Inquilab Logo Happiest Places to Work

صرف ۲۵ء۸؍ فیصد گریجویٹس کو اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت ملتی ہے: نیتی آیوگ

Updated: August 26, 2026, 7:07 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن تعلیم اور روزگار کے درمیان بڑا خلا برقرار ہے۔ نیتی آیوگ کی نئی رپورٹ Reimagining Skilling for Viksit Bharat@2047 کے مطابق صرف ۲۵ء۸؍ فیصد گریجویٹس ایسی ملازمتوں میں کام کر رہے ہیں جو ان کی تعلیمی قابلیت سے مطابقت رکھتی ہیں۔

Graduates.Photo:INN
گریجویٹس۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن تعلیم اور روزگار کے درمیان بڑا خلا برقرار ہے۔ نیتی آیوگ  کی نئی رپورٹ Reimagining Skilling for Viksit Bharat@2047  کے مطابق صرف ۲۵ء۸؍ فیصد گریجویٹس  ایسی ملازمتوں میں کام کر رہے ہیں جو ان کی تعلیمی قابلیت سے مطابقت رکھتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ صرف بے روزگاری کا نہیں بلکہ  تعلیم، مہارت اور لیبر مارکیٹ کے درمیان عدم مطابقت  کا بھی ہے۔ بہت سے نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایسی ملازمتیں قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جو ان کی تعلیمی قابلیت سے کم درجے کی ہوتی ہیں۔  

یہ بھی پڑھئے:اے کے ہنگل فلموں کے سدا بہار ’انکل‘ تھے

نیتی آیوگ کے مطابق ہندوستان میں تقریباً۴ء۳؍ کروڑ طلبہ انڈرگریجویٹ پروگرامز  میں زیر تعلیم ہیں۔ ان میں تقریباً ۱۳ء۱؍ کروڑ طلبہ بی اے  کر رہے ہیں  جبکہ بی اے، بی ایس سی اور بی کام جیسے روایتی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد ۲؍ کروڑ سے زیادہ ہے۔ رپورٹ نے نشاندہی کی کہ ان عمومی ڈگری پروگرامز کا روزگار کے ساتھ تعلق نسبتاً کمزور ہے۔   رپورٹ کے مطابق گریجویٹس میں مجموعی بے روزگاری کی شرح تقریباً ۱۳؍ فیصد ہے  جبکہ گریجویٹ خواتین میں یہ شرح ۴ء۲۰؍ فیصد  تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ملک کی مجموعی بے روزگاری کی شرح تقریباً ۲ء۳؍ فیصد بتائی گئی ہے۔ 
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف ڈگری حاصل کرنا اب روزگار کی ضمانت نہیں رہا۔ آجروں کو عملی تجربہ، ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور مخصوص شعبے سے متعلق مہارت رکھنے والے امیدوار درکار ہیں۔  رپورٹ میں نوجوانوں میں سرکاری ملازمتوں کے لیے بڑھتے ہوئے رجحان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ نومبر ۲۰۲۴ء سے جولائی  ۲۰۲۵ءکے درمیان تقریباً ۵۵؍ ہزار سرکاری عہدوں  کے لیے۸۶ء۱؍ کروڑ درخواستیں موصول ہوئیں۔ نیتی آیوگ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی طلب اور دستیاب مواقع کے درمیان بڑا فرق ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ حل صرف سرکاری ملازمتوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ نوجوانوں کو  نجی شعبے، کاروبار، خود روزگار اور خاندانی کاروبار  سمیت مختلف کریئر راستوں کے لیے تیار کرنا بھی ضروری ہے۔ نیتی آیوگ نے تعلیم اور روزگار کے درمیان خلا کم کرنے کے لیے صنعت سے منسلک تربیت، اپرنٹس شپ، ووکیشنل ایجوکیشن اور عملی تجربے کو زیادہ اہمیت دینے کی سفارش کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:نیپال: وزیراعظم بالین شاہ کو پارلیمنٹ میں کالا چشمہ پہننے کی اجازت

 رپورٹ میں  Digital Skills Passport اور  National Credit Framework  جیسے اقدامات کو بھی روزگار کے امکانات بہتر بنانے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔نیتی آیوگ کے مطابق۱۵۔۲۰۱۴ء سے اب تک ۶۷ء۷؍ کروڑ سے زیادہ افراد کو باضابطہ طور پر اسکل ٹریننگ دی جا چکی ہے۔۲۶۔۲۰۲۵ء کے مرکزی بجٹ میں اسکلنگ سے متعلق مختلف وزارتوں کے لیے تقریباً۳۴؍ ہزار کروڑ روپے  مختص کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود تربیت کو ملازمت اور کیریئر ترقی میں تبدیل کرنے کے نتائج اب بھی غیر مساوی ہیں۔  
نیتی آیوگ کے مطابق اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے نظام میں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کئی اداروں میں پڑھایا جانے والانصاب تیزی سے تبدیل ہوتی صنعت کی ضروریات کے مطابق نہیں ہے۔ نتیجتاً طلبہ ڈگری تو حاصل کر لیتے ہیں، لیکن ملازمت کے لیے درکار  Job-ready skills  اور عملی تجربہ ان کے پاس نہیں ہوتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK