Updated: August 25, 2026, 6:01 PM IST
| Mumbai
ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (FSSAI) کی جانب سے گمراہ کن صحت، غذائیت، تجارتی اور مصنوعات سے متعلق دعوؤں پر نوٹس جاری کیے جانے کے بعد کئی فوڈ کمپنیوں نے اصلاحی اقدامات کیے ہیں۔ کمپنیوں نے صارفین کو گمراہ کرنے والے دعوے ہٹانے، اشتہارات واپس لینے، آن لائن پلیٹ فارمز سے مصنوعات کی فہرستیں ہٹانے اور پیکیجنگ میں تبدیلی جیسے اقدامات کیے ہیں۔
ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (FSSAI) کی جانب سے گمراہ کن صحت، غذائیت، تجارتی اور مصنوعات سے متعلق دعوؤں پر نوٹس جاری کیے جانے کے بعد کئی فوڈ کمپنیوں نے اصلاحی اقدامات کیے ہیں۔ کمپنیوں نے صارفین کو گمراہ کرنے والے دعوے ہٹانے، اشتہارات واپس لینے، آن لائن پلیٹ فارمز سے مصنوعات کی فہرستیں ہٹانے اور پیکیجنگ میں تبدیلی جیسے اقدامات کیے ہیں۔
ایف ایس ایس اے آئی نے واضح کیا کہ فوڈ مصنوعات کے لیبل اور تشہیری مواد میں ایسے دعوے نہیں ہونے چاہئیں جو صارفین کو گمراہ کریں۔ ریگولیٹر کے مطابق نوٹس جاری ہونے کے بعد متعدد فوڈ بزنس آپریٹرز نے فوری طورپر اپنی مصنوعات اور مارکیٹنگ مواد میں ضروری تبدیلیاں کیں۔مونڈلز انڈیا فوڈس پرائیویٹ لمیٹڈ کی کچھ مصنوعات پر صحت اور غذائیت سے متعلق گمراہ کن تقابلی دعوے پائے گئے تھے۔ ایف ایس ایس اے آئی کا نوٹس ملنے کے بعد کمپنی نے متعلقہ دعوے اور اشتہارات ای کامرس پلیٹ فارمز سے ہٹا دیے اور ضوابط کے مطابق ضروری ترامیم کیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے کنیڈاپر یکم جنوری سے نئی ۵۰؍ فیصد آٹو ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا
سپینس لیبز کو بھی ایک گمراہ کن دعوے کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ کمپنی نے ایف ایس ایس اے آئی کو جواب دیتے ہوئے اپنی مصنوعات سے متعلق تمام متعلقہ دعوے اور تشہیری مواد واپس لے لیا۔ ایک اور معاملے میں وچی ایگرو پروڈکٹس پرائیویٹ کی جانب سے مارکیٹ کی جانے والی اورمرسزجانکی جے باروٹ/جے جے کی جانب سے تیار و پیک کی جانے والی مصنوعات پر مبینہ طور پر گمراہ کن تجارتی نام استعمال کیا جا رہا تھا۔
ایف ایس ایس اے آئی کی مداخلت کے بعد فلپکارٹ سے جواب موصول ہوا اور متعلقہ مصنوعات کو اس کے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ ایف ایس ایس اے آئی نے ایموے انڈیا پرائیویٹ انٹرپرائزیز لمیٹڈ کے خلاف بھی کارروائی کی۔ کمپنی اپنی ایک مصنوعات ۱۰۰؍ فیصد ناریل کا تیل کے نام میں ۱۰۰؍فیصد کا استعمال کر رہی تھی۔ ریگولیٹر کے مطابق یہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ ۲۰۰۶ء، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (Advertising and Claims) Regulations, 2018 اور فوڈ مصنوعات کے لیبل و تشہیری مواد میں صدفیصد جیسے الفاظ کے استعمال سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی تھی۔ نوٹس کے بعد ایم وے انڈیا نے اپنی تعمیلی رپورٹ جمع کرائی اور تصدیق کی کہ اس نے رضاکارانہ طور پر اپنی مصنوعات کی پیکیجنگ اور تشہیری مواد سے صدفیصد کا لفظ ہٹا دیا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ پرانے اسٹاک کی فروخت روک دی گئی ہے اور نئی پیکیجنگ کے ساتھ مصنوعات مارکیٹ میں لائی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان مزید ۹؍ تجارتی معاہدوں کیلئے کوشاں
ایف ایس ایس اے آئی کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی کا مقصد صرف کمپنیوں سے قوانین پر عمل کرانا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ صارفین کو فوڈ مصنوعات کے بارے میں درست، واضح اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کی جائیں۔ریگولیٹر نے واضح کیا کہ گمراہ کن دعووں کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی، تاکہ صارفین کے مفادات کا تحفظ اور فوڈ مارکیٹ میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔