• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلم ’نازا‘ کی نمائش کے بعد اسرائیل سے متعلق امریکی رائے۵۰؍ برس کی کم ترین سطح پر

Updated: October 09, 2026, 7:02 PM IST | Washington

شکاگو کونسل کے نئے سروے کے مطابق اسرائیل کے بارے میں امریکی عوام کی پسندیدگی کا اسکور ۴۴؍ پوائنٹس پر آگیا ہے، جو ۱۹۷۴ء کے بعد سب سے کم ہے۔ ۵۶؍ فیصد امریکیوں نے اسرائیل کیلئے امریکی فوجی امداد کم یا بند کرنے کی حمایت کی ہے۔

Makers of the film `Naza`. Photo: X
فلم ’نازا‘ کے تخلیق کار۔ تصویر: ایکس

ایک نئے سروے کے مطابق اسرائیل کے بارے میں امریکی عوام کی رائے تقریباً ۵۰؍ برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ’’نازا‘‘ (NAZA) نامی دستاویزی فلم امریکی سنیما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔ فلم میں اسرائیل پر غزہ میں شہریوں کو مبینہ طور پر بے دریغ قتل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی نئی تحقیق کے مطابق، اسرائیل کے بارے میں امریکی عوام نے ’پسندیدگی تھرمامیٹر‘ پر ۴۴؍ پوائنٹس کی درجہ بندی کی ہے۔ اس پیمانے پر صفر انتہائی منفی جبکہ ۱۰۰؍ انتہائی مثبت رائے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ۱۹۷۴ء سے امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق عوامی رائے کا جائزہ لینے والی غیر جانب دار تنظیم کے ریکارڈ میں اسرائیل کی اب تک کی سب سے کم درجہ بندی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو نے اکتوبر حملے کی وارننگ میں اپنے مفاد کے مطابق ہیرا پھیری کی

سروے کے مطابق اسرائیل کے بارے میں پسندیدگی میں ڈیموکریٹس، ریپبلکنز اور آزاد ووٹرز، تینوں سیاسی گروہوں میں کمی آئی ہے۔ نصف سے زائد امریکیوں نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کم کرنے یا بند کرنے کی حمایت کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ ۹؍ اکتوبر کو آسٹن، شکاگو، لاس اینجلس اور سیئٹل کے سنیما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جائے گی۔ فلم میں عائد الزامات پر پہلے ہی شدید تنازع پیدا ہوچکا ہے، جنہیں اسرائیل سختی سے مسترد کرتا ہے۔ نیویارک میں اس کی نمائش پہلے ہی شروع ہوچکی ہے۔ دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ کو ’دی گارجین‘ نے تیار کیا ہے اور اس کا کوئی روایتی فلم ڈسٹری بیوٹر نہیں ہے۔ امریکی اور دیگر ممالک میں اس کی نمائش آزاد فلم اسٹوڈیو ’’ایم کے ٹو‘‘ (mk2) کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ فلم کے پروڈیوسر کے مطابق اس میں اسرائیلی انٹیلی جنس اور فوج کے ۲۴؍ ارکان کے گمنام انٹرویوز کی بنیاد پر ’’غزہ میں فلسطینی شہریوں کے منظم قتل کے پیچھے موجود نظام‘‘ کو سامنے لایا گیا ہے۔ اس کے مندرجات پر اسرائیل اور امریکہ میں اسرائیل کے حامی گروہوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے ان الزامات کو ’’مکمل طور پر مسترد‘‘ کیا۔ آئی ڈی ایف نے فلم کے ذرائع پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس میں ’’ناقابلِ یقین تضادات‘‘ موجود ہیں۔ ’نیوز ویک‘ نے تبصرے کیلئے واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے اور ’’نازا‘‘ کے فلم سازوں یووال ابراہم اور ریچل سور سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوئی ہے: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز

اسرائیل کے بارے میں امریکی رائے کی ریکارڈ کم ترین سطح

شکاگو کونسل کی جانب سے اسرائیل کیلئے مقرر کردہ مجموعی اسکور ۴۴؍ ہے، جو تنظیم کی تاریخ میں سب سے کم ہے۔ اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے میں ۲۰۲۲ء سے مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جب یہ اسکور ۵۸؍ تھا۔ یہ تبدیلی تمام سیاسی گروہوں میں دیکھی گئی، تاہم ڈیموکریٹس میں کمی سب سے زیادہ نمایاں رہی۔ ۲۰۲۲ء میں ڈیموکریٹس کے درمیان اسرائیل کا اوسط اسکور ۵۲؍ تھا، جو رواں سال کم ہوکر ۳۰؍ رہ گیا۔ ریپبلکنز میں یہ اسکور ۶۹؍ سے کم ہوکر ۶۲؍ جبکہ آزاد ووٹرز میں ۵۶؍ سے گھٹ کر ۴۱؍ ہوگیا۔ اسرائیل کے بارے میں پسندیدگی کے معاملے میں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان موجودہ ۳۲؍ پوائنٹس کا فرق بھی اب تک کا سب سے زیادہ ہے۔ تاہم ایک ہی سیاسی جماعت کے اندر بھی مختلف گروہوں کے درمیان فرق موجود ہے۔ ’میگا‘ ریپبلکنز میں اسرائیل کے بارے میں پسندیدگی کا اسکور ۶۷؍ ہے، جبکہ غیر ’میگا‘ ریپبلکنز میں یہ ۵۵؍ ہے۔ اسی طرح خود کو لبرل قرار دینے والے ڈیموکریٹس اسرائیل کو ۲۷؍ پوائنٹس دیتے ہیں، جبکہ معتدل ڈیموکریٹس کا اسکور ۳۴؍ ہے۔ پہلی مرتبہ ۵۰؍ فیصد سے زیادہ امریکیوں کا خیال ہے کہ واشنگٹن کو اسرائیل کیلئے امریکی فوجی امداد کم یا بند کر دینی چاہئے۔ ایسے لوگوں کی تعداد ۲۰۲۲ء میں ۳۸؍ فیصد تھی، جو اب بڑھ کر ۵۶؍ فیصد ہوگئی ہے۔ شکاگو کونسل نے رواں سال ۱۰؍ سے ۲۱؍ جولائی کے درمیان ۲؍ ہزار ۱۵۶؍ بالغ افراد کا سروے کیا۔ سروے میں غلطی کی گنجائش پلس یا مائنس ۲ء۲؍ فیصد بتائی گئی ہے۔

رائے میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟

رپورٹ کی مصنفہ اور کونسل کی مینیجنگ ڈائریکٹر و چیئر برائے عوامی رائے اور خارجہ پالیسی دینا اسمیلٹز اور ریسرچ ایسوسی ایٹ لاما الباز کے مطابق ’’اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ، امریکی حکومت کی اس جنگ کیلئے حمایت، نیز ایران کے خلاف مشترکہ امریکی اسرائیلی جنگ‘‘ نے مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کے اہم اتحادیوں میں سے ایک کے بارے میں امریکی عوام کے تاثر کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات کے حوالے سے پہلے موجود دو جماعتی عوامی اتفاقِ رائے اب سیاسی بنیادوں پر گہری تقسیم کا شکار ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کیلئے امریکی حمایت جاری رکھنے سے متعلق جاری بحث کچھ ووٹرز کیلئے آئندہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور وقت کے ساتھ اس دیرینہ امریکی اتحادی کے بارے میں مستقبل کی امریکی پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے میں ایک فلسطینی شہید،۱۶؍افراد زخمی

اسرائیل اور اس کے حامی طویل عرصے سے منفی عوامی رائے کی وجہ کو گمراہ کن معلومات سے جوڑتے رہے ہیں۔ امریکہ میں یہودی مخالف تعصب کے خلاف کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ’اینٹی ڈیفیمیشن لیگ‘ (ADL) اسرائیل سے متعلق رپورٹس میں نامکمل معلومات، یہودیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کے رجحان، دقیانوسی تصورات اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کو حد سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرنے سے خبردار کرتی ہے۔ آئی ڈی ایف نے ’’نازا‘‘ فلم کے جواب میں بھی اسی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دستاویزی فلم میں پیش کی گئی معلومات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی اور ان میں ضروری پس منظر موجود نہیں ہے۔

فلم ’’نازا‘‘ کے بارے میں کیا جاننا ضروری ہے؟

دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ کا پہلا پریمیئر ۱۰؍ ستمبر کو ۸۳؍ ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا، جہاں اسے فیسٹیول کا اسپیشل جیوری پرائز دیا گیا۔ اس کے بعد ۲۶؍ ستمبر کو نیویارک فلم فیسٹیول میں لنکن سینٹر کے ایلس ٹولی ہال میں اس کی نمائش ہوئی۔ یہ دستاویزی فلم اسرائیل اور فلسطین کے مشترکہ پلیٹ فارم ’پلس ۹۷۲ میگزین‘، عبرانی زبان کے ’لوکل کال‘ اور ’دی گارجین‘ میں ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران شائع ہونے والی تحقیقات پر مبنی ہے۔ فلم ساز یووال ابراہم اور ریچل سور کا کہنا ہے کہ فلم میں ایسے افسران اور فوجیوں کی گواہیاں شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر نگرانی کی، یہ اندازہ لگایا کہ ہر گھر میں کتنے بے گناہ افراد کے مارے جانے کا امکان ہے اور متعدد مرتبہ پورے خاندانوں کو بمباری کا ہدف بنانے کی اجازت دی۔ دونوں فلم سازوں نے ’پلس ۹۷۲ میگزین‘ کیلئے لکھا کہ ان گواہیوں سے ان کا اخذ کردہ نتیجہ واضح ہے کہ غزہ میں فلسطینی شہریوں کا بڑے پیمانے پر قتل حماس کے خلاف جنگ کا کوئی ’’المناک ضمنی نتیجہ‘‘ نہیں تھا، بلکہ یہ مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ، سوچا سمجھا اور دانستہ عمل تھا۔

فلم میں یہ الزامات بھی شامل ہیں کہ اسرائیلی فوج نے مصنوعی ذہانت کے ایسے ٹولز استعمال کیے جو شہری ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ لگا سکتے تھے اور اس کے باوجود ان کارروائیوں کو انجام دیا گیا۔ آئی ڈی ایف نے اس الزام پر براہ راست ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کارروائیوں میں اہداف کے انتخاب اور حملوں کی منظوری سے متعلق فیصلے صرف انسانی اہلکار کرتے ہیں اور یہ کام آئی ڈی ایف کی ہدایات کے مطابق کیا جاتا ہے، مصنوعی ذہانت کے ذریعے نہیں۔

آئی ڈی ایف کا فلم ’’نازا‘‘ کے خلاف مؤقف

آئی ڈی ایف نے کہا کہ فلم ایسے گمنام افراد کی گواہیوں پر انحصار کرتی ہے جن کی شناخت کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ انہوں نے آئی ڈی ایف میں خدمات انجام دی تھیں یا نہیں، کس حیثیت سے کام کیا تھا یا جن معاملات کے بارے میں الزامات عائد کیے گئے، ان میں وہ شامل تھے بھی یا نہیں۔ آئی ڈی ایف کے مطابق فوجیوں سے منسوب بعض دعوے درست نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں قومی اور فوجی حکمتِ عملی سے متعلق ایسی معلومات شامل ہیں جو جونیئر سطح کے فوجیوں کے علم سے واضح طور پر باہر ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کیلئے کارروائیاں کر رہی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور جنگی قوانین کے مطابق اپنی فوجی سرگرمیوں کا رخ دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً حماس، کے خلاف رکھتی ہے۔ اس کے مطابق آئی ڈی ایف فوجی اہداف کو نشانہ بناتی ہے اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کیلئے غیر معمولی کوششیں کرتی ہے۔ آئی ڈی ایف نے مزید الزام عائد کیا کہ حماس منظم انداز میں شہری ماحول کے اندر سرگرم ہے، اپنے ارکان اور فوجی تنصیبات کو آبادی کے درمیان قائم کرتی ہے اور دہشت گردی کے مقاصد کیلئے شہری علاقوں کا استعمال کرتی ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا کہ جب کسی آئی ڈی ایف فوجی کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کا شبہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو آزادانہ قانونی نظام کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔ فوجی احکامات کے تحت کسی خلاف ورزی کا مشاہدہ کرنے والے فوجی کیلئے اسے رپورٹ کرنا ضروری ہے تاکہ تحقیقات شروع کرنے کی ضرورت کا جائزہ لیا جاسکے۔ فوج نے کہا کہ یہ اصول ان افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے جن کے انٹرویوز فلم میں شامل کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مصرکے صدرعبدالفتاح السیسی کے دورۂ جنوبی کوریا کا آغاز

 مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق الزامات پر آئی ڈی ایف نے دوبارہ کہا کہ فوج میں حملوں کے انتخاب اور منظوری سے متعلق فیصلے صرف انسانی اہلکار کرتے ہیں اور یہ عمل آئی ڈی ایف کی ہدایات کے مطابق ہوتا ہے، مصنوعی ذہانت کے ذریعے نہیں۔ امریکن اسرائیلی کونسل سمیت امریکہ میں اسرائیل کے حامی کئی دیگر گروہوں نے بھی فلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور فلم کی نمائش کے مقامات کے باہر احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے۔ کیلیفورنیا کے اسمتھ رافیل فلم سینٹر کے باہر منگل کو احتجاج کیلئے جاری ایک اپیل میں حامیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فلم کے بیانیے کو چیلنج کرنے اور ’’۷؍ اکتوبر کی حقیقت کو فراموش نہ ہونے دینے‘‘ کیلئے جمع ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK