Inquilab Logo Happiest Places to Work

قدیم ایلفسٹن بریج مکمل طور پر منہدم کردیا گیا، نیاڈبل ڈیکرپل آئندہ سال تک بننے کا امکان

Updated: April 07, 2026, 11:05 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

چند مکینوں کو متبادل فلیٹ نہ ملنے کی وجہ سے حاجی نورانی چال اب تک خالی نہیں کرائی جاسکی۔ نئے پل کا زیادہ تر حصہ نوئیڈا میں بن کر تیارہے۔

The Scene After The Demolition Of The 112-Year-Old Elphinstone Bridge.Photo: Ashish Raje
۱۱۲؍سال پرانےایلفنسٹن بریج کے ا نہدام کے بعد کا منظر۔تصویر:آشیش راجے
پربھا دیوی اور پریل کو جوڑنے والے قدیم ایلفسٹن بریج کو اتوار کی صبح کو مکمل طور پر منہدم کردیا گیا ہے اور اب اس کی جگہ نیا ڈبل ڈیکر بریج تعمیر کیا جائے گا۔ ۲؍ سینئر افسران اور ایک کنزرویشن آرکیٹیکٹ کی کوششوں سے ۱۱۲؍ سال پرانے اس بریج کی تاریخی اہمیت کو باقی رکھنے کیلئے اس کے ان پتھروں اور محرابوں کو محفوظ رکھ لیا گیا ہے جن پر بریج کا نام اور تاریخ وغیرہ کندہ  ہے اور ان پتھروں کو نئے بریج میں لگایا جائے گا ۔البتہ نئے بریج کی تعمیر کیلئے ایلفسٹن بریج کے بازو میں واقع ۲؍ عمارتوں کو خالی کروانا لازمی ہے جس میں سے حاجی نورانی چال کو اب تک خالی نہیں کروایا جاسکا ہے۔
   ابتداء میں ایلفسٹن بریج کے بازو میں واقع ۱۹؍ عمارتوں کو منہدم کرنےکا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم بعد میں اس کا نیا ڈیزائن تیار کیا گیا جس کے تحت اب نئے بریج کی تعمیر کیلئے یہاں واقع صرف دو ہی عمارتیں منہدم کی جائیں گی جن کے نام حاجی نورانی چال اور لکشمی نواس ہیں۔ لکشمی نواس مکمل طور پر خالی کروائی جاچکی ہے اور اسے تقریباً ۳۰؍ فیصد منہدم بھی کردیا گیا ہے۔ البتہ حاجی نورانی چال میں ایک دکان  والے سہاس بڑدے نے پیر کو اس نمائندے سے گفتگو کے دوران بتایا کہ اس عمارت میں کُل ۲۳؍ مکین اور ۷؍ دکانیں ہیں۔ ان میں سے۵؍ سے ۶؍ مکینوں اور دکانداروں کو اب تک متبادل فلیٹ نہیں ملے ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی اپنا گھر خالی نہیںکررہا ہے۔ واضح رہے کہ اس پروجیکٹ میں دکانداروں کو بھی رہائشی مکان متبادل کے طور پر دیئے جارہے ہیں۔ سہاس بڑدے کے مطابق دکانوں کے عوض دکانیں نہیں دی جارہی تھیں اور معاو ضہ بہت کم تھا جس کی وجہ سے دکاندار  مکانات لینے کو رضامند ہوئے۔
 
 
واضح رہے کہ پرانے ایلفنسٹن بریج کی جگہ جو نیا ڈبل ڈیکر بریج تعمیر کیا جانا ہے، اس کا زیادہ تر حصہ نوئیڈا میں بن کر تیار ہے اور اسے ٹکڑوں میں قسط وار ممبئی لایا جائے گا اور یہاں اسے جوڑ کر بریج کی شکل دی جائے گی۔
نئے بریج کا نچلا حصہ عام ٹریفک کیلئے رکھا جائے گا۔ نیچے کا بریج مشرقی اور مغربی حصہ کو جوڑے گا جس میں گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے دونوں طرف ۲، ۲؍ لین یعنی کُل ۴؍ لین ہوں گی اور اس پر راہگیروں کیلئے فٹ پاتھ بھی رکھا جائے گا۔  نئے بریج کو ۲۰۲۷ء تک مکمل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے جبکہ اوپری حصے کو ’سیوڑی-ورلی‘ کنیکٹر میں شامل کیا جائے گا۔ اونچائی پر تعمیر کیا جانے والا یہ بریج ’باندرہ ورلی سی لنک‘، مستقبل میں تعمیر ہونے والے اٹل سیتو اور ایسٹرن فری وے کے حصہ میں شامل ہوجائے گا۔ 
 
 
 
ایلفسٹن بریج کے آخری حصوں کو منہدم کرنے کیلئے ۲؍ اپریل سے ۴؍ اپریل کے درمیان رات کے وقت بائیکلہ اور دادر ریلوے اسٹیشن کے درمیان بلاک رکھا گیا تھا۔ حالانکہ اس انہدامی کارروائی کیلئے کُل ۸؍ راتوں کو ریلوے کا بلاک رکھا گیا تھا۔ اس بریج کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنے اور اسے ورثے کے طور پر محفوظ رکھنے کیلئے ایم ایم آر ڈی اے کے کمشنر ڈاکٹر سنجے مکھرجی نے فنڈ منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔  اس کے علاوہ بی ایم سی کے ہیریٹج سیل کے سنجے آدھو ایم ایم آر ڈی اے اور ریلوے کے درمیان ’کوآرڈینیٹر‘ کے طور پر کام کرتے رہے جس کی وجہ سے اِ ن پتھروں اور محرابوں کو محفوظ کیا جاسکا جن کی تاریخی ورثے کو بچانے میں مہارت رکھنے والے افسران نے نشاندہی کی تھی۔ یاد رہے کہ ’گریٹ انڈین پیننسولا ریلوے‘ نے ۱۹۰۵ء میں اس بریج کی تعمیر شروع کی تھی اور ۱۹۱۳ء میں یہ پل مکمل ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK