Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان میں ٹیلی ویژن پر آشا بھوسلے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پر پابندی عائد

Updated: April 14, 2026, 10:02 AM IST | Mumbai

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے مبینہ طور پر آشا بھوسلے کے لیے نشر کیے جانے والے کسی بھی خراجِ عقیدت یا خصوصی پروگرام پر پابندی عائد کر دی ہے، جس نے توجہ حاصل کی اور اس فیصلے پر بحث چھیڑ دی ہے۔

Asha Bhosle.Photo:PTI
آشا بھوسلے۔ تصویر:پی ٹی آئی

یہ ایک دیرینہ خیال رہا ہے کہ فن سرحدوں سے ماورا ہوتا ہے، لیکن اس بار ایسا لگتا ہے کہ اسے ایک دیوار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک حیران کن پیش رفت میں، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے مبینہ طور پر آشا بھوسلے کے لیے نشر کیے جانے والے کسی بھی خراجِ عقیدت یا خصوصی پروگرام پر پابندی عائد کر دی ہے، جس نے توجہ حاصل کی اور اس فیصلے پر بحث چھیڑ دی ہے۔
پاکستان کے سینئر صحافی اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کے صدر اظہر عباس نے ایکس (ٹویٹر) پر ایک طویل نوٹ لکھتے ہوئے اعلان کیا ’’پیمرا نے جیو نیوز کو آشا بھوسلے جیسی برصغیر کی لیجنڈری گلوکارہ سے متعلق مواد نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ ہمیشہ یہ روایت رہی ہے کہ جب ہم کسی بڑے فنکار پر رپورٹ کرتے ہیں تو ان کے کام کو دوبارہ یاد کیا جاتا اور منایا جاتا ہے۔ درحقیقت، آشا بھوسلے کے قد و قامت کے فنکار کے لیے ہمیں ان کے لازوال اور یادگار گانوں کو اس سے بھی زیادہ شیئر کرنا چاہیے تھا جتنا ہم نے کیا۔ مگر پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر پیمرا نے اس کو محدود کرنے کا انتخاب کیا ہے۔‘‘


انہوں نے مزید کہا ’’فن، علم کی طرح، انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور اسے سرحدوں میں قید نہیں ہونا چاہیے۔ خود آشا بھوسلے پاکستان کی لیجنڈری گلوکارہ نور جہاں کی مداح تھیں، جنہیں وہ پیار سے اپنی’’بڑی بہن‘‘کہتی تھیں۔ انہوں نے نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کیا اور ناصر کاظمی جیسے عظیم اردو شعرا کی شاعری کو آواز دی۔ جنگ اور تنازع کے اوقات میں فن اور فنکاروں کو قربانی کا بکرا نہیں بننا چاہیے۔ دانشور، موسیقار اور تخلیق کار اکثر وہ آوازیں ہوتے ہیں جو نفرت اور تقسیم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اور لوگوں کو قریب لاتے ہیں۔‘‘
اس فیصلے نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے اور صارفین اس پر تنقید کر رہے ہیں۔ایک صارف نے تبصرہ کیا’’آپ کو اس حرکت پر شرم آنی چاہیے۔ وہ برصغیر کی خوبصورت ترین آوازوں میں سے ایک تھیں۔ وہ ہر موسیقی کے شوقین کے دل میں زندہ ہیں۔ انہیں پاکستان میں بھی اتنی ہی محبت ملتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:کس اداکارہ کے کہنے پرمیتھیلاکو اکشے کمار کی فلم’’بھوت بنگلہ ‘‘ میں کام ملا؟


ایک اور صارف نے کہا’’پیمرا پر شرم! اسے اپنے قواعد و ضوابط پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے! اگر پیمرا آشا بھوسلے جیسی عظیم شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش نہیں کر سکتا تو اسے اپنا دفتر بند کر دینا چاہیے اور میڈیا کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔‘‘ ایک اور صارف نے ردِعمل دیا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ لتا جی اور آشا جی کی موسیقی پاکستانی دلوں پر راج کرتی ہے جسے پیمرا اور پاکستان کی فوج کنٹرول نہیں کر سکتی، اس لیے وہ ایسے چھوٹے اقدامات کرتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام خود کو ہندوستان  سے مختلف سمجھیں ایک جیسا ڈی این اے اور ثقافت دو قومی نظریے کی حمایت نہیں کر سکتی!‘‘

یہ بھی پڑھئے:آبنائے ہرمز پرکسی بھی وقت ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ گیا


ایک اور صارف نے کہا’’کیا شرمناک بات ہے! کتنی افسوسناک۔ جب میڈم نور جہاں کا انتقال ہوا تھا تو لتا منگیشکر نے پی ٹی وی پر اظہارِ خیال کیا تھا۔ ہم کہاں جا رہے ہیں؟‘‘لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے ۱۲؍ اپریل کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ ان کی آخری رسومات کے دوران پولیس اہلکاروں نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK