صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس مہلک بیماری پر قابو پانے کے لئے جاری کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 2:45 PM IST | Agency | Kinshasa
صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس مہلک بیماری پر قابو پانے کے لئے جاری کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
جمہوریہ کانگو میں تصدیق شدہ ایبولا کیسوں کی تعداد ۵؍ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔کانگو حکومت کے منگل کی رات جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایبولا وائرس کے مریضوں کی تعداد۵؍ہزار سے بڑھ چُکی ہے اور صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس مہلک بیماری پر قابو پانے کے لئے جاری کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ادارہ صحت عامہ کے مطابق ملک میں ایبولا کی ۱۷؍ویں وبا جولائی کے اختتام تک مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے تاریخ کی سب سے بڑی وبا بن گئی اورہفتے کے اختتام تک وبا کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد۲؍ہزار۳۷۸؍تک پہنچ گئی ہے۔
صورتحال سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ادارے نے۵؍ہزار۲۱؍کیس ریکارڈ کئے ہیں۔ اس تعداد کے ساتھ یہ وبا۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا کے بعد مریضوں اور اموات دونوں لحاظ سے، دنیا کی دوسری بدترین وبا بن گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے پر امریکہ اسرائیل سے ناراض
یہ وبا ایبولا وائرس کی ’بنڈی بوگیو ‘ قسم کی وجہ سے پھیلی ہے۔ اس وائرس کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے۔ ۱۵؍ مئی کو وبا کے اعلان کے بعد سے اس کے پھیلاؤ میں تیزی آئی ہے۔ کمزور طبی بنیادی ڈھانچے، مقامی آبادی کی مزاحمت، عدم استحکام اور امدادی ٹیموں کے خلاف احتجاج کے باعث مریضوں کی نشاندہی اور وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
اسی دوران ڈبلیوایچ او کی جانب سے ایبولا سے نمٹنے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈبلیو ایچ او کے ترجمان طارق جاساروک نے بتایا کہ ادارے نے ایبولا سے نمٹنے کے لئے ہر شعبے میں بڑے پیمانے پر اضافی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔