Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک کی قانون ساز اسمبلی میں پہلی فلسطینی مسلمان خاتون رکن بننے کے قریب

Updated: June 24, 2026, 7:02 PM IST | New York

نیویارک کی قانون ساز اسمبلی میں پہلی فلسطینی مسلمان خاتون ایبر کاواس رکن بننے کے قریب ہیں، انہوں نے منگل کو کوئینز میں نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کے۱۲؍ویں ضلع کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی۔

Aber Kawas. Photo: X
 ایبر کاواس۔ تصویر: ایکس

 ایبر کاواس، جو ایک فلسطینی نژاد امریکی کمیونٹی آرگنائزر ہیں، نے منگل کو کوئینز میں نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کے۱۲؍ویں ضلع کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی۔ اگر وہ عام انتخابات میں بھی کامیاب رہیں تو وہ نیویارک ریاستی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والی پہلی فلسطینی مسلمان خاتون بن جائیں گی۔انہوں نے اس کھلی نشست پر اسمبلی کے رکن اسٹیون راگا کو تقریباً۶۰؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ شکست دی۔کاواس نے نیویارک شہر کے منتخب میئر ظہران ممدانی کی تائید اور حمایت کے بعد ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل کی، جن کی انتخابی مہم بھی جمہوری سوشلسٹ پالیسیوں پر مرکوز تھی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرنا ہوگا: نیتن یاہو

نیویارک میں فلسطینی والدین کے ہاں پیدا اور پرورش پانے والی کاواس نے اپنی مہم کا مرکز سستی رہائش، عالمگیر صحت کی سہولت، امیگریشن اصلاحات، عوامی نقل و حمل، موسمیاتی اقدامات اور غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے لیے امریکی حمایت کی مخالفت کو بنایا۔ان کی مہم کی ویب سائٹ کے مطابق، انہوں نے۱۵؍ سال سے زیادہ عرصے تک محنت کش نیویارک والوں کے لیے منظم کام کیا ہے، جس میں ’’فائٹ فار۱۵؍‘‘(پندرہ ڈالر کی اجرت کی تحریک)، پولیس کی نگرانی کے خلاف مہم، اور امیگریشن اصلاحات شامل ہیں۔انہوں نے ممدانی کے ساتھ مل کر ’’نوٹ آن آور ڈائم‘‘(ہماری رقم پر نہیں) مہم شروع کرنے میں بھی مدد کی، جس کا مقصد نیویارک میں قائم غیر منافع بخش تنظیموں کو ان کے بقول ’’اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘‘کی مالی معاونت سے روکنا ہے۔
فلسطینی مہاجرین کی بیٹی ہونے کے ناطے کاواس کا کہنا ہے کہ ان کی سیاسی سرگرمی ان کے خاندانی تجربے سے تشکیل پائی۔ جب وہ چھوٹی تھیں تو ان کے والد کو امیگریشن اور کسٹمز نفاذ (آئی سی ای) نے حراست میں لے کر امریکہ سے جلاوطن کر دیا تھا۔اپنی مہم کی ویب سائٹ پر وہ کہتی ہیں، ’’جب میں چھوٹی تھی تو ، اسی ظالم امیگریشن نظام کے ذریعے جو آج کوئینز کے لوگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے میرے والد کو آئی سی ای نے حراست میں لے کر امریکہ سے جلاوطن کر دیا تھا۔ ان تجربات نے میری دنیا کو دیکھنے کا زاویہ بنایا اور مجھے آج کا آرگنائزر بنایا، جو غریب اور محنت کش لوگوں کے لیے طاقت بنانے کا عزم رکھتا ہے۔‘‘اپنے انتخاب میں حصہ لینے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے، کاواس کہتی ہیں کہ وہ سیاسی جمود کو چیلنج کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ وفاقی حکومت سماجی پروگراموں میں کٹوتی اور امیگریشن نفاذ میں اضافہ کرتے ہوئے ،ہمارے ٹیکس ڈالرز سے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ یورپ کی رضامندی کے بغیر ایران پر سے پابندی نہیں ہٹائی جا سکتی‘‘

ان کے پلیٹ فارم میں نیویارک ہیلتھ ایکٹ کی منظوری، سستی رہائش کی توسیع، ایم ٹی اے بسوں کو تیز اور مفت بنانا، کرایہ داروں کے تحفظات کو مضبوط کرنا، قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، نیویارک کا آئی سی ای کے ساتھ تعاون ختم کرنا، اور تارکین وطن کے حقوق کا تحفظ شامل ہے۔اس کے علاوہ خارجہ پالیسی سے متعلق ریاستی قانون سازی پر، کاواس ’’نوٹ آن آور ڈائم بل‘‘کی حمایت کرتی ہیں تاکہ نیویارک کے ٹیکس پیسوں کو اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کی مالی معاونت سے روکا جا سکے، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں فلسطینی زمین کی فروخت پر پابندی لگائی جا سکے، عوامی فنڈنگ سے چلنے والے انفراسٹرکچر کے ذریعے نام نہاد غیر قانونی جنگوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی ترسیل کو ختم کیا جا سکے، بائیکاٹ، سرمایہ کاری واپسی اور پابندیوں (بی ڈی ایس) کی تحریک کا تحفظ کیا جا سکے، اور بیرون ملک جنگوں اور حکومت کی تبدیلی کی کوششوں میں امریکی شمولیت کے خلاف وکالت کی جا سکے۔
واضح رہے کہ ۱۲؍واں ضلع ،کوئینز کے متنوع محلوں پر محیط ہے، جس میں ایشٹوریا، سنی سائیڈ، ووڈ سائیڈ، لانگ آئی لینڈ سٹی، رج ووڈ، میسپیتھ، ایلمہرسٹ، گلینڈیل اور جیکسن ہائٹس کے کچھ حصے شامل ہیں، جو بڑی تارکین وطن اور محنت کش سماج کامسکن ہیں۔ کاواس نے اپنی مہم کو ’’کارپوریشن ارب پتیوں کی نہیں بلکہ محنت کش لوگوں کی طاقت سے چلنے والی‘‘ قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK