Updated: January 01, 2026, 3:38 PM IST
| Amsterdam
نیدر لینڈز میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا۔ ایک ۱۷؍ سالہ لڑکا جو اسپتال میں اپنے گھٹنے کی سرجری کے بعد اینستھیسیا کا اثر ختم ہونے پر جب نیند سے اٹھا تو اپنی مادری زبان کے بجائے غیر ملکی زبان بولنے لگا۔ لڑکا خالص انگریزی بولنے لگا ایسی زبان جسے وہ صرف اپنے اسکول میں استعمال کرتا تھا۔
نیدرلینڈز میں ایک حیران کر دینے والا واقعہ ہوا، جہاں ایک لڑکا اپنے گھنٹے کی سرجری سے اٹھنے کے بعد اپنی مادری زبان کے بجائے غیر ملکی زبان بولنے لگا۔ ایک ۱۷؍ سالہ لڑکا جس کی مادری زبان ڈچ تھی وہ نیند سے جاگنے کے بعد انگریزی میں بات کرنے لگا جو صرف وہ اپنے اسکول میں بولتا تھا۔ جس اسپتال میں وہ لڑکا بھرتی تھا وہاں کے عملے نے سوچا کہ یہ رویہ عارضی ہے اور کچھ وقت میں گزر جائے گا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ بعد ازاں ڈاکٹر نے اس کی شناخت کی اور بتایا کہ یہ ’’فورین لینگویج سنڈروم‘‘ کے اثرات معلوم ہوتے ہیں اور یہ ایک نایاب حالت ہے جسے سمجھنا مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا اعلان کیا
فٹ بال کھیلتے وقت زخمی ہونے کے بعد وہ لڑکا اسپتال میں اپنے گھٹنے کی سرجری کے لئے گیا تھا۔ سرجری کسی بھی پیچیدگی کے بغیر کامیاب رہی۔ لیکن جب لڑکا عام اینستھیسیا کا اثر ختم ہونے کے بعد نیند سے جاگا تو وہ خالص انگریزی بولنے لگا اور اس بات پر بضد ہو گیا کہ وہ امریکہ میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۶ء سیکوئلز کا سیلاب: کم و بیش ۴۰؍ فلموں کے سیکویل ریلیز ہوں گے
لڑکا اپنے والدین کو پہچاننے سے بھی قاصر تھا اور اپنی مادری زبان کو سمجھنے یا بولنے کی صلاحیت سے بھی آرا تھا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطاق لڑکے کی کوئی ذہنی بیماری کی تاریخ کا ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی خاندان کسی کو ایسی بیماری ہے، البتہ اس کی والدہ کی طرف سے کچھ ڈپریشن کی مثالیں ملی ہیں۔ ڈاکٹروں نے شناخت کی ہے کہ لڑکا فورین لینگوئج سینڈروم (ایف ایل ایس) نامی مرض میں مبتلا ہے، یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں مریض اچانک اپنی مادری زبان کے بجائے دوسری زبان بولنے لگتا ہے۔