Updated: January 21, 2026, 10:00 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت کے پہلے سال میں سخت امیگریشن، تجارتی جنگ، خارجہ پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت کئی بڑے فیصلے کئے گئے جس نے امریکہ کی داخلی و بین الاقوامی پالیسی کو یکسر بدل دیا ہے۔اس مدت میں امریکہ نے نہ صرف داخلی اور معاشی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کیں بلکہ یوکرین، غزہ، ایران اور بحیرۂ احمر جیسے عالمی تنازعات میں بھی جارحانہ اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کا پہلا سال مکمل ہوگیا ہے۔ ان کی واپسی نے امریکہ کی پالیسیوں میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دن سے ہی سخت طرزِ حکمرانی اختیار کیا، جس کا مقصد ’’امریکہ پہلے‘‘ فیصلوں کے ذریعے ملک کو مضبوط بنانا بتایا گیا، مگر ان فیصلوں نے داخلی اور بین الاقوامی محاذ پر تنازعات بھی جنم دیے ہیں۔
امیگریشن
امیگریشن کے معاملے پر ٹرمپ نے نئی سختی شروع کی۔ انہوں نے سرحد پر قومی ایمرجنسی نافذ کی، سرحدی رکاوٹوں کو مضبوط کیا اور بڑھتی ہوئی غیر قانونی آمد کو روکنے کے لیے امریکن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کو مزید اختیارات فراہم کیے۔ نتیجتاً سرحدی گزرگاہوں سے تارکین وطن کی آمد برسوں میں سب سے کم سطح پر پہنچ گئی۔ لاکھوں افراد کی ملک بدری ہوئیجس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھئے: داؤس میں ہندوستانی ریاستوں کی ہندوستانی کمپنیوں کےساتھ معاہددوں پرشدید تنقید
ٹیرف
اقتصادی پالیسی میں ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر ٹریف (محصولات) عائد کیے، جس میں چین، کنیڈا، میکسیکو اور یورپی ممالک سمیت کئی ممالک کے لیے درآمدات پر ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ ان محصولات کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا بتایا گیا، مگر اس سے صارفین کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
خارجہ پالیسی
خارجہ پالیسی میں ٹرمپ نے متعدد غیر روایتی اقدام کیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی معاہدے سے امریکہ کو نکالا اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں شمولیت ختم کی، جبکہ ایران پر ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی نافذ کی، جس میں سخت اقتصادی پابندیاں اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں شامل ہیں۔
گرین لینڈ
ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو بھی مخاطب کیا اور گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے لیے پابندیاں اور محصولات بڑھانے کی دھمکی دی، جس سے ٹرمپ اور یورپی لیڈروں کے درمیان کشیدگی بڑھی۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی کچھ ملازمتوں کو بہتر بنا رہا ہے، مہارتوں پر توجہ دینا ضروری ہے: آئی ایم ایف
آرگنائزیشن
ادارہ جاتی سطح پر ٹرمپ نے وفاقی ملازمین کی دوبارہ تقسیم کی اور ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا، متعدد ماحولیاتی اور مزدوری قوانین کو کمزور کیا، اور تعلیمی و ثقافتی پروگراموں میں تبدیلیاں لائیں تاکہ معاشرتی اقدار کو بڑھاوا دیا جا سکے۔
ایندھن اور توانائی
توانائی کے شعبے میں بھی ٹرمپ نے فوسل فیول کی پیداوار کو بڑھایا، پائپ لائنوں اور سمندر کے اندر تیل و گیس منصوبوں کو تیزی سے منظور کیا، اور ماحولیاتی معاہدوں سے انخلا پر زور دیا۔
یوکرین جنگ
یوکرین جنگ کے معاملے میں ٹرمپ نے یوکرین جنگ کو جلد ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ امریکی فوجی امداد پر نظرِثانی کی۔ انہوں نے یورپی اتحادیوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ یوکرین کی مالی اور عسکری مدد کا زیادہ بوجھ خود اٹھائیں۔ اس پالیسی سے نیٹو ممالک میں اختلافات بڑھے جبکہ روس کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: بلی ایلیش کی ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید، امریکی شہری حقوق پر سنگین تحفظات
غزہ جنگ
مشرقِ وسطیٰ میں غزہ جنگ کے دوران ٹرمپ نے اسرائیل کی کھل کر حمایت کی۔ امریکہ نے جنگ بندی کے لیے محدود سفارتی کوششیں کیں، تاہم اسلحہ اور سیاسی حمایت جاری رکھی گئی۔ اس موقف پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہوئی اور عرب دنیا میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا۔
ایران تنازع
ایران کے خلاف ٹرمپ نے دوبارہ ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی نافذ کی۔ ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے فوجی انتباہات جاری کیے گئے۔ خلیج میں کشیدگی بڑھی اور تیل کی عالمی منڈی بھی غیر یقینی کا شکار رہی۔
یہ بھی پڑھئے:اتراکھنڈ: رشی کیش میں قرآن کی تعلیم پر ہندو گروپس نے اعتراض کیا؛ مولانا نے ہراسانی کا الزام عائد کیا
حوـثی باغی
بحیرۂ احمر میں حوثی گروہ کے حملوں کے بعد امریکہ نے یمن اور اردگرد علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں تاکہ عالمی تجارت اور اسرائیلی مفادات کو تحفظ دیا جا سکے۔ ان حملوں نے یمن جنگ کو ایک بار پھر عالمی تنازع میں بدل دیا۔
نتیجہ
مجموعی طور پر ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے سال میں امریکہ نے طاقت کے استعمال، سخت سفارت کاری اور معاشی دباؤ کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنایا، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست اور جنگی حالات پر نمایاں رہنے کا امکان ہے۔ ان تمام اقدامات نے امریکہ میں شدید سیاسی تقسیم پیدا کی ہے، عوامی عدم اطمینان میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے اثرات بین الاقوامی تعلقات اور معاشی حالات پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔