Updated: September 23, 2026, 10:23 AM IST
| London
وسطی لندن کے دیگر مقامات، بشمول ٹریفالگر اسکوائر اور کووینٹ گارڈن میں واٹرسٹونز کی برانچز اور چیرنگ کراس میں فلیگ شپ فوئلز اسٹور پر بھی صبح کے وقت گاہکوں کی آمدورفت سست رہی۔ ہارڈ بیک کتاب کی یہ رعایتی قیمت اسٹورز اور واٹرسٹونز کی ویب سائٹ دونوں پر یکساں طور پر نافذ ہے۔ ۱۹۹۷ء میں ڈیانا کی موت کے تقریباً تین دہائیوں بعد اس کتاب کی صورت میں یہ پہلا موقع ہے کہ ۶۲ سالہ اسپینسر نے شہزادی ڈائنا کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ بکنگھم پیلس اور اسپینسر خاندان کے درمیان اس کے صفحات میں کئے گئے دعوؤں پر عوامی تنازع کے دوران منظرِ عام پر آئی ہے۔
شہزادی ڈائنا اور ارل اسپینسر۔ تصویر: ایکس
منگل کے روز برطانوی شاہی خاندان کی شہزادی ڈائنا، پرنسس آف ویلز، کے بھائی ارل اسپینسر کی سوانح حیات ”سوان سونگ: ڈائنا، مائی سسٹر“ (Swan Song: Diana, My Sister) کی فروخت کا آغاز ہوگیا ہے۔ برطانوی روزنامے ڈیلی میل میں کتاب کے چند اقتباسات شائع ہونے کے بعد تنازع سے گھر جانے والی اس کتاب کی قیمت اشاعت کے پہلے ہی دن نصف کردی گئی ہے۔ بڑے ریٹیلرز پر اب یہ کتاب ۲۸ پاؤنڈ کے بجائے ۱۴ پاؤنڈ میں دستیاب ہے۔ ۲۲ ستمبر کو پہلی بار فروخت کیلئے پیش کی گئی اس کتاب کو یورپ کے سب سے بڑے بک اسٹور، واٹرسٹونز پکاڈیلی سمیت مختلف اسٹورز پر سجایا گیا۔ اس کے ساتھ اسپینسر کا ایک اقتباس بھی آویزاں تھا جس میں ڈائنا کے ساتھ پروان چڑھنے کی یادیں بیان کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: سوان سونگ: ڈائنا، مائی سسٹر؛ عالمی سطح پر ریلیز، پری آرڈر میں امیزون پر نمبر وَن
رپورٹس کے مطابق، کتاب کو خریداروں کی جانب سے غیرمعمولی توجہ نہیں ملی جس کی توجہ کی جا رہی تھی۔ ابتدائی خریداروں کی معمولی تعداد میں اٹلانٹا سے لندن آنے والی ۶۹ سالہ ریٹائرڈ فارماسسٹ میری شیبل بھی شامل تھیں۔ صبح ۹ بجے کے فوراً بعد پریس ایسوسی ایشن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے ڈائنا کی کہانی سے متاثر رہی ہیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ ان کی شادی بھی اسی سال ہوئی تھی جس سال ڈائنا اور چارلس کی ہوئی تھی، اس اتفاق نے انہیں اس کہانی سے ایک ذاتی تعلق کا احساس دلایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کی مشترکہ پرورش اور خاندانی زندگی پر اسپینسر کا نقطہ نظر پڑھنا چاہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شہزادی ڈائنا کی آخری رسومات سے متعلق دعویٰ تنازع کا مرکز بن گیا
کتاب کے پہلے سے شائع شدہ اقتباسات سے متعلق تنازع کے بارے میں پوچھے جانے پر، شیبل نے کہا کہ وہ اس بات پر غیر یقینی کا شکار ہیں کہ ان دعوؤں کو کس نظر سے دیکھیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ مواد سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے پوری کتاب پڑھنے کو ترجیح دیں گی کہ اسپینسر اصل میں کیا بیان کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دن کے پچھلے حصے میں اپنے ہوٹل واپس جا کر اس کا مطالعہ شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: شہزادی ڈائنا کے بھائی ارل اسپینسر کی کتاب میں کنگ چارلس سے متعلق سنسنی خیز دعوے
وسطی لندن کے دیگر مقامات، بشمول ٹریفالگر اسکوائر اور کووینٹ گارڈن میں واٹرسٹونز کی برانچز اور چیرنگ کراس میں فلیگ شپ فوئلز اسٹور پر بھی صبح کے وقت گاہکوں کی آمدورفت سست رہی۔ ہارڈ بیک کتاب کی یہ رعایتی قیمت اسٹورز اور واٹرسٹونز کی ویب سائٹ دونوں پر یکساں طور پر نافذ ہے۔ ۱۹۹۷ء میں ڈیانا کی موت کے تقریباً تین دہائیوں بعد اس کتاب کی صورت میں یہ پہلا موقع ہے کہ ۶۲ سالہ اسپینسر نے اپنی بہن کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ بکنگھم پیلس اور اسپینسر خاندان کے درمیان اس کے صفحات میں کئے گئے دعوؤں پر عوامی تنازع کے دوران منظرِ عام پر آئی ہے۔