نیویارک کے مئیر ظہران ممدانی کی رہائش گاہ پر مسلم مخالف مظاہرے کے دوران دیسی بم سے حملہ کیا گیا، پولیس نے اس معاملے میں ۶؍ افراد کو گرفتار کیا ہے، حملے کے وقت ممدانی اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر میں موجود تھے۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 8:14 PM IST | New York
نیویارک کے مئیر ظہران ممدانی کی رہائش گاہ پر مسلم مخالف مظاہرے کے دوران دیسی بم سے حملہ کیا گیا، پولیس نے اس معاملے میں ۶؍ افراد کو گرفتار کیا ہے، حملے کے وقت ممدانی اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر میں موجود تھے۔
نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی کی رہائش گاہ کے باہر دسنیچر کو مسلم مخالف مظاہرے کے دوران بولٹ اور اسکرو سے بھرے دھواںنکلتے دیسی ساخت کے بم پھینکنے کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ حملے کے وقت گریسی مینشن میں موجود ممدانی اور ان کا خاندان محفوظ ہے۔نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک پولیس محکمہ (NYPD) کے مطابق، یہ مشکوک‘‘ڈیوائسز ایک چھوٹے اسلام مخالف مظاہرے اور جوابی مظاہرے کے درمیان جھڑپ کے دوران پھینکی گئیں۔ عوامی مقامات پر مسلمانوں کی نماز کی مخالفت کرنے والے اس مظاہرے کا اہتمام جیک لینگ سے وابستہ افراد نے کیا تھا۔اس موقع کی ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کی کارروائی سے عین قبل ایک مشتبہ شخص دوسرے کو ڈیوائس دیتا ہے۔
⚡️🇺🇸BREAKING: Assassination attempt on NYC Mayor Zohran Mamdani:
— Parody Jeff (@BackupJeffx) March 8, 2026
NYPD identified two suspects placing a bomb outside the residence of Mamdani.
Mossad is working overtime. pic.twitter.com/n8fQ0EjEK6
دریں اثناء شہر کے کمشنر جیسیکا ٹِش نے بتایا کہ اسلام مخالف مظاہرے میں تقریباً ۲۰؍ افراد شریک تھے، جبکہ ’’نازیوں کو نیویارک سے بھگاؤ/نفرت کے خلاف کھڑے ہو‘‘کے عنوان سے جوابی مظاہرے میں تقریباً ۱۲۵؍شرکاء شامل تھے۔دوپہرسوا ۱۲؍ بجے کے قریب کشیدگی اس وقت بڑھی جب ابتدائی مظاہرے میں شامل ایک شخص نے مبینہ طور پر جوابی مظاہرین پر مرچوں کا اسپرے کیا۔ اس کے فوراً بعد،۱۸؍ سالہ جوابی مظاہرین امیر بالات نے مبینہ طور پر ایک آلہ جلایا اور مخالف گروپ کی طرف پھینک دیا۔ بالات بعد میں فرار ہوا اور۱۹؍ سالہ ابراہیم نِک سے ایک اور آلہ لے کر آیا۔ دونوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ میں امریکی اقدار کا فقدان: سابق صدر جو بائیڈن
پولیس کے بم اسکواڈ کے مطابق، یہ ڈیوائس جنہیں کالے ٹیپ سے لپیٹا گیا تھا اور ان میں نٹ، بولٹ، اسکرو اور ایک فیوز بھرا ہوا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اشیاء فعال دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز تھیں یا فرضی۔ تاہم پولیس نے تصدیق کی کہ میئر ممدانی مظاہروں کے دوران گریسی مینشن کے اندر موجود تھے۔ ان کے ترجمان نے لینگ کے زیر اہتمام اس مظاہرے کو ’’قابل نفرت اور اسلام مخالف‘‘ قرار دیا۔بعد ازاں مجموعی طور پر چھ گرفتاریاں ہوئیں جن میں بالات، نک اور مرچوں کا اسپرے کرنے والا ملزم شامل ہے۔ جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے کہا کہ وہ اس واقعے کی بریفنگ دی گئی ہیں اور وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا، ’’نیویارک پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے، لیکن ہم نفرت یا تشدد کے لیے صفر رواداری رکھتے ہیں۔‘‘