کارپوریٹروںنے ہاؤس سے واک آؤٹ کیا، ہاؤس کے باہر ہی متوازی اجلاس چلا کر برسر اقتدار پارٹیوں کی مذمت کی، بی ایم سی کی پالیسیوں پر نظر ثانی کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 3:47 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
کارپوریٹروںنے ہاؤس سے واک آؤٹ کیا، ہاؤس کے باہر ہی متوازی اجلاس چلا کر برسر اقتدار پارٹیوں کی مذمت کی، بی ایم سی کی پالیسیوں پر نظر ثانی کا مطالبہ۔
منگل کو برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن( بی ایم سی )کے ایوان میں ممبئی کے عوام کی ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی اراضی اور جائیدادوں متعلق سے کسی بحث کے بغیر ۱۰؍ تجاویز منظور کردی گئیں۔ ان تجاویز میں سنچری مل (لوور پریل) کی زمین بھی شامل تھی۔میئر کے اس من مانی والے رویہ سے اپوزیشن کے کارپوریٹر شدید برہم ہوئے اور ہنگامہ کیا اور ان تجاویز پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا لیکن میئر ریتو تاؤڑے نے اپوزیشن کے ہنگامے کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں اظہار خیال کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا بلکہ یکے بعد دیگرے یہ سبھی ۱۰؍ تجاویز کو منظور کر لیا جس برہم اپوزیشن(شیو سینا( ادھو) ، کانگریس، این سی پی (شرد) ، ایم آئی ایم اورسماجوادی پارٹی کے کا کارپوریٹر نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور احتجاج کے طو رپر ہاؤس کے باہر ہی متوازی ہاؤس چلایا جس میں ممبئی کے شہریوں کی سہولت اور بلدیہ کی ملکیت کی قیمتی زمینوں کو کوڑیوں کے داموں دینے کی تجاویز پر دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کیا۔ متوازی ہاؤس میں اپوزیشن لیڈر کشوری پیڈنیکر کو میئر بنایاگیا تھا جن کے سامنے بی ایم سی میں برسر اقتدار پارٹیوں کی عوام مخالف پالیسی کو اجاگر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:مخالف سمت گاڑی چلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی
بی ایم سی میں گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے الزام لگایا کہ ’’امپروومنٹ کمیٹی کی ۲۸؍جولائی اور۱۴؍ اگست کی میٹنگوں میں منظور کی گئی۱۰؍ تجاویز کو بلدیہ ایوان میں بغیر کسی بحث کے منظوری دے دی گئی۔
کانگریس پارٹی کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تقریباً۲۰ ؍ ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کی میونسپل اراضی کو نجی بلڈرز اور ڈویلپرز کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو ممبئی کے شہریوں کے اثاثوں کی کھلی لوٹ مار ہے۔
اشرف اعظمی کے مطابق زمینوں کی منتقلی، لیز پر دینے، ریزرویشن کی تبدیلی اور ری ڈیولپمنٹ کیلئے پلاٹس دینے جیسے حساس فیصلے ایوان میں بغیر کسی بحث کے منظور کروانا جمہوری عمل کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھئے:وزیر اعظم کی تقریب سے ایک روز قبل مسلح شخص جعلی کارڈ دکھا کر جیو مال میں داخل
کارپوریٹر مہر محسن حیدر نے الزام لگایا کہ بی ایم سی کی زمین پر جاری ۷؍ ہلس اسپتال میں بی ایم سی کے مریضوں سے علاج کے لئے محض ۱۰؍ روپے لئے جاتےتھے اب ۲۹۰؍روپے لئے جارہے ہیں۔ فیس میں یہ اضافہ بی ایم سی کے ایوان کی منظوری کےبغیر کیاگیا ہے ۔اسپتال میں غریبوں کیلئے بیڈ اور آئی سی یو بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ایم سی کو شہریوں کی صحت کو ترجیح دینا چاہئے
اپوزیشن لیڈر کشوری پیڈنیکر نےکہاکہ بی ایم سی کی زمین کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، یہ ممبئی کے عوام کا اثاثہ ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان فیصلوں سے کارپوریشن کے خزانے کو فائدہ ہو رہا ہے یا نجی ڈیولپرز کی جیبیں بھری جا رہی ہیں؟