• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نرملا سیتارمن نے عالمی کمپنیوں کے سی ای اوز کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کیلئے مدعو کیا

Updated: September 04, 2026, 6:02 PM IST | New York

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے نیویارک میں عالمی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتیں کیں اور انہیں ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ ان ملاقاتوں میں ہندوستان میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع، ڈجیٹل انفراسٹرکچر، مالیاتی خدمات، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

Nirmala Sitharaman And Others.Photo:X
نرملا سیتارمن اوردیگر۔ تصویر:ایکس

مرکزی وزیر خزانہ  نرملا سیتارمن  نے نیویارک میں عالمی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتیں کیں اور انہیں ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ حکومت کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ معلومات کے مطابق، ان ملاقاتوں میں ہندوستان میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع، ڈجیٹل انفراسٹرکچر، مالیاتی خدمات، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔


وزیر خزانہ نے  ٹل مین ہولڈنگز  کے چیئرمین اور سی ای او  سنجیو آہوجا  کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ہندوستان کا پالیسی فریم ورک، جس میں حالیہ بجٹ میں کیے گئے اعلانات بھی شامل ہیں، ملک میں ڈجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈجیٹل سروسیز اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تیزی سے ہونے والی ترقی کا بھی ذکر کیا۔نرملا سیتارمن نے کہا کہ ان شعبوں کی ترقی کے نتیجے میں  ڈیٹا سینٹرز، ہائی کیپیسٹی نیٹ ورکس اور قابلِ اعتماد بجلی کے بنیادی ڈھانچے  کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق، ٹل مین ہولڈنگز جیسی کمپنیاں ہندوستان کے ڈجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی کے اگلے مرحلے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:میری ناکامیوں نے والدین کو بے بس کر دیا تھا: میگھنا گلزار

وزیر خزانہ نے  مارش ری کے سی ای او ڈین کلیسورا  اور کمپنی کی حکمت عملی و کارپوریٹ ڈیولپمنٹ کی سربراہ  دیوَانشو دھیانی  کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی پروفیشنل سروسیز اور رسک مینجمنٹ کمپنیوں کے لیے ایک وسیع اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا گھریلو بازار فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی ماہر افرادی قوت، تیزی سے ترقی کرتا انفراسٹرکچر، مضبوط ڈجیٹل صلاحیتوں اور کاروباری ماحول میں مسلسل بہتری کے لیے جاری اصلاحات  کو بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع قرار دیا۔
مارش ری کی ٹیم نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے اصلاحات کے لیے اپنائے گئے مرکزی اور مربوط نقطۂ نظر کی تعریف کی۔ کمپنی نے کہا کہ وہ ہندوستان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کرنے اور کاروبار کو وسعت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔کمپنی کے مطابق ہندوستان ایک ایسے بازار کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں تمام کمپنیوں کو یکساں مواقع حاصل ہیں، جبکہ ملک میں آئی آر ڈی اے آئی کی صورت میں ایک مضبوط ریگولیٹری ادارہ بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بلجیم کے وزیراعظم کا نریندر مودی کیلئے انوکھا تحفہ سفر میں ہی پگھل گیا

مارش ری نے بتایا کہ اس نے گفٹ سٹی  پر اپنی توجہ مزید مضبوط کی ہے اور وہاں موجود مالیاتی ایکو سسٹم کے ساتھ مصنوعات اور خدمات کے مختلف شعبوں میں اپنی شمولیت بڑھا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے  بی این وائی میلن  کے گروپ چیف آپریٹنگ آفیسر  الیجاندرو پیریز  کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ہندوستان میں مزید سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیریز نے ہندوستان کے لیے بی این وائی میلن کی طویل مدتی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی اپنی عالمی سرگرمیوں اور مستقبل کی ترقی کی حکمت عملی میں ہندوستان کو ایک اہم بازار کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے آئی آئی ٹی سمیت ہندوستان کے معروف تعلیمی اداروں  کے ساتھ بی این وائی میلن کی شراکت داری کا بھی ذکر کیا۔ ان شراکت داریوں کا مقصد اعلیٰ معیار کی صلاحیتوں اور باصلاحیت افرادی قوت کو فروغ دینا ہے۔پیریز نے کہا کہ ہندوستان میں بی این وائی میلن کے آپریشنز کا کردار مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ ہندوستان اب صرف کمپنی کے لیے ایک  ڈیلیوری سینٹر  نہیں رہا بلکہ جدت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید صلاحیتوں کے لیے تیزی سے ایک  اسٹریٹجک عالمی مرکز  بن رہا ہے۔ملاقات کے دوران ہندوستان کے بڑھتے ہوئے مالیاتی ایکو سسٹم،  ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز (جی سی سی)  اور  گفٹ سٹی-آئی ایف ایس سی سے پیدا ہونے والے سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی گفتگو ہوئی۔ مرکزی وزیر خزانہ نے بی این وائی میلن کی ٹیم کو  گفٹ سٹی-آئی ایف ایس سی  کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ وہاں دستیاب مختلف مالیاتی مصنوعات اور خدمات کے وسیع مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکومت کی ان ملاقاتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان عالمی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے، جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور گفٹ سٹی جیسے عالمی مالیاتی مراکز کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK