Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہوا؛ سونم وانگچک نے الزامات مسترد کئے، احتجاج میں مزید شدت

Updated: July 25, 2026, 2:03 PM IST | New delhi

NEET کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف جاری احتجاج کے دوران سماجی کارکن سونم وانگچک نے حکومت سے کسی خفیہ معاہدے یا سمجھوتے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ دوسری جانب سیکوریٹی خدشات کے پیش نظر دہلی میٹرو نے ۱۸؍ اسٹیشن عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جبکہ قومی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات برقرار ہیں۔

Sonam Wangchuk. Photo: INN
سونم وانگچک۔ تصویر: آئی این این

NEET کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے درمیان سماجی کارکن سونم وانگچک نے حکومت سے کسی بھی قسم کے خفیہ معاہدے یا سمجھوتے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ۲۶؍ روزہ بھوک ہڑتال صرف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی سلامتی اور تحریک کو پرامن رکھنے کے لیے ختم کی۔ اپنے ویڈیو پیغام میں وانگچک نے کہا، ’’اگر مجھے حکومت سے کوئی معاہدہ ہی کرنا ہوتا تو میں ۲۶؍ دن تک بھوک ہڑتال کیوں کرتا؟ کیا اب مجھے اپنی نیت ثابت کرنے کے لیے بھی سرٹیفکیٹ دینا پڑے گا؟‘‘ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے ان کا مکمل پیغام سنیں۔ 

وانگچک نے واضح کیا کہ ان کا فیصلہ کسی سیاسی سمجھوتے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس خدشے کے باعث تھا کہ اگر احتجاج جاری رہا تو طلبہ اور مظاہرین کے خلاف مزید قانونی کارروائیاں، ایف آئی آرز یا سخت اقدامات ہو سکتے تھے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے امتحانی اصلاحات اور مظاہرین کے تحفظ سے متعلق تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کی، تاہم تحریک اور اصلاحات کا مطالبہ بدستور جاری رہے گا۔ ادھر احتجاج کے باعث قومی دارالحکومت میں سیکوریٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) نے ۱۸؍ میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ بعض اہم جنکشن اسٹیشنوں پر صرف انٹرچینج سہولت برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ مسافروں کو متبادل سفری منصوبہ بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر: پولیس کانسٹیبل نے وردی میں ’’استعفیٰ‘‘ دے دیا، اتراکھنڈ پولیس نے کہا: وہ پہلے ہی معطل تھا

اسی دوران وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ انسٹاگرام ویڈیو پر نوجوانوں کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ نوجوانوں نے تعمیری آرا پیش کیں اور حکومت امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے ان تجاویز پر توجہ دے رہی ہے۔ یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب NEET پرچہ لیک کا معاملہ ملک بھر میں سیاسی اور عوامی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اگرچہ وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، لیکن احتجاجی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ ان کی مہم جاری رہے گی اور وہ امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی جوابدہی کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK