Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہر دو میں سے ایک ملازم نئی ملازمت کی تلاش میں :رپورٹ

Updated: August 25, 2026, 10:13 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے پروفیشنل سروسز سیکٹر میں جین زی ملازمین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ملازمین کو برقرار رکھنے کا بحران بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق ہر دو میں سے تقریباً ایک ملازم فعال طور پر نئی ملازمت کی تلاش کر رہا ہے۔

Employer.Photo:INN
ملازم۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کے پروفیشنل سروسز سیکٹر میں جین زی  ملازمین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ملازمین کو برقرار رکھنے کا بحران بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق  ہر دو میں سے تقریباً ایک ملازم فعال طور پر نئی ملازمت کی تلاش کر رہا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں ملازمین اگلے ۱۲؍ ماہ میں اپنی موجودہ کمپنی چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ معلومات گریٹ پلیس ٹو ورک انڈیا (Great Place to Work India) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:BTS: ہندوستانی مداحوں کو ’نمستے‘ اور ہندی پیغام، ہندوستان آمد کی قیاس آرائیاں

رپورٹ کے مطابق تقریباً  ہر دو میں سے ایک ملازم  نئی ملازمت تلاش کر رہا ہے، جبکہ  چار میں سے تین ملازمین  کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ۱۲؍ ماہ کے اندر اپنی موجودہ کمپنی چھوڑنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملازمین کی جانب سے اپنی مقررہ ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر اضافی کام کرنے کی خواہش مسلسل کم ہو رہی ہے، حالانکہ کام کی بنیادی سہولیات اور ورک پلیس کے حالات میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔
گریٹ پلیس ٹو ورک نے ۱ء۱؍ لاکھ سے زیادہ ملازمین والے ۱۳۰؍ سے زائد اداروں  کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا کہ صرف بنیادی سہولیات میں معمولی بہتری ملازمین کو طویل مدت تک کمپنی کے ساتھ وابستہ رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔  رپورٹ کی ایک اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کے پروفیشنل سروسیز سیکٹر میں  جین زی اب مجموعی افرادی قوت کا ۳۴؍ فیصد  بن چکی ہے جبکہ ۲۰۲۳ء میں یہ حصہ صرف ۱۷؍ فیصد تھا۔یعنی تقریباً تین سال کے عرصے میں ورک فورس میںجین زی  کی حصہ داری  دُگنی  ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان مزید ۹؍ تجارتی معاہدوں کیلئے کوشاں

جین زی ملازمین تنخواہ، کام کی پہچان، ترقی اور پروموشن کے معیار کے حوالے سے زیادہ واضح توقعات رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر انہیں ان معاملات میں وضاحت یا ترقی کے مناسب مواقع نظر نہیں آتے تو وہ ملازمت تبدیل کرنے میں زیادہ تیزی دکھاتے ہیں۔  رپورٹ میں بتایا گیا کہ ۸۶؍ فیصد فرنٹ لائن منیجرز اور سپروائزرزس فعال طور پر نئی ملازمت تلاش کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انفرادی طور پر کام کرنے والے ملازمین میں یہ شرح ۵۳؍ فیصد  ہے۔رپورٹ کے مطابق فرنٹ لائن منیجرز کو ایک ساتھ کئی ذمہ داریاں نبھانی پڑ رہی ہیں۔ انہیں پروجیکٹس مکمل کرنے، کلائنٹس کی بڑھتی ہوئی توقعات پوری کرنے، اپنی ٹیم کی دیکھ بھال کرنے اور کمپنی کی تبدیلیوں کو ملازمین تک پہنچانے کا دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔اسی لیے انہیں پورے شعبے کے لیے ایک طرح کے شاک ابساربر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ گریٹ پلیس ٹو ورک انڈیا   کے منیجنگ  ڈائریکٹر اکشت شاہ نے کہا کہ پروفیشنل سروسز سیکٹر کے لیڈرز کو ملازمین کی شمولیت اور انہیں کمپنی میں برقرار رکھنے کے طریقوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اب ایک ہی حکمت عملی پورے ورک فورس پر لاگو نہیں کی جاسکتی، بلکہ مختلف نسلوں اور مختلف ملازمین کی انفرادی توقعات کو سمجھنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK