Inquilab Logo Happiest Places to Work

صومالیہ: غذائی قلت کے شکار بچے ایران جنگ سے شدید متاثر

Updated: April 28, 2026, 10:14 PM IST | Mogadishu

صومالیہ میں قحط اور امداد کی کمی کے باعث لاکھوں بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ عالمی حالات نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور امدادی سامان کی ترسیل میں تاخیر نے زندگی بچانے والی خوراک تک رسائی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

صومالیہ کے غذائی قلت کا شکار بچوں کیلئے، جو پہلے ہی قحط کے خطرے اور غیر ملکی امداد میں شدید کمی جیسے دوہرے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ صرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ لائف سیونگ غذاؤں کی قلت، جو شپنگ میں رکاوٹوں کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہے، کلینکس کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کو واپس بھیج دیں اور دستیاب خوراک کو محدود مقدار میں تقسیم کریں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، پانچ سال سے کم عمر تقریباً پانچ لاکھ بچے شدید غذائی قلت (’’سیویئر ایکیوٹ ملنیوٹریشن‘‘ یا ’’ویسٹنگ‘‘) کا شکار ہیں، جو بھوک کی سب سے خطرناک شکل ہے، اور امداد میں تاخیر اس صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی

صومالیہ کے بچے کم ہوئی غذائی امداد پر انحصار کر رہے ہیں 
بیدوا اور موغادیشو میں طبی عملے کا کہنا ہے کہ انہیں خصوصی دودھ اور غذائیت سے بھرپور مونگ پھلی کے پیسٹ (جو ان بچوں کی زندگی بچانے کیلئے نہایت ضروری ہے) کے محدود ذخائر کو کھینچ کر استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ نرس حسن یحیے خیرے نے کہا:’’چونکہ ضرورت بہت زیادہ ہے اور ہمارے پاس سامان کم ہے، اس لئے ہمیں بچوں کو دی جانے والی مقدار کم کرنی پڑ رہی ہے۔ ‘‘ان کے کلینک میں موجود مونگ پھلی کے پیسٹ کے ۲۲۵؍کارٹن، جہاں ۱۲۰۰؍ سے زیادہ بچوں کا علاج کیا جاتا ہے، ممکنہ طور پر دو ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے، جیسا کہ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC) نے بتایا، جو اس مرکز کو سپلائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’اگر علاج بار بار رکے تو بچے جسمانی اور ذہنی طور پر بہت کمزور ہو جائیں گے، اور پھر انہیں ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: گرین کارڈ کے امیدواروں کے لیے بڑی کامیابی: امریکی جج کا فیصلہ

آئی آر سی ان تین امدادی اداروں میں شامل ہے جنہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے متعلق ٹرانسپورٹ میں تاخیر اور بڑھتے ہوئے اخراجات پہلے سے پیچیدہ صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ جنوب مغربی شہر بیدوا کے ایک کلینک میں، جو آئی آر سی کے مقامی شراکت دار READO کے زیر انتظام ہے، نو بچوں کی ماں مومینو عدن آمین اپنی ۱۱؍ماہ کی بیٹی روویدو کیلئے مونگ پھلی کا پیسٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ روویدو کو روزانہ تین ساشے دیئے جانے چاہئیں، لیکن کلینک میں بار بار اسٹاک ختم ہونے کی وجہ سے آمین کو دو مرتبہ واپس بھیجا جا چکا ہے۔ آمین نے بتایا کہ۲۰۱۷ء میں قحط کے قریب صورتحال کے دوران وہ اپنی ایک اور بیٹی انیسہ کو تقریباً بھوک سے کھو بیٹھی تھیں۔ صرف ہڈیاں اور جلد رہ گئی تھی، لیکن وہ مونگ پھلی کے پیسٹ کی وجہ سے بچ گئی۔ نو سال بعد، ایک نیا خشک سالی کا بحران۵ء۶؍ ملین افراد (ہر تین میں سے ایک صومالی) کو شدید بھوک میں مبتلا کر چکا ہے، اور امدادی ادارے خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کو پائپ لائنز کی تباہی کی وارننگ دی؛ تہران کی جانب سے ’چار گنا‘ جوابی حملے کی دھمکی

آئی آر سی کا ایک آرڈر، جوایک ہزارسے زائد بچوں کیلئے کافی تھا، دو ماہ قبل ہندوستان کی مندرہ بندرگاہ پر پھنس گیا، جہاں خلیج میں داخل نہ ہو سکنے والے جہازوں کی وجہ سے بھیڑ ہو گئی تھی، آئی آر سی کے صومالیہ کوآرڈینیٹر شکری عبدالقدیر نے بتایا۔ جب یہ اطلاع ملی کہ ہندوستان میں تیار ہونے والا یہ سامان مزید کم از کم۳۰؍ دن لگائے گا، تو آئی آر سی نے آرڈر منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد نیروبی سے۴۰۰؍ کارٹن کا ہنگامی آرڈر دیا گیا اور موغادیشو سے بیدوا تک سپلائی منتقل کی جا رہی ہے۔ تاہم، فریٹ اور پیداوار کی لاگت میں اضافے کے باعث ایک کارٹن کی قیمت ۵۵؍ڈالر سے بڑھ کر۲۰۰؍ ڈالر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں اب ایک آرڈر سے۳۰۰؍ بچوں کے بجائے صرف ۸۳؍بچوں کیلئے خوراک دستیاب ہو پاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ڈجیٹل پے منٹس کی خلل نے زندگی مفلوج کردی، کھانا اور نقل و حمل متاثر

زندگی بچانے والی غذائی امداد مہنگی اور سست ہو گئی
۲۰۲۴ءمیں یورپ سے صومالیہ تک علاجی دودھ اور تیار شدہ غذائی خوراک (RUTF) کی ترسیل عموماً ۳۰؍ سے۳۵؍ دن میں مکمل ہو جاتی تھی، جو ۲۰۲۵ءمیں بحیرہ احمر میں سیکوریٹی خدشات کے باعث جہازوں کے افریقہ کے گرد چکر لگانے کی وجہ سے۴۰؍ سے۴۵؍ دن تک بڑھ گئی۔ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایران کی جانب سے خلیج کے داخلی راستے بند کرنے کے بعد، جہازوں کی کمی کے باعث یہ مدت۵۵؍ سے۶۵؍ دن تک پہنچ گئی، ایکشن اگینسٹ ہنگر (ACF) کے موغادیشو میں ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن کے سربراہ محمد عمر نے بتایا۔ صومالیہ میں اس وقت آئی پی سی گلوبل ہنگر مانیٹر کے مطابق۲۰؍ لاکھ سے زائد افراد’ایمرجنسی‘ مرحلے میں ہیں، جو قحط سے ایک درجہ پہلے کی حالت ہے۔ جنوری سے مارچ کے دوران اے سی ایف کے زیر حمایت مراکز میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ۳۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء میں عالمی فوجی اخراجات ۸۸ء۲؍ کھرب ڈالر، ایشیا کا خرچ سب سے زیادہ

دینائل جنرل اسپتال کے عملے، جہاں ۳۶۰؍ بچوں کا علاج ہو رہا ہے، نے۲۰؍ اپریل کو بتایا کہ ان کے پاس صرف ایک ہفتے کی سپلائی باقی ہے۔ ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر خفصہ علی حسن نے کہا:’’کچھ بچوں کی غذائی حالت پہلے ہی خراب ہو چکی ہے۔ ‘‘صومالیہ ان ۱۷؍غریب ممالک میں شامل نہیں تھا جنہیں اس سال اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امداد (OCHA) کی فنڈنگ میں حصہ دیا گیا، جبکہ امریکہ نے غیر ملکی امداد میں سب سے زیادہ کمی کی ہے۔ اوچا کے مطابق ۲۰۰؍سے زائد صحت مراکز بند ہو چکے ہیں اور موبائل ٹیمیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ دسمبر میں اوچا نے کہا تھا کہ۶۰؍ہزار ۵۰۰؍ سے زائد شدید غذائی قلت کے شکار بچے علاج سے محروم رہ گئے ہیں، اور اگر فنڈنگ میں کمی جاری رہی تو یہ تعداد ایک لاکھ ۵۰؍ ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو لبنان ناکامیوں کیلئے ’’قربانی کا بکرا‘‘ ڈھونڈ رہے ہیں: اسرائیلی میڈیا

ایران جنگ کے آغاز کے بعد صومالیہ میں ایندھن کی قیمتوں میں ۱۵۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئی آر سی کے عبدالقدیر نے کہا:’’صومالیہ ایران جنگ سے شدید متاثر ہوا ہے کیونکہ لوگ پہلے ہی گزشتہ خشک سالی کے اثرات سے نبرد آزما ہیں۔ ان جھٹکوں کو برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ ‘‘اوچا نے مکمل قحط سے بچنے کیلئے عالمی برادری سے۸۵۲؍ ملین ڈالر کی اپیل کی ہے۔ یہ رقم گزشتہ سال مانگی گئی۴۲ء۱؍ ارب ڈالر سے کم ہے، لیکن اس کے باوجود اب تک صرف۱۴؍ فیصد ہی موصول ہو سکی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK