Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں سیمسنگ، ویوو اور اوپو کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں ۴۰؍ فیصد تک اضافہ

Updated: April 07, 2026, 9:10 PM IST | New Delhi

قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اسمارٹ فونز کی طلب میں نمایاں سست روی دیکھی گئی ہے۔ ۲۰۲۶ء کے اوائل کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کے پہلے ۹ ہفتوں میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں سال بہ سال تقریباً ۹ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گزشتہ کچھ مہینوں سے ہندوستان میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ صف اول کے برانڈس نے اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں ۴۰؍ فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ اس کی وجہ سے مارکیٹ پر متوسط طبقے کیلئے بجٹ اور مڈ رینج (متوسط) فونز خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔

سیمسنگ، ویوو، اوپو، شاؤمی، ریئل می اور نتھنگ سمیت بڑے مینوفیکچررز نے نومبر ۲۰۲۵ء سے اپنے کئی ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، آٹھ سے زائد اسمارٹ فون برانڈز نے قیمتیں بڑھائی ہیں اور اس عرصے میں فی ڈیوائس اوسطاً ۱۵۰۰ روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ کچھ ماڈلز کی قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ بڑی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایل پی جی کے بعد پی این جی بھی مہنگی، آئی جی ایل نے قیمتوں میں اضافہ کیا

چپس کی قلت اخراجات میں اضافے کی وجہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز کے ایک اہم عنصر عنصر میموری چپس، خاص طور پر DRAM اور NAND کی عالمی سطح پر قلت کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سیمسنگ الیکٹرانکس، مائیکرون ٹیکنالوجی اور SK Hynix جیسی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں نے اپنی پیداوار کا رخ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سسٹمز میں استعمال ہونے والی ہائی بینڈوڈتھ میموری کی طرف موڑ دیا ہے۔

اس تبدیلی کی وجہ سے اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی روایتی چپس کی سپلائی کم ہوگئی ہے، جس سے پرزوں کی لاگت میں ۵۰ سے ۶۰ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اخراجات کا یہ بڑھتا ہوا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اس رجحان کو آلات پر ”اے آئی ٹیکس“ (AI tax) قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء تک اڈانی کی دولت میں ۶۲۵؍ اضافہ، ویلتھ ٹیکس کا مطالبہ زور پکڑ گیا

سپلائی چین میں تعطل سے دباؤ میں اضافہ

جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں تعطل نے بھی اخراجات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جہاز رانی کے بڑھتے اخراجات اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ سمیت روپے کی قدر میں کمی نے مینوفیکچررز پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی سطح پر غیر یقینی صورتحال جیسے عوامل نے اسمارٹ فون برانڈز کیلئے چیلنجنگ ماحول پیدا کر دیا ہے، نتیجتاً وہ گھٹتی ہوئی طلب اور قیمتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: خام تیل۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل کے پار، ملک پر۱۶؍ ہزارکروڑ کا اضافی بوجھ

صارفین کی جانب سے فون کی تبدیلی میں تاخیر

قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں اسمارٹ فونز کی طلب میں نمایاں سست روی دیکھی گئی ہے۔ بہت سے خریدار نئے فون لینے کا ارادہ ملتوی کر رہے ہیں اور اس کے بجائے موجودہ آلات کی مرمت کروانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ۲۰۲۶ء کے اوائل کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کے پہلے ۹ ہفتوں میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں سال بہ سال تقریباً ۹ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ صارفین خوراک اور ایندھن جیسے ضروری اخراجات کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے الیکٹرانکس جیسی غیر ضروری اشیاء پر خرچ کم ہوگیا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر بجٹ اسمارٹ فونز کے سیگمنٹ میں واضح نظر آتا ہے، جہاں قیمتوں کے حوالے سے حساسیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنگ کے درمیان خام مال کی کمی نے عام آدمی کا بجٹ بگاڑ دیا

مارکیٹ کی صورتحال بدستور غیر یقینی

صنعتی مبصرین آنے والے مہینوں میں مسلسل دباؤ کی توقع کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپریل سے جون کی سہ ماہی کے خاص طور پر مشکل ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ قیمتوں میں بحالی کے آثار محدود ہیں اور بڑھی ہوئی قیمتیں مستقبل قریب میں برقرار رہ سکتی ہیں۔ اگرچہ اینٹری لیول (سستے فون) کے خریدار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، لیکن ایپل جیسے برانڈز کے مہنگے فون اور سیمسنگ کے ہائی اینڈ ماڈلز کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہ سکتی ہیں، کیونکہ وہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو جذب کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK