قطر کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ثالثوں سے ملاقات کیلئے دوحہ موجودہیں مگرمستقل جنگ بندی کیلئے کوئی اعلیٰ سطحی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 11:24 AM IST | Doha
قطر کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ثالثوں سے ملاقات کیلئے دوحہ موجودہیں مگرمستقل جنگ بندی کیلئے کوئی اعلیٰ سطحی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے منگل کو کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اوردونوں کے درمیان مذاکرات نہیںہورہے ہیں۔ قطر نے بتایا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ثالثوں سے ملاقات اور مذاکرات پر بات چیت کے لیے قطر میں موجود ہیں۔قطری وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ وٹکوف اور کشنر فی الحال ایرانی حکام سے براہ راست ملاقات نہیں کریں گے۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وٹکوف اور کشنر ثالثوں سے ملنے اور مذاکرات پر تبادلہ خیال کے لیے آئے ہیں اور دوحہ میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی اعلیٰ سطحی اجلاس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ قطر آبنائے ہرمز اور جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کے حوالے سے سلطنت عمان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایران کے۶؍ارب ڈالر کے منجمد اثاثے ابھی تہران منتقل نہیں ہوئے ہیں اور یہ ۲۰۲۳ء کے معاہدے کے تحت ہیں اور صرف انسانی ضروریات کی اشیاء کی خریداری کے لیے مختص ہیں۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات سے متعلق تازہ ترین پیش رفت میں یہ طے پایا تھا کہ ایران اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیمیں منگل کو دوحہ پہنچیں گی، اگرچہ تہران نے فریقین کے درمیان ملاقات کیلئے کسی تاریخ کے تعین کی تردید کی ہے۔ویب سائٹ ایکسیوس نے وہائٹ ہاؤس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکو ف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر منگل کو دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ممکنہ معاہدے پر تبادلہ خیال کریں گے۔وٹکوف اور کشنر قطری قیادت کے دیگر نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقاتوں کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ امریکی اور ایرانی وفود آج بدھ کے روز قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کریں گے۔
یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے کے مرکز میں آنے کے تناظر میں ہو رہا ہے جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کے تحفظ اور جوہری مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کیلئے۶۰؍ دن کی مہلت کے باوجود معاہدے کی خلاف ورزی کے دونوں جانب سے لگائے جارہے الزامات سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہےکہ اور خطے کے دوبارہ تصادم کے دائرے میںآنے کا اندیشہ ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی کہ دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والی ملاقات اہم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی بعد میں اس بارے میں جان جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے پیدائشی شہریت ختم کرنے کے حکم نامے کو مسترد کردیا
ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے ہی ملاقات کی درخواست کی تھی اور اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی وفد قطر جانے کے لیے تیار ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک ٹویٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ ایران مفاہمت کی یادداشت کے مطابق اپنے وعدوں کو پورا کرے گا بشرطیکہ امریکہ بھی ان کی پابندی کرے۔پزشکیان نے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیوں کے سامنے ایران کا طریقہ کار عقلیت اور عمل درآمد کے وقت فیصلہ کن دفاع پر مبنی ہے۔ایران نے اس سے قبل تکنیکی سطح پر امریکیوں کے ساتھ بات چیت کے منصوبوں کی تردید کی تھی اور اپنی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی زبان سے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایک ماہر وفد اس ہفتے کے آخر میں دوحہ جائے گا تاکہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ایران آبنائے ہرمز میں اپنے طے کردہ راستوں کو مسلط کرنے پر بھی اٹل ہے جبکہ اس سے قبل واشنگٹن کی جانب سے عمانی ساحلوں کے ساتھ طے کردہ جنوبی راستے پر روانی دیکھی گئی تھی۔اس تناظر میں ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں ان جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈال چکا ہے اور ڈالے گا جو تہران کے طے کردہ راستوں کی پابندی نہیں کرتے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے عمانی فریق کو مطلع کر دیا ہے کہ آبنائے میں گزرگاہوں کا ازسرنو تعین ضروری ہے اور کاظم آبادی کے مطابق ان نئے راستوں کے بارے میں دو طرفہ انتظامات طے کرنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان تکنیکی بات چیت ہونی چاہئے۔