Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کے غزہ نسل کشی کے ناقد نے نیو جرسی ڈیموکریٹک پارٹی پرائمری جیت لی

Updated: June 04, 2026, 2:54 PM IST | Washington

اسرائیل کے ذریعے غزہ میں کی جارہی نسل کشی کے نقاد ڈاکٹر ایڈم ہماوی نے نیو جرسی ڈیموکریٹک پارٹی پرائمری جیت لی، غزہ کا دورہ کرنے والے ہماوی نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ میرا ٹیکس کا پیسہ اس ضمن میں خرچ ہو۔

Adam Hamawi. Photo: X
ایڈم ہماوی۔ تصویر: ایکس

امریکی فوج کے سابق فوجی اوراسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کے ناقد نے منگل کو نیو جرسی کے۱۲؍ ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری جیت لی ہے، جس سے وہ کانگریس میں پہنچنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ایڈم ہماوی کی فتح کے بعد وہ ریپریزنٹیٹو بونی واٹسن کولمین کی جگہ لینے کے واضح پسندیدہ بن گئے ہیں، جو دس سال کانگریس میں خدمت کے بعد ریٹائر ہو رہی ہیں۔پلاسٹک سرجن اور عراق جنگ کے دوران امریکی فوج کے سابق جنگی ڈاکٹر ہماوی نے اپنے قریبی حریف بریڈ کوہن کو شکست دے دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تقریباً۹۳؍ فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ہماوی کو ۲۸؍ اعشاریہ ایک فیصد ووٹ ملے، جبکہ کوہن کو ۱۴؍ اعشاریہ ۹؍فیصد ملے۔جبکہ نومبر میں ہماوی کو ریپبلکن امیدوار گریگ میلے کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ایک ضلع میں بار الیکشن لڑنے والے امیدوار ہیں جہاں ڈیموکریٹس کی تعداد ریپبلکن سے کہیں زیادہ ہے۔

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے خود کو تحلیل کرنے کا بل پہلی ریڈنگ میں منظور کرلیا

بعد ازاں ہماوی نے پرنسٹن میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا،اس ریس کے دوران آپ نے مجھے بار بار کہتے سنا ہے، ’’ بموں کی بجائے ہیلتھ کیئر بناؤ، ICE (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) ختم کرو، اور اس معیشت کو منصفانہ بناؤ۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’یہ حل ایک ایسے بحران کا ہے جو ایک ٹوٹی ہوئی اور فرسودہ سیاسی و معاشی نظام سے پیدا ہوا ہے۔ ایک ایسا نظام جو بچوں کے اسکولوں پر بمباری کے لیے بیرون ملک پیسہ بھیجتا ہے، جبکہ امریکہ میں چائلڈ کیئر کو ناممکن قرار دیتا ہے۔انہوں نے فروری میں ایرانی لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے کا حوالہ دیا جس میں۱۶۰؍ لڑکیاں ہلاک ہوئیں۔واضح رہے کہ ۵۶؍ سالہ ہماوی پہلی بار الیکشن لڑ رہے ہیں اور پرنسٹن میں کاسمیٹک سرجری کی پریکٹس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے تشدد کے ثبوت جمع کرائے

اپنے بیان میں ہماوی نے کہا کہ’’۲۰۲۴ء میں جنوبی غزہ کے ایک اسپتال میں انسانی امداد کے مشن کے دوران جو تباہی انہوں نے دیکھی، اس پر واشنگٹن کے قانون سازوں کی بے حسی دیکھ کر وہ الیکشن میں شامل ہوئے۔انہوں نے غزہ کے دورے کے بعد کہا میں اسے صرف نسل کشی ہی کہہ سکتا ہوں، کیونکہ میں نے لوگوں کی لاشیں دیکھیں جو آ رہی تھیں۔اور یہ حادثہ نہیں تھا۔ تین سال تک ہر روز حادثہ نہیں ہو سکتا۔جب اسپتال میں ہلچل ہوتی ہے اور لاشیں اندر آتی ہیں تو میں جانتا ہوں کہ یہ میرا ٹیکس کا پیسہ ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا ٹیکس کا پیسہ اس کام کے لیے خرچ ہو۔‘‘گزشتہ مارچ میں وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کانگریس سے مشترکہ خطاب کے موقع پر بونی واٹسن کولمین کے مہمان کے طور پر موجود تھے۔ اگرچہ واٹسن کولمین نے۱۲؍ امیدواروں والی پرائمری میں کسی کی حمایت نہیں کی، تاہم انہوں نے مصری نژاد اور چار بچوں کے والد ہماوی کی ’’خودداری اور بہادری‘‘ کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ’’فلسطینی عوام کی تکالیف پر بے مثال اختیار کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ ہماوی یونیورسل میڈیکیئر، ICE کے خاتمے، اسرائیل کو امریکی فوجی امداد ختم کرنے اور اسرائیل کی غزہ جنگ کو نسل کشی قرار دینے کے حامی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK