Updated: August 25, 2026, 5:35 PM IST
| New Delhi
امریکی سفیر سرجیو گور کے اس بیان پر کہ ہندوستان نے نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات سے گریز کی درخواست کی تھی، ہندوستانی حکومت نے وضاحت جاری کردی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے غیر متوقع میڈیا رویے کے پیش نظر ملاقات کے دوران میڈیا کوریج کے حوالے سے محتاط طرزِ عمل اختیار کیا گیا، تاہم اس نوعیت کے انتظامات اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقاتوں سے قبل معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔
سرجیو گور۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی حکومت نے امریکی سفیر برائے ہندوستان سرجیو گور کے ان ریمارکس کے بعد وضاحت جاری کردی ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد ہندوستانی فریق نے امریکی انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ مکمل پریس کانفرنس نہ کی جائے اور صحافیوں کو سوالات کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ ہندوستانی حکام نے کہا ہے کہ اعلیٰ سطح کے رہنماؤں کی ملاقاتوں سے قبل میڈیا کوریج اور عوامی ظہور سے متعلق انتظامات پر بات چیت معمول کا سفارتی طریقہ کار ہے، تاہم ٹرمپ کے غیر متوقع رویے کے پیش نظر ہندوستان نے اس معاملے میں محتاط طرزِ عمل اختیار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگائوں : پاپلین کے بعد کاٹن اور پالیسٹر کے کارخانے بھی بند میں شامل
واضح ہو کہ سرجیو گور نے حالیہ دنوں میں ایک تقریب کے دوران بتایا تھا کہ مودی اور ٹرمپ کی فرانس میں ہونے والی ملاقات سے قبل ہندوستانی فریق نے امریکی انتظامیہ سے کہا تھا کہ میڈیا کو مکمل پریس کانفرنس کے لیے نہ بلایا جائے اور سوالات کا سلسلہ نہ ہو۔ گور کے مطابق انہوں نے یہ بات صدر ٹرمپ تک بھی پہنچائی تھی اور ٹرمپ نے بظاہر اس پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم ملاقات کے موقع پر امریکی صدر نے اچانک صحافیوں سے سوالات لینا شروع کردئیے۔ ہندوستانی حکومت کے ذرائع نے پیر کو کہا کہ غیر ملکی وفود جب امریکی صدر سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ ان کے عوامی اور میڈیا سے متعلق غیر متوقع رویے کے پیش نظر محتاط رہتے ہیں۔ حکام نے اس سلسلے میں ٹرمپ کی دیگر عالمی لیڈروں، بالخصوص جنوبی افریقہ اور یوکرین کے صدور کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران سامنے آنے والے رویے کا حوالہ بھی دیا۔ حکومت کے مطابق اسی وجہ سے ہندوستانی فریق نے ملاقات کے میڈیا انتظامات کے حوالے سے محتاط طریقہ اختیار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’آتشزدگی کے قصورواروں کو سخت سزا دی جائے ‘‘
حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ وی وی آئی پی دوروں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں سے پہلے عوامی پروگراموں، میڈیا کی موجودگی اور صحافیوں کے سوالات سے متعلق بنیادی اصول طے کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ان کے مطابق ہندوستانی فریق نے امریکی حکام کو اپنے معمول کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا تھا اور اس کا مقصد کسی خاص شخصیت یا ملک کے لیے غیر معمولی پابندی عائد کرنا نہیں تھا۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات تجارت، سفارت کاری اور عالمی سطح پر تعاون کے حوالے سے مسلسل توجہ کا مرکز ہیں۔ گور نے حالیہ ایک اور تقریب میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مودی اور ٹرمپ کے درمیان ذاتی اعتماد اور تعلقات دوطرفہ شراکت داری کے لیے اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کے اسپتال میں آگ، ۳؍ نوزائیدہ کی موت
ہندوستانی حکومت کی وضاحت سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مودی اور ٹرمپ کی ملاقات میں میڈیا سے متعلق انتظامات کسی سفارتی تنازع کا نتیجہ نہیں بلکہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں اختیار کیے جانے والے معمول کے احتیاطی اقدامات کا حصہ تھے۔ تاہم سرجیو گور کے واضح اور عوامی تبصروں کے بعد یہ معاملہ ہندوستان میں سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔