اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھانے کے اقدامات کرنےکے بجائے ۲۰؍ سے کم طلبہ ہونے کا جواز پیش کرکے انہیں بند کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 11:59 AM IST | Ali Imran | Nagpur
اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھانے کے اقدامات کرنےکے بجائے ۲۰؍ سے کم طلبہ ہونے کا جواز پیش کرکے انہیں بند کیا جا رہا ہے۔
ریاستی حکومت نے طلبہ کو مفت اور کم خرچ پر تعلیم فراہم کرنے کیلئے سرکاری اور امدادی اسکول شروع کئے ہیں لیکن دھیرے دھیرے یہ امدادی اسکول بند کئے جا رہے ہیں۔ محکمہ ثانوی تعلیم نے ناگپور ضلع میں ۵۹؍ امداد یافتہ اسکولوں کی اجازت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبہ کے کم اندراج کی وجہ سے ان کی اجازت منسوخ کر دی گئی۔ اس سے محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:درسی کتابوں کے پینل میں آر ایس ایس کارکن
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان میں سے ۳۵؍ اسکول ناگپور شہر میں ہیں اور ۲۴ ؍اسکول دیہی علاقوںمیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق ۲۰؍سے کم طلبہ والے اسکولوں کو بند کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے جس کے بعد متعلقہ اسکولوں کے طلبہ کو دوسرے اسکولوں میں ایڈجسٹ کر دیا گیا۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو بھی ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔ تاہم یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا طلبہ کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اسکول کو بند کرنا اس مسئلے کو حل کرنے کا طریقہ ہے؟ اسکولوں کو بچانے کے بجائے بند کرنے کی جلدی کیوں؟
جو نجی ادارے گرانٹ کے حصول کیلئے برسوں سے حکومت کے در پر چکر لگاتے رہے ایسے ۵۹ ؍اسکولوں کا ایک ہی سال میں بند ہونا کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اگر طلبہ کی تعداد کم ہوئی ہے تو اسے بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے۔ تاہم اگر طلبہ کی تعداد کم ہوتے ہی اسکول بند کرنے کا آسان طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے تو کیا یہ محکمہ تعلیم کی ناکامی نہیں؟ ایسے کئی سوالات عوامی سطح پر اٹھ رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بہت سے اسکول طلبہ کو گاؤں کے آس پاس یا گاؤں میں ہی تعلیمی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ اگر ایسے اسکول بند کر دیے گئے اور طلبہ کو دور دراز کے اسکولوں میں بھیجا گیا تو سب سے زیادہ نقصان غریب اور معاشی طور پر کمزور گھرانوں کے طلبہ کو ہوگا۔ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ بہت سی لڑکیوں کی تعلیم ادھوری رہ جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:مذہب تبدیل کرنے سے ذات نہیں بدل جاتی
یاد رہے کہ مہاراشٹر حکومت نے ایسے اسکولوں کے اجازت نامے منسوخ کرنےکا فیصلہ کیا ہے جہاں طلبہ کی تعداد ۲۰؍ سے کم ہو۔ اس فیصلے کی وجہ سے دیہی علاقوں میںکئی اسکولوں کے بند ہونے کا خطرہ ہے۔ کئی دیہات ایسے ہیں جہاں آبادی بے حدکم ہے اور طلبہ کی تعداد انگلیوں پر گننے جتنی ہے۔ ایسی صورت میں سوال یہ ہے کہ کیا ان طلبہ تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے؟ حکومت کے اس فیصلے پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔