نکاراگوا نے منگل کو اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت کو بتایا کہ جرمنی اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ یہ ہتھیار غزہ کی جنگ میں استعمال ہوئے۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 8:06 PM IST | Hague
نکاراگوا نے منگل کو اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت کو بتایا کہ جرمنی اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ یہ ہتھیار غزہ کی جنگ میں استعمال ہوئے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں جاری کارروائیوں کے دوران نکاراگوا نے مؤقف اختیار کیا کہ جرمنی اسرائیل کو اسلحہ اور دیگر فوجی سازو سامان فراہم کرکے غزہ میں نسل کشی کے اقدامات کو ’’سہولت فراہم‘‘ کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ جبکہ برلن نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔اگرچہ یہ مقدمہ جرمنی پر مرکوز ہے، تاہم یہ بالواسطہ طور پر ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ءسے اسرائیل کی غزہ مہم کو نشانہ بناتا ہے۔ اسرائیل، جو اس کارروائی کا فریق نہیں ہے، سختی سے اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس کے اقدامات نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئےـ: اقوام متحدہ کے سربراہ کا عالمی تعاون کو درپیش مشکلات کے باوجود امن کے عزم پر زور
دریں اثناء ابتدائی سماعتیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔یہ کارروائی فلسطینی عوام سے تاریخی تعلقات رکھنے والے ایک ملک کی جانب سے اسرائیل کی فوجی مہم کو روکنے کی تازہ ترین قانونی کوشش ہے، اس سے قبل۲۰۲۳ء میں جنوبی افریقہ نے بھی اسی عدالت میں اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کیا تھا۔نکاراگوا کے سینئر وکیل، کارلوس ہوزے آرگوئیلو گومیز نے عدالت کو بتایا،’’یہ ناممکن ہے کہ جرمنی کے اسرائیل کے ساتھ سیاسی، تجارتی اور فوجی تعلقات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے وہ اس سنگین خطرے سے بے خبر ہو، یا معمول کے مطابق اس سے باخبر نہ ہو، کہ اسرائیل کی طرف سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو نسل کشی کے مترادف ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کی ’’ بوسنیا کے قصاب‘‘ راتکو ملادیچ کی آخری رسومات کی مذمت
واضح رہے کہ جرمنی کئی دہائیوں سے اسرائیل کا مضبوط حامی رہا ہے اور اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا امریکہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ جبکہ نکاراگوا کی حکومت کے فلسطینی تنظیموں کے ساتھ تاریخی روابط ہیں، جو۱۹۷۹ء کے سینڈینیسٹا انقلاب کے لیے ان کی حمایت سے تعلق رکھتے ہیں۔پیر کو جرمنی نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمہ غلط طریقے سے دائر کیا گیا ہے اور اسے خارج کر دیا جانا چاہیے۔جرمنی کی سینئر وکیل، جولیا مونار نے ججوں کو بتایا،’’نکاراگوا کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے جرمنی کی اپنے الزامات پر رائے سننے میں دلچسپی نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد صرف جرمنی کو اس عدالت میں گھسیٹنا تھا۔‘‘
تاہم نکاراگوا کے وکلاء نے اس تردید کی، اور جرمن وزارت خارجہ کو بھیجے گئے دستاویزات اور تنازع کو بیان کرنے والے پریس ریلیزز کی نشاندہی کی۔بعد ازاںاختیار (جورسڈکشن) سے متعلق فیصلہ اس سال کے آخر میں متوقع ہے، اور اگر نکاراگوا کا مقدمہ آگے بڑھتا ہے تو یہ کارروائی برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔