• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اوآئی سی نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی

Updated: September 17, 2026, 1:44 PM IST | Agency | Jeddah

اس کےبیان کے مطابق یہ حملے معصوم شہریوں میں خوف پیدا کرتے ہیں، مقدس مقامات اور مساجد کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔

A view of the meeting held in Jeddah by the OIC General Secretariat. Photo: INN
او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے جدہ میں منعقدہ اجلاس کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکریٹریٹ نے حوثی گروپ کی طرف سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے کے اطراف حملوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے خلاف جاری جارحیت کی مذمت کی ہے۔ اس کے مطابق یہ حملے معصوم شہریوں میں خوف پیدا کرتے ہیں، مقدس مقامات اور مساجد کے تقدس کو پامال کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں۔

اوآئی سی کے بیان کےمطابق جنرل سیکریٹریٹ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کی طرف سے مقدس مقامات، مساجد اور شہری انفراسٹرکچر کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں دہشت گردی ہیں جو اسلامی اقدار نیز بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے خلاف ہیں۔ اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے جس کے لئے مجرموں کو روکنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امریکی ایوان نمائندگان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کی

بیان کے مطابق جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ۔ جارحین کو روکنے، مقدس مقامات کے تقدس اور مسلمانوں کی جانوں کے تحفظ نیز اس کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لئےمملکت کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

حالیہ کشیدگی سعودی عرب تک محدود نہیں
حوثیوں نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بھی اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے جو عالمی بحری تجارت کے لئے اہم راستہ ہے۔ ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب کیلئے بحیرہ احمر کا راستہ اپنی تیل کی برآمدات کے متبادل راستے کے طور پر مزید اہم ہوگیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK