• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

این ایس ای کے آئی پی او نے دھوم مچادی، ۷ء۵؍ گنا زیادہ خریداری

Updated: September 23, 2026, 1:18 PM IST

۱۵؍ہزار ۸۲۳؍کروڑ روپے کے شیئرس کیلئے۹۰؍ ہزار کروڑ کی بولیاں لگیں، جن کو شیئر الاٹ نہیں ہوںگے ان کی رقم آج لوٹائی جائےگی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

نیشنل اسٹاک ایکسچینج آف انڈیا (این ایس ای) کے  جس آئی پی او کا طویل عرصہ سے انتظار تھا اس  اس کی نیلامی کا عمل پیر کومکمل ہوگیا۔۸ء۸۶؍ کروڑ شیئرس کیلئے تقریباً۹۰؍ہزار کروڑ روپے کی بولیاں لگی ہیں۔  ایکسچینج پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق آئی پی او کی مجموعی طور پر تقریباً۷ء۷؍گنا  خریداری ہوئی ہے۔ یعنی جتنے شیئر نہیں ہیں ان سے زیادہ شیئرس کی خریداری کیلئے بولی لگائی گئی ہے۔ منگل کو یہ طے ہوجائےگا کہ جن سرمایہ کاروں کو شیئر ملیں گے۔ جنہیں شیئر نہیں ملیں گےان کی رقم بدھ کو ان کے کھاتوں میں منتقل کردی جائےگی۔  ایک نظر میں دیکھیں تو  ۵۰؍ کروڑ سے زیادہ شیئرس کیلئے بولیاں لگائی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین: سرکاری نشریاتی ادارے کا اسرائیل کی شرکت پر یوروویژن کے بائیکاٹ کا منصوبہ

این ایس ای کے شیئرس کی خریداری پر ایک نظر

این ایس ای کے آئی پی او کیلئے تقریباً۳۸ء۵؍ لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے حصے میں۶ء۵۵؍ گنا جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے حصے  میں تقریباً۱ء۴؍ گنا خریداری ہوئی ہے۔ ملازمین کیلئے مختص حصے میںتقریباً۲ء۴؍گنا سبسکرپشن  ہوئی ہے۔ اہل (کوالیفائڈ)   ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) نے طلب میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کیلئےمختص حصے  میں ۱۲ء۶۸؍ گنا  خریداری ہوئی ہے۔ کیو آئی بی نے تقریباً۳۱ء۹۷؍ کروڑ شیئرس کیلئے بولیاں لگائیں  جبکہ اس زمرہ کیلئے تقریباً۲ء۵۲؍ کروڑ شیئر مختص  کئے گئے تھے۔

شیئرس کی قیمت کیا رہی

جب آئی پی او کا اعلان کیا گیا تھا، اس وقت فی شیئر قیمت  ایک ہزار ۷۸۵؍  روپے  طے کی گئی تھی اور ان شیئرس پر بولی لگا کر خریدنے کیلئے  بالائی حد تقریباً۲۲؍ہزار ۵۶۲؍کروڑ روپے لگائی گئی تھی۔ حتمی پیشکش میں تقریباً۷ء۸۶؍کروڑ شیئر شامل تھے۔  اس طرح تمام شیئرس کی بالائی قیمت پر فروخت کی صورت میں بھی کل مالیت ۱۵؍ہزار ۸۲۳؍ کروڑ روپے بنتی ہے۔این ایس ای نے فی شیئر قیمت کی حدایک ہزار ۷۰۰؍ سے ایک ہزار ۷۸۵؍روپے مقرر کی تھی۔ اس قیمت کی بالائی حد پر ایکسچینج کی قدر تقریباً۴ء۴۲؍لاکھ کروڑ روپے تک پہنچتی ہے۔ آئی پی او مکمل طور پر شیئرس کی فروخت کی پیشکش (او ایف ایس) پر مشتمل ہے۔  یعنی فروخت  سے حاصل ہونے والی رقم این ایس ای کو نہیں بلکہ  ان کو ملے گی جنہوں  نے اپنے شیئرس فروخت  کیلئے پیش کئے۔

یہ بھی پڑھئے: اورنگ آباد: ایک ہی علاقہ کی ۳؍ لڑکیاں لاپتہ، والدین میں تشویش

کن کن شیئر ہولڈرس کے شیئر فروخت ہوئے

شیئرفروخت کرنے والے شیئر ہولڈرس میں  اسٹیٹ بینک آف انڈیا، ایس بی آئی کیپٹل مارکیٹس، بینک آف بڑودہ اور اسٹاک ہولڈنگ کارپوریشن آف انڈیا شامل ہیں۔ اس لسٹنگ کے ساتھ ایکسچینج کی جانب سے عوامی مارکیٹ میں داخل ہونے کی طویل عرصے سے زیرِ التوا کوشش مکمل ہوگئی ہے۔ این ایس ای۲۰۱۶ءسے اپنی لسٹنگ کی کوشش کر رہا تھا۔اس وقت  اس نے پہلی مرتبہ آئی پی او کے کاغذات جمع کیے تھے، تاہم ضابطہ کار سے متعلق کارروائیوں کے باعث یہ عمل رکا رہا۔

این ایس ای کے شیئروں کی بی ایس ای پر۲۴؍ستمبر کو لسٹنگ متوقع ہے۔ اس لسٹنگ کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ملک کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج میں براہِ راست ملکیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا، جس کی کیپٹل مارکیٹ کے کئی شعبوں میں مضبوط پوزیشن ہے۔

’آئی پی او ‘اور’ اوایف ایس ‘کو سمجھیں

جب کوئی کمپنی پہلی مرتبہ اپنے شیئر عام لوگوں اور سرمایہ کاروں کو خریدنے کیلئے پیش کرتی ہے تو اسے آئی پی او کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے کمپنی اسٹاک ایکسچینج پر مندرج  ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کیلئے کمپنی نئے شیئر جاری کرتی ہے۔ او ایف ایس ’’آفر فار سیل‘‘ میں  پہلے سے موجود شیئرس  فروخت کیلئے پیشکش  کئے جاتے ہیں۔ اس میں کمپنی کے موجودہ شیئر ہولڈر اپنے پاس موجود شیئر عوام یا سرمایہ کاروں کو فروخت کرتے ہیں۔ اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم عام طور پر کمپنی کے بجائے شیئر فروخت کرنے والے موجودہ مالکان یا سرمایہ کاروں کو ملتی ہے۔ این ایس ای کا  آئی پی او دراصل ’او ایف ایس‘ ہے۔ 

 ملک کا دوسرا سب سے بڑا آئی پی او

این ایس ای کا یہ آئی پی او (او ایف ایس)ملک کا دوسرا سب سے بڑا آئی پی او ہے۔یہ پیشکش۲۰۲۴ءمیں ہنڈائی موٹر انڈیا کے۲۷؍ہزار ۸۷۰؍کروڑ روپے کے آئی پی او کے بعد ہندوستان کی  دوسری  سب سے بڑی عوامی پیشکش ہے۔ این ایس ای کے آئی پی او نے۲۰۲۲ء میں لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کے۲۱؍ ہزار  کروڑ روپے کے آئی پی او کو پیچھے چھوڑ دیا، تاہم یہ اب بھی ہنڈائی موٹر انڈیا کے ریکارڈ عوامی اجراء سے کم ہے۔این ایس ای کے آئی پی او کو پیش کیے گئے۸ء۸۶؍ کروڑ  شیئرس کے مقابلہ میں۵۰ء۵۸؍ کروڑ شیئرس کیلئے  یعنی ۵ء۷؍ فیصد زیادہ شیئرس کیلئے بولیاں موصول ہوئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK