Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارے میں ۵۰۰؍ سے زائد غیرقانونی بستیاں: فلسطینی رپورٹ

Updated: March 30, 2026, 8:57 PM IST | West Bank

فلسطینی حکام کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل نے ۵۰۰؍ سے زائد غیر قانونی بستیاں اور چوکیاں قائم کر رکھی ہیں، جس سے ۴۲؍ فیصد سے زیادہ علاقہ متاثر ہو چکا ہے۔ لینڈ ڈے کے موقع پر جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد آبادکاری میں نمایاں تیزی آئی ہے، جبکہ ہزاروں فلسطینی عمارتوں کو مسمار کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطینی ادارے کولونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن نے ۳۰؍ مارچ کو لینڈ ڈے کے موقع پر ایک جامع رپورٹ جاری کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیل نے ۵۴۲؍ غیر قانونی بستیاں اور چوکیاں قائم کر رکھی ہیں، جن میں ۱۹۲؍ بستیاں اور ۳۵۰؍ چوکیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان بستیوں نے علاقے کے ۴۲؍ فیصد سے زیادہ حصے کو براہ راست متاثر کیا ہے، جو خطے کی جغرافیائی اور آبادیاتی ساخت کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر آبادکاری کے مسئلے پر بحث دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے اور کئی ممالک اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یروشلم چرچ رسائی تنازع: عالمی دباؤ پر اسرائیل کا یوٹرن

اعداد و شمار: تیزی سے بڑھتی آبادکاری
رپورٹ کے مطابق ۷؍ لاکھ ۸۰؍ ہزار سے زائد اسرائیلی شہری مغربی کنارے میں آباد ہیں، جبکہ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد آبادکاری میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں ۱۶۵؍ سے زیادہ نئی چوکیاں قائم کی گئیں، جن میں صرف ۲۰۲۵ء میں ۵۹؍ شامل ہیں۔ اسی دوران اسرائیلی منصوبہ بندی کے اداروں نے ۳۹۰؍ نئے ساختی منصوبوں کا جائزہ لیا، جبکہ ۵۴؍ نئے مقامات پر بڑی آبادکاری کے فیصلے کیے گئے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبادکاری ایک منظم پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔

زمین اور جغرافیہ: تقسیم کا بڑھتا ہوا عمل
رپورٹ کے مطابق اوسلو معاہدے کے تحت بیان کردہ ایریا سی، جو مغربی کنارے کے تقریباً ۶۱؍ فیصد حصے پر مشتمل ہے، مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے، اور اس میں سے ۷۰؍ فیصد سے زیادہ زمین مختلف آبادکاری منصوبوں کے لیے مختص کی جا چکی ہے۔ مزید یہ کہ تقریباً ۱۵؍ فیصد زمین کو ’’ریاستی زمین‘‘ قرار دیا گیا ہے، جبکہ ۱۸؍  فیصد کو فوجی تربیتی علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔ آبادکاری سے متعلق تعمیرات اور انفراسٹرکچر تقریباً ۴ء۱۲؍  فیصد علاقے پر محیط ہیں، جبکہ سڑکوں کا نیٹ ورک مزید ۳؍  فیصد زمین کو متاثر کرتا ہے، جس سے فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی تقسیم مزید گہری ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران میں اہداف تباہ، تیل اور یورینیم پر کنٹرول منصوبہ

مسماری اور نقل مکانی: انسانی بحران میں اضافہ
اسرائیلی حکام نے ۲۰۲۳ء کے بعد سے ۱۸۰۰؍ سے زائد فلسطینی عمارتوں کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کیے، جن میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۹۹۱؍ شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے تشدد اور آبادکاروں کے حملوں نے کم از کم ۷۹؍ بدو کمیونٹیوں کو جزوی یا مکمل طور پر بے گھر کر دیا، جس سے ۸۴۰؍  سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ مزید برآں، علاقے میں ۹۲۵؍ مستقل اور عارضی چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جو نقل و حرکت کو محدود کرتی ہیں اور اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہیں۔

جانی نقصان اور جاری کشیدگی
۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں ۱۱۳۸؍ فلسطینی جاں بحق، تقریباً ۱۱۷۰۰؍  زخمی اور ۲۲؍ ہزار کے قریب گرفتار کیے گئے ہیں، جو خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

پس منظر: تاریخی تنازع اور موجودہ اثرات
یہ تنازع ۱۹۴۸ء سے جاری ہے، جب اسرائیل کے قیام کے دوران لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے زمین، خودمختاری اور ریاستی حیثیت کے مسائل حل نہیں ہو سکے، جبکہ آبادکاری کا عمل مسلسل تنازع کا مرکز رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری، بشمول اقوام متحدہ، بارہا ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے، لیکن زمینی صورتحال میں تبدیلی محدود رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حزب اللہ کے ۱۱۰۰؍ حملے، یمن سے ڈرون، کویت پر حملہ، جنگ پورے خطے میں پھیل گئی

وسیع اثرات: دو ریاستی حل خطرے میں
تجزیہ کاروں کے مطابق آبادکاری کی رفتار اور جغرافیائی تقسیم دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ مسلسل زمین کی تقسیم اور بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی ایک ایسے مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ایک مربوط فلسطینی ریاست کا قیام مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK