ڈونالڈ ٹرمپ سے ایران سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ،۷؍ریپبلکن اراکین نے بھی اس قرارد اد کی حمایت کی۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 1:33 PM IST | Agency | Washington
ڈونالڈ ٹرمپ سے ایران سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ،۷؍ریپبلکن اراکین نے بھی اس قرارد اد کی حمایت کی۔
امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کو جنگی اختیارات سے متعلق ایک قرارداد منظور کی جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ایران سے امریکی افواج کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ۔ یہ کانگریس کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع میں انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی تیسری کوشش ہے۔
ڈیموکریٹک رکنِ ایوان سیٹھ مولٹن کی پیش کردہ قرارداد۲۰۴-۲۲۰؍ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس کے حق میں۲۱۳؍ ڈیموکریٹس اور ۷؍ ریپبلکن اراکین نے ووٹ دیا جبکہ ایک آزاد رکن نے مخالفت کی۔ جنگی اختیارات کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کانگریسی دستاویزات کے مطابق قرارداد صدر کو امریکی یا اتحادی اہلکاروں اور تنصیبات کے دفاع کے لئے ضروری افواج واپس بلانے کا پابند نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھئے:زخمیوں کی مدد کے دوران اسرائیلی حملے میں فلسطینی نوجوان شہید
قرارداد کی حمایت کرنے والے۷؍ ریپبلکن اراکین میں کینٹکی کے تھامس میسی، پنسلوانیا کے برائن فٹزپیٹرک، اوہائیو کے وارن ڈیوڈسن، مشی گن کے ٹام بیریٹ، آئیووا کی ماریانیٹ ملرمیکس، آئیووا کے زیک نَن اور جنوبی کیرولائنا کی نینسی میس شامل ہیں۔
مولٹن نے کہا کہ قرارداد کا مقصد جنگ شروع کرنے سے متعلق فیصلوں میں کانگریس کے آئینی اختیار کی دوبارہ توثیق کرنا ہے۔ ووٹنگ کے بعد ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے فوجی کامیابی کے سابقہ دعوؤں کے باوجود تنازع جاری ہے اور انہوں نے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور فوجی کارروائی کے مالی اخراجات کا حوالہ دیا۔کانگریشنل بجٹ آفس نے منگل کو اندازہ لگایا کہ امریکہ یکم اگست تک اس تنازع پر تقریباً۳۸؍ ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔