Updated: July 24, 2026, 6:47 PM IST
| Mumbai
۲۵ سالہ نارویجن اسٹرائیکر، جنہوں نے تقریباً یقینی طور پر کبھی نیٖٹ امتحان کے بارے میں نہیں سنا ہوگا، اور ہندوستانی طلبہ کے احتجاج کے درمیان تعلق بظاہر مضحکہ خیز ہے۔ لیکن یہ دونوں کے درمیان پھیلے ہوئے ایک مشترکہ دھاگے کی عکاسی کرتا ہے: جین زی (Gen Z) کا انٹرنیٹ کلچر۔ ہالینڈ کا سنجیدہ چہرہ، ان کے میم مٹیریل بننے کی صلاحیت اور مداحوں کے ساتھ مشغولیت نے انہیں اس نسل کی آن لائن دنیا کا ایک نمایاں کردار بنا دیا ہے۔
ارلنگ ہالینڈ۔ تصویر: ایکس
نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے ملک گیر احتجاج نے سوشل میڈیا پر ایک غیر متوقع موڑ لے لیا ہے۔ تازہ پیش رفت میں ناروے کے فٹبال کھلاڑی ارلنگ ہالینڈ، تعلیمی بحران کے مسئلے پر جین زی کے غیر متوقع ترجمان بن کر سامنے آئے ہیں۔ فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اپنے شاندار سفر کے فوراً بعد، ہالینڈ گزشتہ دو ہفتوں سے انٹرنیٹ کے ”پیپلز پرنسس“ (عوام کے شہزادے) کے طور پر پیش کئے جا رہے ہیں۔ میمز کی دنیا کے اس لقب نے اب انہیں، کم از کم وائرل کہانیوں کی حد تک، ملک میں برسوں کی سب سے بڑی طلبہ تحریک کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لاکھوں طلبہ سڑکوں پر، لاکھوں سوشل میڈیا پر؛ ریلز، شارٹس، میمز سے بی جے پی حکومت گھیرے میں
سوشل میڈیا پر ارلنگ ہالینڈ سے جڑے اس ٹرینڈ کا آغاز بدھ کو ہوا جب انسٹاگرام اکاؤنٹ truesamanvay@ نے پوسٹ کیا: ”میرا نام نریندر مودی ہے۔ اگر ہالینڈ اس پوسٹ کا جواب دیتے ہیں تو میں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لے لوں گا۔“ صارفین کو یہ میم آئیڈیا پسند آیا اور یہ پوسٹ وائرل ہوگئی جس کے بعد اس پوسٹ پر چند ہی گھنٹوں میں چھ ہزار سے زائد تبصرے آگئے۔ دو دن قبل کی اس پوسٹ پر اب تک ۱۰ ہزار سے زائد افراد نے کمنٹ کیا ہے اور ایک لاکھ ۲۷ ہزار افراد نے اسے لائک کیا ہے۔ اس پوسٹ کی بنیاد، انسٹاگرام صارفین کے اس یقین پر ٹکی ہوئی ہے کہ ہالینڈ اپنی عالمی شہرت کے باوجود باقاعدگی سے کمنٹس سیکشن میں مداحوں کو جواب دیتے ہیں، اس طرح وہ نظریاتی طور پر اس وزیر (دھرمیندر پردھان) سے زیادہ قابلِ رسائی بن جاتے ہیں جس کے استعفیٰ کا مطالبہ طلبہ ہفتوں سے کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر احتجاج: فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز بھی انسان دوستی کی علامت بن گئے
۲۵ سالہ نارویجن اسٹرائیکر، جنہوں نے تقریباً یقینی طور پر کبھی نیٹ کے بارے میں نہیں سنا ہوگا، اور ہندوستانی طلبہ کے احتجاج کے درمیان تعلق بظاہر مضحکہ خیز ہے۔ لیکن یہ دونوں کے درمیان پھیلے ہوئے ایک مشترکہ دھاگے کی عکاسی کرتا ہے: جین زی (Gen Z) کا انٹرنیٹ کلچر۔ ہالینڈ کا سنجیدہ چہرہ، میم مٹیریل بننے کی صلاحیت اور مداحوں کے ساتھ مشغولیت نے انہیں جین زی کی آن لائن دنیا کا ایک نمایاں کردار بنا دیا ہے۔ واضح رہے کہ جین زی نعروں اور تقریروں کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام ریلز، وائرل ایڈٹس اور طنز و مزاح کے علامتوں کے ذریعے نیٹ پیپر لیک کے خلاف اس احتجاج کو چلا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سی جے پی احتجاج: انٹرنیٹ بندش کے باوجود رابطہ، آف لائن میسجنگ ایپس کی تحقیقات
سوشل میڈیا پر صارفین کا ردِعمل
سوشل میڈیا پر جاری اس ٹرینڈ پر صارفین کا زبردست ردعمل سامنے آرہا ہے۔ وائرل پوسٹ کے نیچے ایک صارف نے لکھا، ”ایک ملک کی مدد کر دو۔“ ایک اور نے تبصرہ کیا: ”بھائی سچ کہوں تو پردھان کے استعفیٰ دینے سے ۱۰۰ گنا زیادہ امکانات ہالینڈ کے تبصرہ کرنے کے ہیں۔“ کامیڈین انیربن داس گپتا نے لکھا: ”ارلنگ، اگر تم نے اس پر ہَیڈ (goal) کر دیا تو یہ اس سیزن کا بہترین گول ہوگا۔“ دیگر لوگوں نے میم ایڈٹس بنائے جن میں مبینہ طور پر طلبہ کے مطالبات کو نظر انداز کرنے پر وزیرِ اعظم مودی کا مذاق اڑایا گیا۔ ایک صارف کے بقول، ”اس پورے معاملے کا لبِ لباب یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈروں، اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے حکومت کو جواب دہی پر مجبور کرنے میں ناکامی کے بعد، آخری امید ایک نارویجین فٹ بالر کا تھمبس اپ (thumbs-up) ایموجی کے ساتھ جواب دینا ہو سکتا ہے۔“