سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو عبوری راحت دیتے ہوئے کمال مولا مسجد میں مسلمانوں کونماز جمعہ کی اجازت دے دی، اس سے قبل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں دھار میں واقع بھوج شالہ کمال مولٰی مسجد کمپلیکس کو ہندو مندر قرار دیا تھا۔
EPAPER
Updated: July 14, 2026, 10:11 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو عبوری راحت دیتے ہوئے کمال مولا مسجد میں مسلمانوں کونماز جمعہ کی اجازت دے دی، اس سے قبل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں دھار میں واقع بھوج شالہ کمال مولٰی مسجد کمپلیکس کو ہندو مندر قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نے منگل کو مسلمانوں کو محدود عبوری راحت فراہم کرتے ہوئے ان کی درخواست پر سماعت قبول کرلی، جنہوں نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے۱۵؍ مئی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں دھار میں واقع بھوج شالہ کمال مولٰی مسجد کمپلیکس کو ہندو مندر قرار دیا تھا۔چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) جسٹس سوریا کانت، جسٹس جیومالیا باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے کہا کہ مسلمانوں کو متنازع مقام کے قریب ایک علاقے میں جمعہ کے روز دوپہرایک سے۳؍ بجے کے درمیان نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔عدالت نے حکم دیا کہ "عبوری اقدام کے طور پر اور دونوں فریقین کے حقوق پر اثر ڈالے بغیریہ ہدایت دی جاتی ہے کہ اپیل کنندگان (مسلمانوں) کو اس مقام کے قریب/متصل ایک علاحدہ کھلی جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ جمعہ کے روز دوپہر ایک سے۳؍ بجے تک نماز ادا کر سکیں۔ بعد ازاں اس معاملے کو سی جے آئی کی مقرر کردہ بنچ کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ انتظام عارضی نوعیت کا ہوگا اور حتمی فیصلے کے تابع ہوگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: قرآن مجید کی ایک آیت نے میری سوچ بدل دی: پنجابی گلوکارہ سنندا شرما
واضح رہے کہ یہ معاملہ ہائی کورٹ کے ۱۵؍ مئی کے اس فیصلے سے متعلق ہے جس میں بھوج شالہ کمپلیکس کی کمال مولٰی مسجد کو بھوج شالہ قرار دیا جس میں دیوی سرسوتی کا مندر ہے۔ اسی کی روشنی میں، ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کے۲۰۰۳ء کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس کے تحت مسلمانوں کو اس مقام پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔تاہم ہائی کورٹ نے کہا کہ مسلمان ریاست سے مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل جگہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف قاضی معین الدین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔آج قاضی معین الدین کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل ہذیفہ احمدی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے یکایک مسلمانوں کو ہفتے کے کچھ دنوں میں نماز کی اجازت دینے والی دہائیوں پرانی اجازت کو کیسے منسوخ کر دیا، جبکہ اس مقام کو ہندو عبادات کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اچانک، ہائی کورٹ نے یہ سب کچھ باطل کر دیا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارا موقف ہے کہ رٹ پٹیشن خود قابلِ سماعت نہیں تھی۔‘‘ جبکہ سینئر وکیل اے ایم سنگھوی نے مزید کہا کہ وہ اس بحث میں نہیں پڑ رہے کہ مندر تھا یا نہیں، لیکن اگر ہر ایسے دعوے کو اہمیت دی گئی تو کچھ باقی نہیں رہے گا۔انہوں نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر بھی سوال اٹھایا کہ اس نے ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ کے موقف کو کیوں بنیاد بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ "اس عدالت نے واضح کیا تھا کہ اس کا فیصلہ صرف ایودھیا تک محدود ہے اور کسی دوسرے معاملے پر نافذ نہیں ہوگا،اس پر سی جے آئی کانت نے کہا کہ یہ بہت حساس معاملات ہیں اور عدالت کو اپنے الفاظ کے بارے میں محتاط رہنا ہوگا۔انہوں نے تجویز دی کہ ہمارا خیال ہے کہ جو انتظام اس وقت موجود ہے، اس معاملے کو۱۰؍ سے ۱۵؍ دنوں میں مناسب بنچ کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان ہائی کورٹ: ہند پاک سرحد پر واقع مساجد، درگاہوں کا انہدام جائز
جبکہ سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے استدعا کی کہ ہائی کورٹ کے حکم کے تحت کیے گئے انتظام میں خلل نہ ڈالا جائے۔ اب فیصلہ بدلنے سے انتظامی مسائل ہو سکتے ہیں۔"مسلم فریق کی طرف سے پیش ہونے والی سینئر وکیل میناکشی اروڑا نے دلیل دی کہ اس سے قبل باہمی تفہیم تھی جس کے تحت ہندو اور مسلم دونوں برادریاں اس مقام کو عبادت گاہ کے طور پر استعمال کرنے پر متفق تھیں۔انہوں نے سنگھوی کے ساتھ مل کر سوال کیا کہ ہائی کورٹ نے اس تنازع کو کیسے سماعت کے لیے قبول کیا، جبکہ متعلقہ کارروائیاں سول کورٹ میں زیرِ التوا تھیں۔عدالت نے آخر کار تمام حاضرین سے پوچھا کہ کیا متنازع مقام کے قریب کوئی عوامی جگہ ہے جہاں مسلمانوں کو عبوری راحتکے طور پر نماز کی اجازت دی جا سکتی ہے۔سولیسیٹر جنرل مہتا نے اثبات میں جواب دیا۔ احمدی نے مزید کہا کہ اس طرح کا علاقہ نماز کی ادائیگی کے لیے مخصوص کیا جا سکتا ہے اور یہ انتظام دونوں فریقین کے حقوق پر اثر ڈالے بغیر جاری رہ سکتا ہے۔ اس کمپلیکس میں ایک منبر ہے جہاں سے روایتی طور پر نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔ جو ہم۱۹۳۵ء سے کر رہے ہیں۔اس کے بعد عدالت نے ہدایت دی کہ مسلمانوں کو کمپلیکس کے قریب ایک جگہ پر جمعہ کی دوپہر کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے، اور یہ دونوں فریقین کے حقوق پر اثر ڈالے بغیر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک کے وزیر ٹرانسپورٹ کو بھی کنڈکٹروں کی من مانی کا سامنا کرنا پڑا
دوسری جانب آج کی سماعت میں ہائی کورٹ میں ہندو درخواست گزار کی اس درخواست پر بھی مختصراً بحث ہوئی کہ دیوی سرسوتی کا بت واپس لایا جائے جو انگریزلے گئے تھے۔ ہائی کورٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ درخواست گزار اس سلسلے میں حکومت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ تاہم آج سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ کوئی ایسی ہدایت جاری نہیں کرے گی جس کا مطلب یہ لیا جائے کہ مرکزی حکومت اس بت کو ہندوستان واپس لانے کی پابند ہے۔