کرناٹک کے ایک چھوٹے گاؤں سے تعلق رکھنے والے انکے گوڈا کو ۲۶؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو پدم شری سے نوازا گیا ہے۔ انکے گوڈا نے اپنے گاؤں میں ملک کی سب سے بڑی مفت لائبریری قائم کی ہے۔
EPAPER
Updated: January 31, 2026, 10:03 PM IST | Bengaluru
کرناٹک کے ایک چھوٹے گاؤں سے تعلق رکھنے والے انکے گوڈا کو ۲۶؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو پدم شری سے نوازا گیا ہے۔ انکے گوڈا نے اپنے گاؤں میں ملک کی سب سے بڑی مفت لائبریری قائم کی ہے۔
کرناٹک کے ایک دور افتادہ گاؤں میں، جہاں دور دور تک کھیت پھیلے ہوئے ہیں، وہاں کتابوں کے ساتھ ایک آدمی کے جنون نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے بتایا جانا ضروری ہے۔ ۷۵؍ سال کے ایک سابق بس کنڈکٹر انکے گوڈا، ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کے ۱۳۱؍ پدم اعزاز یافتہ لوگوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ انکے گوڈا کو ۲۶؍ جنوری ۲۰۲۵ء کو پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز کسی خوبی، بہادری یا طاقت کیلئے نہیں، بلکہ اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی کو کہانیوں کی پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کیلئے دیا گیا ہے۔ انہوں نے مانڈیا ضلع میں تعلقہ پانڈو پورہ کے گاؤں ہرل ہلی میں کتاب گھر ’’پستکا مانے‘‘ کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ کتب خانہ ۲۰؍ لاکھ کتابوں کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے کتب خانوں کی فہرست میں شامل ہے۔ یہاں کی الماریاں ایک ایسے آدمی کی کہانی بیان کرتی ہیں، جس نے اپنے تمام اثاثے سے زیادہ کتابوں کو ترجیح دی ہے۔
Mandya, Karnataka: Padma Shri Awardee (2026) Anke Gowda says, “...This recognition comes after a lifetime of hard work and sacrifice. I have dedicated my life, money, and property to this cause so that it can benefit generations to come. My library, free for everyone, houses… pic.twitter.com/DZNo7hSCvH
— IANS (@ians_india) January 25, 2026
انکے گوڈا کی پیدائش چناکرلی میں ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی بسوں میں ٹکٹیں کاٹتے ہوئے گزار دی۔ دن میں وہ بسوں میں ٹکٹ کاٹتے ہوئے نظر آتے وہیں، شام کو وہ بی اے کی تیاری کرتے تھے، بعد ازاں انہوں نے کنڑ میں ایم اے بھی کیا۔ انہوں نے کچھ عرصہ ایک شکر کی فیکٹری میں کام کیا اور اس کی تنخواہ کے ساتھ اپنے میسور کی زمین بیچ کر جمع کی ہوئی رقم اور ریٹائرمنٹ کے فنڈز کو کتابیں خریدنے اور اپنا کتب خانہ بنانے میں استعمال کیا۔ ۲۰؍ سال کی عمر سے انہوں نے شروعات کی، اس وقت سے ان کا مجموعہ بڑھتا رہا، جس میں ۲۰؍ مختلف زبانوں پر مشتمل ادب، سائنس، افسانوی ادب اور فلسفہ کی کتابیں، ایک ہزار ۸۳۲؍ نایاب مخطوطے، ۵؍ ہزار لغات، ۲؍ ہزار ۵۰۰؍ گاندھی پر، دیگر ۲؍ ہزار ۵۰۰؍ بھگود گیتا اور بائبل سمیت ۳۵؍ ہزار بین الاقوامی رسالے شامل ہیں۔ اور کنڑ ادب کے علاوہ دنیا بھر کے ادب سے متعلق ۵؍ لاکھ کتابیں ہیں، جو طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لئے مفت ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حادثے کے وقت اجیت پوار کی والدہ ٹی وی دیکھ رہی تھیں، اسٹاف نے کیبل ٹی وی بند کردیا
گوڈا نے کبھی بھی علم کو اپنے تئیں محدود نہیں رکھا بلکہ اسےلوگوں تک پہنچایا، لوگوں میں مطالعے کا جوش جگایا۔ ۲۰۱۶ء میں گوڈا کا نام ان کے حیران کن کتابی مجموعے کی وجہ سے لمکا بک آف ریکارڈز میں بھی شامل کیا گیاتھا۔ انہوں اے این آئی کو دیے گئے ایک بیان مین کہا کہ ’’میں بہت خوش ہوں۔ میں نے ان سب چیزوں کی امید نہیں کی تھی۔ میرا مقصد صرف اتنا تھا کہ تمام بچوں تک کتابیں پہنچے اور یہ کہ وہ ان کتابوں سے خوشی حاصل کریں۔ میں گزشتہ پچاس برسوں سے یہ کام کررہا ہوں، سادہ زندگی گزارتا ہوں اور کسی انعام کا خواہاں نہیں ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ حکومت نے اس کوشش کو سراہا۔‘‘ یوم جمہوریہ کے موقع پر شام کے وقت وزارت داخلہ نے ۲۰۲۶ء کے پدم اعزاز یافتہ لوگوں کی فہرست جاری کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ شہری اعزازات ملک بھر میں مختلف شعبوں جیسے فنون لطیفہ، ادب، سماجی خدمات، طب، تعلیم اور عوامی خدمات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شہریوں کی سراہنا کیلئے دیے جاتے ہیں۔