شہر اور مضافات کے ۳۵۰۰؍ عازمین کے فٹنس سرٹیفکیٹ کا مسئلہ حل کرنے کےلئے آج بدھ کے دن سے مہاراشٹر حج کمیٹی کی جانب سے حج کمیٹی کے عملہ کے ذریعے وہاٹس ایپ گروپ بناکر عازمین کی رہنمائی کے لئے پہل کی جائے گی۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 1:38 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
شہر اور مضافات کے ۳۵۰۰؍ عازمین کے فٹنس سرٹیفکیٹ کا مسئلہ حل کرنے کےلئے آج بدھ کے دن سے مہاراشٹر حج کمیٹی کی جانب سے حج کمیٹی کے عملہ کے ذریعے وہاٹس ایپ گروپ بناکر عازمین کی رہنمائی کے لئے پہل کی جائے گی۔
شہر اور مضافات کے ۳۵۰۰؍ عازمین کے فٹنس سرٹیفکیٹ کا مسئلہ حل کرنے کےلئے آج بدھ کے دن سے مہاراشٹر حج کمیٹی کی جانب سے حج کمیٹی کے عملہ کے ذریعے وہاٹس ایپ گروپ بناکر عازمین کی رہنمائی کے لئے پہل کی جائے گی۔ اس کے لئے شہر اور مضافات میں ۲۳؍ اسپتالوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
عازمین کے وہاٹس ایپ گروپ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی کے مجاز ملازمین کے ذریعے بنائے جائیں گے۔ وہاٹس ایپ گروپ میں عازمین ِحج کو یہ بتایا جائے گا کہ انہیں کس اسپتال میں، کس دن اور کس وقت حاضر ہونا ہے ؟ عازمین کو طبی معائنے سے پہلے درج ذیل ٹیسٹ کرواکررپورٹس ساتھ لانی ہوگی، اس کی بنیاد پر اسپتال کی جانب سےان کوفٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئےـ ۶۰؍ سال پرانے قبرستان کا مطالبہ منظور کروانے کا عہد
ریاستی حج کمیٹی کی سیکشن آفیسر خدیجہ نائیکواڑے سے نمائندۂ انقلا ب کے یہ پوچھنے پر کہ کتنے عازمین ایک دن میں ایک اسپتال میں بلائے جائیں گے کیونکہ وقت کم ہے اور تعداد زیادہ تو انہوںنے بتایاکہ ’’ اگر ۲۲؍ یا ۲۳؍ اسپتالوں میں سے ایک دن میں ایک اسپتال میں۲۰؍ تا ۲۵؍ عازمین کوبلایا جاتا ہے تو ایک دن میں۵۰۰؍ سے زیادہ عازمین کو سرٹیفکیٹ جاری کئے جاسکیں گے۔ اس طرح ۳۰؍ ستمبریا ایک دو دن آگے تک تمام عازمین کو سرٹیفکیٹ جاری کردیئے جائیں گے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی : یارن کی قیمتوں میں۶۰؍ سے۷۰؍ فیصد اضافہ، پاور لوم صنعت بحران کی زد میں
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’تمام عازمین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ حج کمیٹی کی طرف سے دیئے جانے والے شیڈول کے مطابق مقررہ اسپتال میں وقت پر حاضر ہوں اور مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی کے ذریعے میڈیکل ٹیم کے ساتھ تعاون کریں تاکہ بآسانی یہ مرحلہ مکمل کیا جاسکے۔ اگرکسی عازم کومزید معلومات کرنی ہوگی تووہ حج کمیٹی سے بھی رابطہ قائم کرسکتا ہے۔‘‘
عازمین کو کیا کیا جانچ کرانی ہوگی ؟
(۱) سی بی سی (۲) فاسٹنگ بلڈ شوگر(۳)کے ایف ٹی (گردے کے فنکشن ٹیسٹ) (۴) ایل ایف ٹی ( جگر کے فنکشن ٹیسٹ) (۵) ایکس رے (۶) ای سی جی (الیکٹرو کارڈیوگراماس) کے علاوہ موجودہ ادویات، متعلقہ نسخے اور دستیاب پرانی میڈیکل رپورٹس بھی ساتھ لائی جائیں۔