Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی وزیر بین گوئیر کا اذان پر پابندی کا مطالبہ، مساجد کے لاؤڈ اسپیکر نشانے پر

Updated: June 04, 2026, 10:01 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گوئیر نے مساجد سے نشر ہونے والی اذان پر پابندی کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اذان کی آواز شہریوں کی نیند میں خلل ڈالتی ہے، اس لیے اس پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ اس بیان کے بعد اسرائیل اور بیرون ملک مسلم حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مذہبی آزادیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جبکہ حامی اسے شور کی آلودگی سے متعلق مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

Israeli Minister Ben Gvir. Photo: X
اتمار بن گوئیر۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گوئیر نے ایک بار پھر تنازع کھڑا کرتے ہوئے مساجد سے نشر ہونے والی اذان پر پابندی کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے نشر ہونے والی اذان لوگوں کی نیند اور روزمرہ زندگی میں خلل پیدا کرتی ہے، اس لیے اس مسئلے کو قانون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ بن گوئیر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی شہریوں کو رات اور صبح کے اوقات میں سکون سے سونے کا حق حاصل ہے اور حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو عوام کو شور سے محفوظ رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مساجد سے بلند آواز میں نشر ہونے والی اذان ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر کئی برسوں سے بحث جاری ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Middle East Eye (@middleeasteye)

ان کے اس بیان نے اسرائیل کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عرب اور مسلم لیڈروں نے اس تجویز کو مذہبی آزادیوں پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اذان صرف نماز کا اعلان نہیں بلکہ اسلامی شناخت اور مذہبی روایت کا ایک بنیادی حصہ ہے، جسے محدود کرنے کی کوشش مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو متاثر کرے گی۔ اذان اسلام میں پانچ وقت کی نماز کے آغاز کا اعلان ہے جو صدیوں سے مسلم معاشروں کا حصہ رہی ہے۔ مؤذن مسجد سے اذان دے کر مسلمانوں کو نماز کی دعوت دیتا ہے۔ اذان نہ صرف عبادت کے وقت کی یاد دہانی کراتی ہے بلکہ اسلامی عقائد کے بنیادی پیغام کا اظہار بھی سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے بیشتر مسلم اور کئی غیر مسلم ممالک میں بھی مساجد سے اذان نشر کرنے کی اجازت موجود ہے، اگرچہ بعض مقامات پر آواز کی سطح اور اوقات سے متعلق مقامی قوانین نافذ ہیں۔
اسرائیل میں اذان کے لاؤڈ اسپیکروں کا معاملہ نیا نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران مختلف دائیں بازو کے سیاست دان اس مسئلے کو شور کی آلودگی کے تناظر میں اٹھاتے رہے ہیں۔ ۲۰۱۶ء اور ۲۰۱۷ء میں بھی اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایسی تجاویز زیر غور آئیں جنہیں بعض حلقوں نے ’’مؤذن بل‘‘ کا نام دیا تھا۔ ان تجاویز کا مقصد رات اور صبح کے اوقات میں لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کو محدود کرنا تھا، تاہم انہیں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔
بن گوئیر کی تازہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں سیاسی اور سماجی کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ غزہ جنگ، مغربی کنارے کی صورتحال اور اسرائیل کے عرب شہریوں کے حقوق سے متعلق جاری بحث کے باعث مذہبی اور قومی شناخت کے مسائل مزید حساس بن چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اذان سے متعلق بیانات اس وسیع تر سیاسی ماحول کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں جس میں مذہبی اور قومی معاملات اکثر سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کو نیتن یاہو نے ’’ خاندانی جھگڑا‘‘ قرار دیا

اسرائیل کے عرب اراکین پارلیمنٹ اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے بن گوئیر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شور کی آلودگی واقعی مسئلہ ہے تو اس کے لیے تمام مذہبی اداروں پر یکساں اصول لاگو ہونے چاہئیں، نہ کہ صرف مساجد کو نشانہ بنایا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مخصوص مذہبی عمل کو الگ سے ہدف بنانا امتیازی سلوک کے مترادف ہوگا۔ دوسری جانب بن گوئیر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مذہبی آزادی کا نہیں بلکہ عوامی سکون اور شور کی آلودگی کا ہے۔ ان کے مطابق جدید شہری زندگی میں لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال سے متعلق واضح ضابطوں کی ضرورت ہے اور مساجد سمیت تمام اداروں کو ان قوانین کا پابند ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی ترسیل کا معاملہ: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیڈایکس کے خلاف شکایت درج کرائی

خیال رہے کہ اذان پر مکمل پابندی انتہائی غیر معمولی تصور کی جاتی ہے۔ مختلف ممالک میں لاؤڈ اسپیکروں کی آواز، وقت یا مقامی ضوابط سے متعلق پابندیاں موجود ہیں، تاہم پورے ملک میں اذان کی نشریات پر مکمل پابندی عائد کرنے کی مثالیں بہت کم ہیں۔ وسطی ایشیا کے ملک تاجکستان کو عام طور پر واحد ایسا ملک قرار دیا جاتا ہے جہاں بیرونی لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اذان نشر کرنے پر ملک گیر پابندی نافذ ہے۔ واضح ہو کہ بن گوئیر کی تجویز کو قانونی شکل دینے کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ میں طویل سیاسی اور قانونی عمل درکار ہوگا۔ تاہم ان کے حالیہ بیان نے ایک مرتبہ پھر مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو نمایاں کر دیا ہے، جس کے اثرات اسرائیلی سیاست سے آگے مسلم دنیا تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK