Inquilab Logo Happiest Places to Work

رام مندر چندہ چوری کی رپورٹنگ کا معاملہ: صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو عبوری تحفظ

Updated: August 25, 2026, 5:59 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے رام مندر چندہ خرد برد کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو گرفتاری سے عبوری تحفظ دیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو ایف آئی آر کی نقل فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت ۷؍ ستمبر کو مقرر کی ہے۔

Journalist Abhishek Upadhyay. Photo: INN
صحافی ابھیشیک اپادھیائے۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے منگل کو صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو گرفتاری سے عبوری تحفظ فراہم کیا۔ اپادھیائے ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ طور پر چندے کی چوری کی خبر سب سے پہلے دی تھی۔ یہ حکم اتر پردیش پولیس کی جانب سے ان کے خلاف درج کئے گئے ایک مقدمے کے سلسلے میں دیا گیا، جس کی رپورٹ قانونی امور کی ویب سائٹ ’بار اینڈ بینچ‘ نے دی ہے۔ ۱۸؍ اگست کو غازی آباد میں مبینہ روڈ ریج کے ایک واقعے کے سلسلے میں اپادھیائے کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ صحافی کا دعویٰ ہے کہ درج مقدمے میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں اور یہ مقدمہ اتر پردیش میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے انہیں ہراساں کرنے کے مقصد سے درج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کے اسپتال میں آگ، ۳؍ نوزائیدہ کی موت

اپادھیائے نے اپنے خلاف درج مقدمے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور ایف آئی آر کی ایک نقل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے وکیل پردیپ رائے نے منگل کو عدالت میں کہا کہ اپادھیائے کا ’ناقابل معافی گناہ‘ یہ تھا کہ انہوں نے رام مندر میں چندے کی مبینہ خرد برد کی خبر دی تھی۔ ’لائیو لا‘ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ان کے موکل نے دیگر معاملات میں بھی بدعنوانی کی خبریں دی ہیں۔ رائے نے مطالبہ کیا کہ اپادھیائے کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات کسی آزاد ایجنسی سے کرائی جائے۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ روڈ ریج کا الزام بے بنیاد ہے اور جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اس بات کو ثابت کر سکتی ہے۔ انہوں نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔ 
چیف جسٹس سوریہ کانت نے زبانی طور پر کہا کہ عدالت کو اس معاملے کی حقیقت کا علم نہیں ہے، تاہم، وہ اپادھیائے کے خدشے کو سمجھ سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے صحافی کو ہدایت دی کہ وہ مقدمہ خارج کرانے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کریں اور انہیں عبوری تحفظ فراہم کر دیا۔ سپریم کورٹ نے پولیس کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اپادھیائے کو ایف آئی آر کی ایک نقل فراہم کرے۔ اس معاملے کی مزید سماعت۷؍ ستمبر کو ہوگی۔ اپادھیائے نے اس عدالتی حکم کو ’سپریم کورٹ کی جانب سے بڑی فتح‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کا کام جاری رہے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا، ’قلم نہ جھکے گا، نہ رکے گا۔‘

یہ بھی پڑھئے: اس کے شواہد نہیں ہیں کہ حجاب مسلمانوں کیلئے لازمی ہے: الہ آباد ہائی کورٹ

اتر پردیش حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) ایودھیا کے رام مندر کیلئے دیئے گئے چندے کی مبینہ خرد برد کی تحقیقات کر رہی ہے۔ 
۲۳؍جون کو اتر پردیش کے محکمہ داخلہ کو پیش کی گئی اپنی ابتدائی رپورٹ میں ایس آئی ٹی نے چندہ گننے والے عملے کے ایسے۷۰؍ واقعات کا ذکر کیا جن میں اہلکاروں نے نوٹوں کی گڈیاں اور کھلی نقد رقم اپنے کپڑوں، جیبوں اور جوتوں میں چھپا لی۔ ’اسکرول‘ نے رپورٹ کی ایک نقل دیکھی ہے۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چندہ گننے کے عمل کے دوران رقم چوری کی گئی اور عملہ معمول کے طور پر نقد رقم اپنے جسم پر چھپا کر باہر لے جاتا رہا، کیونکہ چوری روکنے کیلئے بنائے گئے حفاظتی نظام پر مؤثر طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا ٹرسٹ اور ٹرسٹ کے بینکر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے سنگین کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK