• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھاٹکوپر: راجا واڑی اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی سے دشواریاں

Updated: September 01, 2026, 11:59 AM IST | Saadat Khan | Ghatkopar

ایک ڈاکٹر۴۰۰؍سے ۵۰۰؍مریضوںکا علاج کرنےپر مجبور۔ اسپتال میں ۳۹؍ آرایم اوز کی ضرورت ہے۔

The workload on doctors at Rajawadi Hospital has increased. Picture: INN
راجاواڑی اسپتال میں ڈاکٹروں پرکام کابوجھ بڑھ گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

یہاں کے میونسپل کارپوریشن کے راجاواڑی اسپتال میں ریسیڈنٹ میڈیکل آفیسر  (آر ایم او) کی کمی سے موجودہ ڈاکٹروں پر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے ۔ ایک ڈاکٹر روازنہ ۴۰۰؍ سے ۵۰۰؍ مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہے۔ مریضوں کی تعداد کے مطابق یہاں ۳۹؍آر ایم اوز کی ضرورت ہے۔چھٹی والے دن یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کرلیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حج ۲۰۲۷ء کیلئے ۵۲؍ہزار کوٹہ پی ٹی او میں تقسیم کرنے کیلئے۱۰۱۲؍ فائلیں

اتوار ، ۳۰؍اگست کو ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے ایک آن ڈیوٹی ڈاکٹرنے تقریباً ۸۰۰؍ مریضوں کا معائنہ کیا۔ اس سے اسپتال میں صحت کی دیکھ  ریکھ کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے اضافی آر ایم او زکی فوری تقرری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔واضح رہے کہ راجا واڑی اسپتال میں مشرقی مضافاتی علاقوں بشمول گھاٹکوپر سے بڑی تعداد میں مریض علاج کیلئے آتے ہیں۔ آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں روزانہ کی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے میڈیکل آفیسرس کی مناسب تعداد کا ہونا ضروری ہے لیکن مریضوں کی تعداد فی الحال دستیاب آر ایم اوز سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ افرادی قوت کی کمی خاص طور پر چھٹیوں کے موقع پر زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سڑکوں پر پارکنگ کی فیس میں۱۰؍ فیصد اضافہ کی تجویز

اتوار کوایک ڈاکٹر کو مریضوں کے معائنے سے لے کر علاج تک کا سارا عمل دیکھنا ہوتا ہے ۔یہاں روزانہ اوپی ڈی میں ۴۰۰؍ سے ۵۰۰؍ مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے ۔ڈاکٹروں کی کمی سے موجودہ معالجوں پر بوجھ پڑنے کے علاوہ مریضوں کو بھی جانچ کروانے کیلئے طویل وقت تک انتظار کرا نا، ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے ۔ اسپتال میں مریضوں کی تعداد اور دستیاب افرادی قوت  کے پیش نظرتقریباً ۲۹؍ آر ایم اوز کی ضرورت ہے۔ 

دریں اثناء راجاواڑی اسپتال میں ایک ہی دن تین شیر خوار بچوں کی موت کا معاملہ حال ہی میں سامنے آیا تھا۔ اس لئے اسپتال میں افرادی قوت، طبی سہولیات اور مریضوں کی دیکھ  ریکھ کا معاملہ کھل کر سامنے آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK