Updated: March 30, 2026, 7:07 PM IST
| Berlin
ایران جنگ کے دوران جوہری خدشات اور عالمی ردعمل شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک سفارتکار نے ممکنہ جوہری استعمال کے خدشات پر استعفیٰ دے دیا، جبکہ آئی اے ای اے نے ایرانی جوہری سائٹ بند ہونے کی تصدیق کی۔ اسی دوران ایران نے امریکہ پر زمینی حملے کی تیاری کا الزام عائد کیا، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
(۱) جرمنی میں جنگ کی تحقیقات، عالمی قانونی دباؤ میں اضافہ
جرمنی میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے حوالے سے قانونی تحقیقات شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان تحقیقات کا مقصد ممکنہ جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’’تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔‘‘ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ عالمی قانونی دائرے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حزب اللہ کے ۱۱۰۰؍ حملے، یمن سے ڈرون، کویت پر حملہ، جنگ پورے خطے میں پھیل گئی
(۲) اقوام متحدہ کے سفارتکار کا استعفیٰ، جوہری خدشات پر تشویش
اقوام متحدہ کے ایک سفارتکار نے ’’ضمیر کی آواز پر‘‘ استعفیٰ دے دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ایران میں ممکنہ جوہری ہتھیار کے استعمال کے خدشات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں خاموش نہیں رہ سکتا جب دنیا ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔‘‘ یہ استعفیٰ عالمی سطح پر سنجیدہ تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
(۳) آئی اے ای اے کی رپورٹ، ایرانی جوہری سائٹ خنداب غیر فعال
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی خنداب جوہری سائٹ فضائی حملوں کے بعد غیر فعال ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سائٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ آئی اے ای اے نے کہا کہ ’’ہم صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘‘ یہ پیش رفت جوہری سیکوریٹی کے حوالے سے عالمی خطرات کو بڑھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں عیسائیوں کی پام سنڈے پر عبادت، نسل کشی کے درمیان امن کی دعائیں
(۴) ایران کا الزام، امریکہ زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے
ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ خفیہ طور پر ملک میں زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہمارے فوجی امریکی فوجیوں کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی زمینی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔