ماہرین کے مطابق آئل ٹینکر دنیا کے مختلف حصوں میں ہیں اور انہیں خلیج واپس پہنچنے میں وقت لگے گا۔ ذخیرہ گاہیں بھر جانےسے کئی ممالک نے تیل کے کنویں بند کر دئیے ہیں جنہیں دوبارہ چلانا مہنگا اور وقت طلب عمل ہے۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 12:46 PM IST | Mumbai
ماہرین کے مطابق آئل ٹینکر دنیا کے مختلف حصوں میں ہیں اور انہیں خلیج واپس پہنچنے میں وقت لگے گا۔ ذخیرہ گاہیں بھر جانےسے کئی ممالک نے تیل کے کنویں بند کر دئیے ہیں جنہیں دوبارہ چلانا مہنگا اور وقت طلب عمل ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان اورآبنائے ہرمز کی بندش کھل جانے کے باوجود تیل کا بحران ختم ہونے میں وقت درکار ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود صورتحال معمول پر آنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں، کیونکہ بڑے آئل ٹینکرز دنیا کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں خلیج واپس پہنچنے میں وقت درکار ہو گا۔ اتنا ہی نہیں ذخیرہ گاہیں بھر جانے کے باعث کئی خلیجی ممالک نے تیل کے کنویں بند کر دیے ہیں جنہیں دوبارہ چلانا مہنگا اور تکنیکی طور پروقت طلب اور مشکل عمل ہے۔ نیز کئی آئل مراکز/ڈپو کو حملوں میں شدید نقصان بھی پہنچا ہے، جس کی وجہ سے ان کا آپریشن متاثر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آر بی آئی نے موجودہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح ۶ء۴؍ فیصد رہنے کا اندازہ لگایا
کتنی تیل سپلائی متاثر ہوئی؟
’الجزیرہ‘ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ برآمدات فروری میں۴۶۹؍ ملین بیرل سے کم ہو کر مارچ میں ۲۶۳؍ ملین بیرل رہ گئی ہیں، یعنی۲۰۶؍ ملین بیرل یا۴۴؍ فیصد کمی واقع ہوئی۔
ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر کون ہوا؟
رپورٹ کے مطابق عراق کی برآمدات میں ۸۲؍ فیصد، کویت میں۷۵؍ فیصد، قطر میں ۷۰؍ فیصد، سعودی عرب میں۳۴؍ فیصد، متحدہ عرب امارات میں۲۶؍ فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ عمان واحد ملک رہا جہاں برآمدات۱۶؍ فیصد بڑھیں۔
۲۰۶؍ ملین بیرل تیل کتنے جہاز بھر سکتا ہے؟
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدار تقریباً۱۰۳؍ بہت بڑے کروڈ کیریئر جہازوں میں سما سکتی ہے۔ ایک ایسا جہاز تقریباً۲؍ ملین بیرل تیل لے جا سکتا ہے اور اس کی لمبائی تقریباً ۳۳۰؍ میٹر ہوتی ہے جو پیرس کے ایفل ٹاور کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ایک بیرل میں ۱۵۹؍ لیٹر تیل ہوتا ہے جس سے اوسطاً۷۳؍ لیٹر پیٹرول تیار ہوتا ہے جبکہ باقی مقدار ڈیزل، جیٹ فیول اور دیگر مصنوعات میں استعمال ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں سیمسنگ، ویوو اور اوپو کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں ۴۰؍ فیصد تک اضافہ
معاشی اثرات کب تک رہیں گے؟
جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی آئی ہے، جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں زبردست اچھال آیا ہے۔ اس باوجود ماہرینِ اقتصادیات اور زرعی تجزیہ کاروں کے مطابق خوراک اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر اس بحران کے اثرات۲۰۲۶ءء اور۲۰۲۷ءء تک جاری رہ سکتے ہیں۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ کے دوران تباہ ہونے والی توانائی تنصیبات کی مکمل بحالی میں کئی سال لگنے کا امکان ہے۔