28, 2026, 10:03 PM IST
| Washington
امریکہ میں یہودی لابی نے وسط مدتی انتخاب پر ریکارڈ رقم خرچ کی، جبکہ اسرائیل کے خلاف عوامی رجحان بھی بڑھتا جارہا ہے، امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی، ایک ایسا گروپ جسے امریکی انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے لامحدود رقم خرچ کرنے کی اجازت ہے، نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ملک بھر میں کروڑوں ڈالرخرچ کر دیے۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سب سے طاقتور اسرائیل حامی لابی ۲۰۲۶ءکے وسط مدتی انتخابات میں کسی بھی دوسرے بیرونی گروپ سے زیادہ رقم خرچ کر رہی ہے۔امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پی اے سی) نے اپنی مرکزی انتخابی اخراجات ، یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ (یو ڈی پی) کے ذریعے ملک بھر میں کروڑوں ڈالر انتخابی میدانوں میں خرچ کردیے ہیں۔واضح رہے کہ انتخابی مالیات کی نگرانی کرنے والے ادارے اوپن سیکرٹس کے مطابق نام نہاد ’’سپر پی اے سی‘‘ ایک گروپ جسے انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے لامحدود رقم خرچ کرنے کی اجازت ہے، نے کانگریسی انتخابات پر ۵۴؍ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔اوپن سیکرٹس کے مطابق، اس نے اسے اس الیکشن سائیکل کا سب سے بڑا بیرونی خرچ کرنے والا بنا دیا ہے، جبکہ وسیع تر اسرائیل حامی ڈونر نیٹ ورک نے۷۱؍ ملین ڈالر خرچ کیے جو اسے کرپٹو کرنسی انڈسٹری کے بعد دوسرے نمبر پر رکھتا ہے۔یہ غیر معمولی مالی طاقت واشنگٹن میں اے آئی پی اے سی کے جاری اثر و رسوخ کو واضح کرتی ہے لیکن اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی اور امریکی انتخابات میں دولت مندوںکے خلاف بڑھتے ہوئے ردعمل کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: باقر قالیباب کی اسکاٹ بیسنٹ پر تنقید، کہا اپنےعوام کی ضروریات پر توجہ دیں
اے آئی پی اے سی نے اپنا زیادہ تر خرچ ڈیموکریٹک پرائمریز پر مرکوز کیا ہے، اسرائیل کے ساتھ پختہ وابستگی رکھنے والے امیدواروں کی حمایت کرتے ہوئے اور غیر مشروط امریکی فوجی امداد کے ناقدین کو شکست دینے کی کوشش کی ہے۔جبکہ وہ اس بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کہ اس کا اثر و رسوخ ختم ہو رہا ہے، کمیٹی کا یہ کہنا ہے کہ جن سینکڑوں امیدواروں کی اس نے حمایت کی وہ اپنی پرائمریز جیت چکے ہیں۔حالانکہ اس کی رقم نے واقعی اس سال کچھ کامیابیاں دلائی ہیں، لیکن کچھ مہنگی ناکامیاں بھی ہیں۔مشی گن میں، اے آئی پی اے سی اور اس کے اتحادی گروپوں نے ترقی پسند سابق صحت اہلکار عبداللہ ایل-سید کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ کانگریس وومین ہیلی سٹیونز کے خلاف ڈیموکریٹک سینیٹ نامزدگی جیتنے سے روکنے کی ناکام کوشش میں تقریباً۳۰؍ ملین ڈالر خرچ کیے۔ جبکہ ترقی پسندوں نے کیلیفورنیا، الینوائے اور نیویارک میں کانگریسی مقابلوں میں اے آئی پی اے سی سے منسلک رقم کی حمایت یافتہ امیدواروں کو بھی شکست دی ہے، اکثر گروپ کے اخراجات کو خود انتخابی مسئلہ بنا لیا۔امریکی خارجہ پالیسی تھنک ٹینک کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایلی کلفٹن نے کہا کہ یو ڈی پی مشی گن میں سب سے زیادہ خرچ کئے، حالانکہ اس کا بڑا حصہ ریاست کے باہر سے آیا تھا، اور اس کے سب سے بڑے عطیہ دہندگان ریپبلکن ارب پتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر نئی معاشی پابندیوں کا دباؤ، تہران نے کہا وہ یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے
بعد ازاں اس گروپ کے بارے میں بے چینی اب صرف ڈیموکریٹس تک محدود نہیں ہے۔امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، مشی گن میں ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز کے حلیفوں نے حال ہی میں اے آئی پی اے سی سے کہا کہ وہ عوامی طور پر اس کی جانب سے اشتہارات نہ چلائے، انہیں خدشہ تھا کہ اس کی کھلی وابستگی عرب امریکی اکثریتی علاقے میں ایل-سید کو فائدہ پہنچائے گی۔جبکہ غزہ میں اسرائیل کی برسوں کی نسل کشی اور مشرق وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازع کے بعد اسرائیل کے بارے میں امریکی رویوں میں وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔جون میں کوئنیپیاک یونیورسٹی کے ایک سروے میں پایا گیا کہ۴۸؍ فیصد امریکی ووٹروں کا خیال تھا کہ واشنگٹن اسرائیل کی بہت زیادہ حمایت کر رہا ہے، جن میں۶۶؍ فیصد ڈیموکریٹس شامل تھے ، جو سروے کے نو سالوں میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ تعداد ہے۔اس کے علاوہ یہ تبدیلی ڈیموکریٹک بائیں بازو پر سب سے واضح رہی ہے، جہاں امیدوار تیزی سے اے آئی پی اے سی کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بہت قریب اور بڑی رقم کے مفادات کی علامت قرار دے رہے ہیں جو عام ووٹروں کو مغلوب کر دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ICE کی ریکارڈ گرفتاریاں، اکثریت کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں
لیکن یہودی لابی کی مخالفت پاپولسٹ دائیں بازو تک بھی پھیل گئی ہے، جہاں کچھ’’امریکا فرسٹ‘‘ قدامت پسندوں نے اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت پر حملہ کیا ہے اور اسرائیل حامی لابی پر الزام لگایا ہے کہ وہ امریکہ کو بیرونی تنازعات میںگھسیٹ رہی ہے۔دریں اثنا، اے آئی پی اے سی کی مالی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اوپن سیکرٹس کا کہنا ہے کہ خود اس تنظیم نے یو ڈی پی کو۳۰؍ ملین ڈالر دیے ہیں۔اور اس کی سیاسی طاقت اب بھی زبردست ہے، اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کو کانگریس میں وسیع حمایت حاصل ہے۔لیکن پرائمریز نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریکارڈ اخراجات کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتے اور ایک زمانے میں انتہائی اہم حمایت اب کچھ انتخابات میں ایسی چیز بن سکتی ہے جس کے بارے میں امیدوار چاہیں گے کہ ان کے مخالفین کم بات کریں۔ٹریک اے آئی پی اے سی ایڈوکیسی پلیٹ فارم کے شریک بانی کیسی کینیڈی نے اے ایف پی کو بتایا، ’’یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اشتہارات میں امریکی خارجہ پالیسی اور اسرائیل کا کبھی ذکر نہیں کرتے۔اے آئی پی اے سی جانتا ہے کہ اے آئی پی اے سی زہریلا ہے، اور جتنا زیادہ وہ خرچ کرتے ہیں، سیاسی سپیکٹرم کے ووٹروں میں اتنے ہی زیادہ زہریلے بن جاتے ہیں۔‘‘