• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مجھےامن کا نوبیل انعام ملنا چاہئے: ٹرمپ نے اپنا دعویٰ دہرایا

Updated: October 08, 2026, 9:01 PM IST | Oslo

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے۲۰۲۶ء کے اعلان سے قبل نوبیل امن انعام کے دعوے کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ انعام ملنا چاہئے، لیکن اپنے امکانات کے بارے میں شک کا اعتراف کیا،ایوارڈ کا اعلان۹؍ اکتوبر کو کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے بارہا اس انعام کے لیے مہم چلائی ہے، جبکہ نارویجین نوبیل کمیٹی نامزدگی کی تفصیلات۵۰؍ سالوں سے خفیہ رکھتی آئی ہے۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ۲۰۲۶ء کے نوبیل امن انعام کے مستحق ہیں لیکن اپنے امکانات کے بارے میں شک کا اعتراف کیا۔ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے، ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے باوقار ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ گزشتہ سال، وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو نے نوبیل انعام جیتا تھا لیکن انہوں نے وینزویلا میں اپنی کوششوں کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ کو میڈل دیا تھا۔ جبکہ کمبوڈیا، اسرائیل اور پاکستان کے لیڈروں کی طرف سے ٹرمپ نامزد ہونے کے باوجود وہ گزشتہ سال نہیں جیت سکے۔
بعد ازاں ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا، ’’اس کا وقت آگیا ہے۔لیکن مجھے گزشتہ بار بالواسطہ طور پر وصول کنندہ کی طرف سے اسے حاصل کرنے پر بہت فخر ہوا، جس نے کہا کہ تاریخ میں کوئی بھی صدر ٹرمپ سے زیادہ اس کا مستحق نہیں ہے۔‘‘ ٹرمپ نے۲۰۲۶ء کے ایوارڈ کے بارے میں کہامجھے نہیں معلوم کہ ان کا فیصلہ کیا ہونے والا ہے۔ وہ شاید میرے جیسے لوگوں کو یہ نہیں دیتے۔‘‘ جبکہ اس کا اعلان نارویجین نوبیل کمیٹی جمعہ کو کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے: وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے: ٹرمپ

واضح رہے کہ ٹرمپ کا نوبیل امن انعام کے لیے جنون کوئی نئی کہانی نہیں ہے، ان سے پہلے چار امریکی صدور نے بھی اسے حاصل کیا تھا۔ چار امریکی صدور - تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر اور باراک اوباما نے یہ باوقار انعام حاصل کیا۔ ایک نائب صدر ال گور نے بھی یہ انعام حاصل کیا۔تاہم گزشتہ سال، جب نوبل امن انعام کا اعلان کیا گیا، وہائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن اسٹیون شیونگ نے کہا، ’’نوبیل کمیٹی نے ثابت کیا کہ وہ امن پر سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ مزید برآں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے اتحادی، بشمول اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سب ان کے جیتنے کے لیے دعا کر رہے تھے کیونکہ امریکی صدر نے آٹھ جنگیں روک دی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ،’’صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، جنگیں ختم کرتے رہیں گے، اور جانیں بچاتے رہیں گے۔ ان کا دل ایک انسان دوست کا ہے، اور ان جیسا کوئی کبھی نہیں ہوگا جو اپنی مرضی کی سراسر قوت سے پہاڑوں کو ہلا سکے۔ نوبیل کمیٹی نے ثابت کیا کہ وہ امن پر سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ڈیل کیلئے ’بڑی پیش رفت‘ کا دعویٰ، بصورتِ دیگر ’ناخوشگوار راستے‘ کی تنبیہ

واضح رہے کہ نوبیل انعام کے لیے نامزدگی، ایوارڈ باڈی کی جانب سے توثیق نہیں ہے۔ مزید برآں، اس بات کی تصدیق کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آیا کسی کو نامزد کیا گیا ہے۔ نوبیل فاؤنڈیشن کے قوانین کے مطابق، نامزدگی کے تمام ریکارڈز، بشمول نامزد افراد کے نام، نامزد کرنے والے، اور متعلقہ تشخیصی رپورٹس - غیر جانبداری، آزادی کو یقینی بنانے اور سیاسی دباؤ سے بچنے کے لیے۵۰؍ سال تک سختی سے سیل کیے جاتے ہیں۔ باڈی نے جمعرات کو یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا ٹرمپ کو نامزد کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK