• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انسٹاگرام پر۸۰؍ کی دہائی کے لُک کا نیا ٹرینڈ، اے آئی سے بنائی گئیں تصاویر وائرل

Updated: September 10, 2026, 10:01 PM IST | Mumbai

انسٹاگرام پر ۱۹۸۰ء کی دہائی کے انداز میں تصاویر بنانے کا نیا AI ٹرینڈ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جس میں صارفین اپنی عام تصاویر کو ونٹیج پورٹریٹس میں تبدیل کر رہے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے تیار کی جانے والی ان تصاویر میں لباس، ہیئر اسٹائل، زیورات، پس منظر، روشنی اور فلم گرین سمیت ہر عنصر کو ۸۰؍ کی دہائی کے مطابق ڈھالا جاتا ہے، جس سے جدید تصاویر پرانی خاندانی تصاویر، بالی ووڈ پورٹریٹس یا ریٹرو فوٹو شوٹس جیسی دکھائی دینے لگتی ہیں۔

Viral photos on Instagram: INN
انسٹاگرام پر وائرل تصاویر: آئی این این

انسٹاگرام پر پرانی یادوں کو تازہ کرنے کا ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جس میں صارفین عام تصاویر کو ایسے پورٹریٹس میں تبدیل کر رہے ہیں، جو بظاہر ۱۹۸۰ء کی دہائی میں کھینچی گئی ہوں۔ اس رجحان میں محض ونٹیج فلٹر لگانے کے بجائے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے پوری تصویر کے بصری انداز کو ۸۰؍ کی دہائی کے مطابق ڈھالا جاتا ہے، جس میں لباس، ہیئر اسٹائل، لوازمات، پس منظر، روشنی اور فلم کی بناوٹ تک شامل ہوتی ہے۔  یہ رجحان انسٹاگرام اسٹوریز پر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں صارفین اپنے استعمال کیے گئے پرامپٹس شیئر کر رہے ہیں اور ’’Add Yours‘‘ اسٹیکر کے ذریعے دوستوں اور فالوورز کو بھی اپنی تصاویر کے ورژن تیار کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ: مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے یک روزہ صحافتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد

انسٹاگرام کا ۸۰؍ کی دہائی والا لُک ٹرینڈ کیا ہے؟

 اس ٹرینڈ میں بنیادی طور پر چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) سے کہا جاتا ہے کہ وہ تصور کرے کہ موجودہ تصویر میں نظر آنے والا شخص اگر ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ہوتا تو اس کی تصویر کیسی دکھائی دیتی۔ اس دوران فرد کے قابلِ شناخت چہرے کے خدوخال برقرار رکھے جاتے ہیں، جبکہ لباس، بالوں کا انداز، پس منظر، روشنی اور دیگر بصری عناصر کو اس دور کے مطابق تبدیل کردیا جاتا ہے۔  پرامپٹ کے مطابق تیار ہونے والی تصویر کسی پرانی خاندانی تصویر، بالی ووڈ اسٹوڈیو پورٹریٹ، ونٹیج میگزین فوٹو شوٹ، شادی کی تصویر یا حتیٰ کہ کسی فلم کے منظر جیسی دکھائی دے سکتی ہے۔ عام طور پر ان تصاویر میں اینالاگ فلم گرین، ہلکا فوکس، قدرے مدھم رنگ، گرم روشنی اور اس دور کے مطابق لباس شامل ہوتے ہیں۔ ہندوستانی انداز کی تصویر کے لیے صارفین رنگ برنگی ساڑی، نمایاں زیورات، گھنے اور بڑے بالوں کے اسٹائل، مونچھیں، اونچی کمر والی پتلون اور اس دور سے وابستہ دیگر فیشن عناصر شامل کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔

ChatGPT کے ذریعے اپنا ۸۰؍ کی دہائی والا لُک کیسے بنائیں؟

 سب سے پہلے ایسی واضح تصویر منتخب کریں جس میں چہرہ آسانی سے نظر آرہا ہو۔ عام سیلفی یا پورٹریٹ بھی اس مقصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ تصویر کو ChatGPT پر اپ لوڈ کریں اور اس دہائی، اسٹائل اور تصویر کی قسم کی وضاحت کریں جو آپ چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی امتحان میں مبینہ بدنظمی اور پیپر لیک کیخلاف ودربھ کے طلبہ کا سنویدھان چوک پر احتجاج

 آپ یہ پرامپٹ (Prompt) استعمال کرسکتے ہیں:

پرامپٹ:

 ’’اس تصویر کو ایک حقیقت پسندانہ ۱۹۸۰ء کی دہائی کی تصویر میں تبدیل کریں، لیکن میرے چہرے، چہرے کے خدوخال، جلد کی رنگت، تاثرات اور شناخت کو واضح طور پر قابلِ شناخت برقرار رکھیں۔ میرے لباس، بالوں کے انداز اور لوازمات کو ۱۹۸۰ء کی دہائی کے مطابق تبدیل کریں۔ اس دور سے مطابقت رکھنے والا مستند اسٹائل، گرم اینالاگ روشنی، ہلکی فلم گرین، قدرے مدھم رنگ، نرم فوکس اور جلد کی قدرتی بناوٹ استعمال کریں۔ تصویر کو محض پرانی تصویر والا فلٹر لگانے کے بجائے ایسی قابلِ یقین ونٹیج تصویر بنائیں جو واقعی ۱۹۸۰ء کی دہائی میں کھینچی گئی محسوس ہو۔ اسمارٹ فونز، جدید لباس، جدید گاڑیوں اور موجودہ دور سے متعلق دیگر اشیا کو ہٹا دیں۔ حتمی تصویر ایسی لگنی چاہیے جیسے اسے واقعی ۱۹۸۰ء کی دہائی میں کھینچا گیا ہو۔‘‘

۸۰؍ کی دہائی کے مختلف اسٹائل آزمائیں

 آپ پرامپٹ میں کسی مخصوص ماحول یا انداز کا اضافہ کرکے نتیجے کو مزید منفرد بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ChatGPT سے ۱۹۸۰ءکی دہائی کا بالی ووڈ اسٹوڈیو پورٹریٹ، پرانے خاندانی البم کی تصویر، روایتی شادی کا پورٹریٹ، ڈسکو فوٹوگراف یا ریٹرو میگزین فوٹو شوٹ تیار کرنے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔  اگر پہلی تصویر آپ کی توقع کے مطابق نہ ہو تو اسی تصویر کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہدایات دیں۔ آپ ChatGPT سے چہرے کو تبدیل کیے بغیر بالوں، لباس، پس منظر یا روشنی میں تبدیلی کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جرنگے کا انتباہ: اگرتشدد یا فساد ہوا تو ذمہ دار ایکناتھ شندے ہونگے، سمبھاجی نگر میں سازش کی جارہی ہے

شیئر کرنے سے پہلے تصویر ضرور چیک کریں

AI سے تیار کردہ تصاویر میں بعض اوقات چہرے کی تفصیلات، زیورات، ہاتھوں، لباس کے ڈیزائن یا پس منظر کی اشیا درست نہیں ہوتیں۔ اس لیے حتمی تصویر کو ۱۹۸۰ء کی دہائی کی ایک تخلیقی تعبیر سمجھنا چاہیے، نہ کہ اس دور کی حقیقی تاریخی تصویر۔  اس ٹرینڈ کی اصل کشش یہی ہے کہ یہ ایسی تصویر تخلیق کرتا ہے جو حقیقت میں کبھی موجود نہیں تھی، یعنی ایک مانوس چہرے کو ایک تصوراتی ماضی کے اندر رکھ کر ۱۹۸۰ء کی دہائی کا ایک نیا منظر تخلیق کرنا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK