Updated: January 21, 2026, 3:18 PM IST
| New Delhi
دائوس میں ہندوستانی وزرائے اعلیٰ کے ذریعے ہندوستانی کمپنیوں کےساتھ معاہددوں پر شدید تنقید کی جارہی ہے، لوگ سوال کررہے ہیں کہ ہندوستانی وزرائے اعلیٰ نے ٹیکس دہندگان کے پیسے سوئزرلینڈ سفر پر کیوں خرچ کیے، تاکہ ہندوستانی اداروں کے ساتھ ملاقاتیں اور معاہدے کیے جائیں۔
داؤس میں ہندوستانی وزرائے اعلیٰ۔ تصویر: ایکس
جیسے ہی پیر کو دائوس میں سالانہ ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس شروع ہوا، کئی ہندوستانی ریاستوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے(ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔ اس پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تنقید کی بوچھار ہو گئی۔انہوں نے پوچھا کہ ہندوستانی وزرائے اعلیٰ نے ٹیکس دہندگان کے پیسے سوئزرلینڈ سفر پر اس لئے خرچ کیے تاکہ ہندوستانی اداروں کے ساتھ ملاقاتیں اور معاہدے کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: داؤس۲۰۲۶ء میں ٹرمپ کی ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کی پیش رفت، ممبران میں تذبذب اور اضطراب
تقریباً ۳۰۰۰؍ مندوبین جو دنیا بھر کی عالمی کاروباری اور حکومتی نمائندگی کر رہے ہیں، اس تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے منگل کو اعلان کیا کہ ہندوستانی ادارے لودھا ڈویلپرز، سورج گڑ اسپات اوررہیجا کارپوریشن ان کمپنیوں میں شامل ہیں جن کے ساتھ ریاست نےمعاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔لودھا گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر ابھیشیک لودھا، مہاراشٹر حکومت کے وزیر منگل پر بھات لودھا کے بیٹے ہیں۔کانگریس کی ممبئی سے رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ’’ یہ معاہدہ ممبئی میں ریاستی گیسٹ ہاؤس میں بھی ہو سکتا تھا۔‘‘ہر سال کی طرح، اس سال بھی وزیر اعلیٰ کے ساتھ داوس کا پورا قافلہ صرف ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھمعاہدوں پر دستخط کرنے گیا ہے۔
گائیکواڈ نے ایکس پر کہا۔ ’’پچھلے سال بھی، ہیرانندنی اور رہیجا گروپ کے ساتھ مفاہمت کے یادداشت داوس میں ہی دستخط ہوئے تھے، دونوں ممبئی سے کام کرتے ہیں۔ ٹیکس دہندگان کا پیسہ اس طرح کیوں ضائع کیا جا رہا ہے؟کرناٹک کے تجارتی وزیر ایم بی پاٹل نے اعلان کیا کہ انہوں نے ٹاٹا گروپ کے چیئرمین نٹراجن چندراسیکرن اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ پاٹل نے یہ بھی کہا کہ وہ یو پی ایل کے چیئرپرسن سے ملے، جو کہ ایک ایگری کیمیکلز اور انڈسٹریل کیمیکلز فرم ہے جس کا صدر دفتر ممبئی میں ہے، اور کرناٹک میں کمپنی کے زرعی اثر و رسوخ کو بڑھانے پر بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی فرانس کو امن بورڈ کی دعوت، فرانس اقوام متحدہ منثور پرقائم، ٹیرف کی دھمکی
جبکہ مدھیہ پردیش حکومت نے ہندوستانی میڈیا کمپنی جیو اسٹار کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کی، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندر بابو نائیڈو اور تلنگانہ کے روینتاریڈی بھی اپنی ریاست میں سرمایہ کاری کی تلاش میں سوئس شہر میں ہیں۔نائیڈو نے اعلان کیا کہ وہ زیورخ میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا شرما سے ملے۔کئی سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ ملاقاتیں ہندوستان میں بھی ہو سکتی تھیں۔ اس کے علاوہ صحافی سواتی چترویدی نے پوچھا کہ کیا ممبئی کی شدید ٹریفک جام نے فرنویس کو دائوس جانے پر مجبور کیا تاکہ ممبئی کے ایک بلڈر کے ساتھمعاہدے پر دستخط کیا جا سکے۔دیگر سوشل میڈیا صارفین بھی اسی طرح سخت تنقید کر رہے تھے۔